اے زمیں فرسا، قدم تیرا فلک پیما بھی ہے

قرآنِ مجید میں ربِ کریم فرماتا ہے:-

اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ 0 لَـهُـمُ الْبُشْرٰى فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ(الیونس-63-64)

ترجمہ:جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے،ان کے لئے دنیا میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔

حکیم الامت، علامہ اقبالؒ نے دین ودنیا کی کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے فلک پیمائی کی ترغیب دی۔

ہم نشیں تاروں کا ہے تو رفعتِ پرواز سے

اے زمیں فرسا، قدم تیرا فلک پیما بھی ہے

1

(حکیم الامتؒ)

دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کائنات  ایسا   نصاب ہے جس کو پڑھ کر خالقِ کائنات کی پہچان ہوتی ہے۔اِس نصاب کو وہی لوگ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جن کے دلوں میں  فکر و تدبر کی قندیلیں روشن  ہیں۔ ان روشن قندیلوں کی برکتیں سمیٹنے کے لیے روشن ضمیر اور روشن دل افرادِ ملت کو زندگی کے ہر شعبے میں نمائندگی حاصل ہونی چاہیے تا کہ وہ قوم کی تعمیرِ نو کر سکیں۔ والدین ،اساتذہ  اور تمام قائدین کا یہ فرضِ اولیں   ہے کہ وہ نئی نسل کی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کریں ۔جن شاہین بچوں کے بال و پر کی دعا مصورِ پاکستان نے کی تھی، اُن شاہینوں کو علم و عمل میں یکتا کریں تا کہ وہ    قائدین بن کر اس ملک اور ہر ادارےکے  لیے رہبرِ ترقی و کمال بن جائیں۔

 ایسے رہنما ؤں کو آبروئے ملت گروپ(ایمبلم اسکول سٹم) میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے جو سماجی و معاشی تنزلی کا ازالہ کر کے ایک مستحکم نظام رائج کر نےکے خواہشمند ہیں  اور فکری بالیدگی کے ساتھ قوم کو سماجی، تعلیمی اور اقتصادی مسائل سے نکال کر دنیا و آخرت میں کامیابیوں کی منازل سے ہمکنار کر نے کا عزم رکھتے ہیں۔