اسوہء ِ حسنہ کی روشنی میں مشترکہ کاروبار اور فلاحِ معاشرہ
ہم وہ خوش قسمت امتی ہیں جن کی نسبت امین ِ تاجر حضورؐ سے ہے۔آپؐ جب بچپن میں اپنے غمگسار چچا حضرت ابو طالب رضی
ہم وہ خوش قسمت امتی ہیں جن کی نسبت امین ِ تاجر حضورؐ سے ہے۔آپؐ جب بچپن میں اپنے غمگسار چچا حضرت ابو طالب رضی
مَنِ اسْتَحَلَ بِدَرھمَ فَقَد ْاِستَحَلَ جس نے ایک درہم حلال کمایا اس نے اپنا رزق حلال کیا (راوی لبیبۃ انصاریؓ) He made his earnings
نِعْمَ العَونُ عَلیَ تَقْوَی اللهِہ، الْمالِ اللہ مال کمانے میں تقویٰ اختیار کرنے پر خاص مدد سے نوازتا ہے (راوی جابر ابنِ عبداللہ) Allah grants special
نَہیَ عَنْ بَیْعِِ ِِ وَّ شَرْطِِ رسول اللہ ؐ نے خریدو فروخت میں شرط لگانے سے منع فرمایا ( راوی انس بن مالکؓ)
اَلْمَغْبُونُ لا مَحْموُْ د.ُٗ وَلاَ ما جُورُٗ غبن کرنے والے تاجر کی اگلے جہاں پزیرائی ہو گی اور نہ ہی وہ اجر دیا جائے
مَنْ اَعْیَتْہُُ المَکَاسِبُ فعلیہِ بِتِجَارَۃِ الابنیاء جس پر کسب و معیشت تنگ ہو جائے اس کو چاہیے کہ انبیاءِ اکرامؑ کا پیشہ تجارت
مَن تَعَذَ َرَتْ عَلَیْہِ التِّجارَہ جو مفلوک الحال ہو اس پر تجارت لازم ہے (راوی شرجیل الجمعفیؓ) Business is compulsory for him, who is
مَنْ شَارَک َ َ ذِمّیّاََ فَتَوَ اضَعَ لَہُ جو مسلمان زمی (غیر مسلم) کے ساتھ شراکتِ کاروبار کرے تو اس کا زیادہ خیال رکھے
مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رَفْقَہٗ فِیْ مَعِیْشَۃ بندے کی فراست یہ ہے کہ وہ اقتصادی سرگرمیوں میں لوگوں کی رفاقت پائے (راوی عبداللہ بن عمرؓ)
یَا اِبن ِ عوفِِ اِنَّک َ مِنَ الاغنِیا ء اے ابن عوف آپ تجارت کی وجہ سے غنی ہو گئے (راوی عبدالرحمان ابنِ