مَنْ اَعْیَتْہُُ المَکَاسِبُ فعلیہِ بِتِجَارَۃِ الابنیاء
جس پر کسب و معیشت تنگ ہو جائے اس کو چاہیے کہ انبیاءِ اکرامؑ کا پیشہ تجارت اختیار کرے (راوی عبداللہ ابنِ عباسؓ)
He should join trade, who has limited source of income and earnings.
موجودہ دور میں ضروریات ِ زندگی اتنی بڑھ گئی ہیں کہ محدود آمدنی میں کاروبارِ زندگی چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔کم وسائل کی وجہ سے ہمارے ملک کے کئی گھرانے جدید سہولیات ، اچھی تعلیم اور بہترین طرز زندگی سے محروم ہیں۔تجارت انبیاءؑ کا پیشہ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس پیشے کو برکتوں سے نوازا ہے۔اسلام نے تجارت کی صورت میں ایسا راستہ دکھایا جس پر چل کر معاشرے کا ہر فرد معاشی سطح پر خوشحال ہو سکتا ہے ۔ جو لوگ ملازمت پیشہ ہیں مگر معاشی طور پر خوشحال نہیں ۔ روح فورم انھیں بھی تجارتی سرگرمیوں میں شمولیت کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے۔