غافل منشیں نہ وقت بازی ست
وقتِ ہنر است و کار سازی ست
الکاسب حبیب اللہ ( محنت کش اللہ کا دوست ہے) کسب گر اور ہنر مند معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن ہمارا معاشرہ سرکاری ملازمتوں ، پنشن اور سروس مراعات کی کشش میں مبتلا ہو کر محنت کی افادیت اور برکات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ہمارے نبی ﷺ نے کسب کی ترغیب دی ہے۔حضورؐ کا فرمان ہے “اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو کسب کے زریعے رزقِ حلال کماتا ہے”
امام غزالی ؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “احیاءا لعلوم” میں کسب کی اہمیت و افادیت اور معاشرے پر اس کے دور رس اثرات کا بھر پور جائزہ لیا ہے۔اٰلِ سلجوق نے امام غزالیؒ کا فلسفہ ءِ کسب اپنے دور ِ حکومت میں نافذ کیا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ دورِ خلفاءِ راشدین ؓ کے بعد سب سے زیادہ خوشحال زمانہ سلاجقہ کا تھا۔لیکن آج ہم کسب سے دور ہیں اور ملازمت کے متوالے ہیں حالانکہ کسب معاشرے کی اقتصادی تشکیل ہے۔لہذا الکاسب کے تصور کو تحریکی بنیادوں پر زندہ کرنے کے لیے فورم نے الکاسب سنٹر آف ایکسیلنس
(Al-Kasib Centre of Excellence)
قائم کیا ہے جو خصوصی طور پر پروفیشنل، ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن اور ٹریننگ پر توجہ دے رہا ہے
