زندگی جہد اس و استحقاق نیست
جُز بَعلمِ اَنْفس و آفاق نیست
نبی کریم ﷺ نے صالح معاشرہ قائم کرنے کے لیے تعلیم و تربیت کو بطور ِ خاص ملحوظِ خاطر رکھا۔دارِ ارقم کی اوّلین درسگاہ ہو، دعوت ذوالعشیرہ کی محفلیں ہوں، کاتبین ِ وحی کا چبوترہ ہو یا اصحابِ صفہ کی خانقاہ۔ہر جگہ تعلیم و تربیت کا سلسلہ اور تذکرہ کا عمل جاری و ساری رہا۔خواتین کے لیے رسول اللہ ؐ نے مسجد نبوی میں بدھ کا دن مقرر کر رکھا تھا اس دن کے لیے تربیتی نشست کا اہتمام ہوتا تھا،چنانچہ روح فورم سیمینارز اور ورکشاپس کے ذریعے عصرِ حاضر کے مسائل کو اسوہءِ حسنہ کی تعلیمات کی روشنی میں ایک سلسلہ وار تربیتی نظام کے تحت حل کرنا چاہتا ہے تا کہ معاشرتی، اقتصادی اور اخلاقی اصلاح کا ماحول پیدا کرتے ہوئے معاشرے کو مقصدِ حیات اور ذرائع ِ حیات کی درست سمت کی طرف گامزن کیا جا سکے
مکتِ روح کے پیشِ نظر مطالعاتی رجحان پیدا کرنا بہت ضروری ہے تا کہ نوجوان نسل متاعِ گم گشتہ اور لازوال اقدار کی طرف لوٹ آئے۔اس کے لیے جہاں تک ممکن ہو دارالمطالعات کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔فورم نے اپنے مرکزی دفتر میں اس کی بنیاد ڈال دی ہے۔انشا اللہ اس کی توسیع جاری رہےگی۔فورم قرآن و حدیث کو امام غزالیؒ، ابنِ عربیؒ، رومیؒ اور اقبال ؒ کے رشحات ِ فکر کی روشنی میں عام کرنا چاہتا ہے تا کہ امت میں بصیرت اور حکمت لوٹ آئے، اتفاق و اتحاد پیدا ہو، فساد اور انتہا پسندی اور تشدد کے دروازے بند ہوں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے راستے ہموار ہوں۔اس مقصد کے لیے طلبا، اساتذہ، والدین اور کاروباری حضرات پر خصوصی توجہ علامہ اقبالؒ کی پر تاثیر نظم “پیرو مرید” کی روشنی میں دی جا رہی ہے
