ورودِ امن اور ردِ فساد
مَن حَمَلَ علینا السلاحَ، فلیسا مِنّاَ(متفق علیہ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
(جس نے ہم پر اسلحہ تانا، وہ ہم میں سے نہیں)
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو محفوظ و مامون رکھنا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی اس منشا ءکو ہم تکوینی طور پر بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔سورج کو زمین سے ایک خاص فاصلے پر رکھا تا کہ اُس کی تمازت و حرارت سے زمین پر بسنے والی تمام مخلوقات اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔کرہءِ ہوائی کو زمین کا غلاف بنایا تا کہ انسان حیات بخش فضا سے لطف اندوز ہو۔
درند و وحوش کو صحرا و بیاباں میں متشقّف کیا تا کہ انسان اُن کی چیرہ سامانی سے محفوظ رہے اور پر کیف زندگی گزار سکے۔حمل و اشتر و حمار کو مطیع کیا تا کہ انسان عقل سے ان کو تسخیر کر کے اُن کی توانائیوں اور مادی برکات سے استفادہ کر سکے۔یہ اور اس طرح کے اور بہت سے تکوینی انتظامات اُس کریم کے منشاءِ امن پر شاہد ِ حال ہیں۔
ربِ جلیل نے اپنے صفات و اسماء کے اعلان میں رحمٰن، عفو، حفیظ، رحیم و غیرھم کو مقدم رکھا جو امن و حفاظت و آشتی کے ضامن ہیں۔
دین ِ اللہ کا عنوان بھی اسلام ہے جس میں سلامتی کے بھر پور معانی ہیں۔رسول اللہ ؐ کو آج مستشرقین بھی پیغمبرِ امن کہتے کہتے نہیں تھکتے ہیں۔مرکزِ توحید کو بھی اللہ نے امن کا گہوارہ بتایا ہے
(وَمن دَخَلَہ کاَنَ اٰمنا)
المختصر یہ وہ تکوینی و تشریعی حقائق ہیں جن سے کسی کو مجالِ انکار ہے اور نہ ہی کوئی سرفِ نظر کر سکتا ہے۔
جس رکنِ حق کا نام جہاد ہے ۔وہ بالکل آخری حد میں ناگزیر حالت میں اور سخت شرائط و آداب کے ساتھ صرف مؤجوز ہے۔ربِ جلیل نے سورۃ الحج میں اُس ناگزیر حالت کا ذکر کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ(الج)
جن سے کافر لڑتے ہیں انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔
اگر اللہ بعض کے ذریعے بعض کو یعنی اصلاح کاروں کے ذریعے نابکاروں اور شر پسندوں کو دفع نہ کرتا تو نظامِ عالم میں بگاڑ پیدا ہو جاتا۔
اب انسان مسلسل ترقی کرتے کرتے ایک خاص شعوری دور میں داخل ہو چکا ہے۔انجمنِ اقوامِ عالم نے اپنے میثاق میں پر امن بقائے باہمی کا انسانی حق تسلیم کیا ہے ۔ہاں البتہ اُس کا فروغ اور نفوز ابھی تشنہءِ تکمیل ہے۔
سائنسی تجدد و افتعال و ارتقا نے ایجادات و تسخیرات کے میدان میں فتوحات کی انتہا کر دی ہے لیکن بقول حکیم الامت ؒ
جس نے سورج کی شُعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا!
زندگی کی شبِ تاریک اسوہءِ حسنہ کے احیاء سے سحر ہو گئ۔اسلام میں قدرِ عظمیٰ کے احیاء سے سحر ہو گی۔اسلام میں قدرِ عظمیٰ کا نام عدلِ اجتماعی ہے۔عدلِ اجتماعی انفرادی سطح سے آگے بڑھتے ہوئے معاشرتی وسعتوں تک درکار ہے۔فرد کی اصلاح، پھر اُس کا قائم ربط ملت ہونا، عدلِ اجتماعی کا ناقابلِ شکست و ریخت اساس و قواعد فراہم کرتا ہے اور انسان کا معاشرتی نظم استوار بہ صلح ہو کر پر امن بقائے باہمی کی منزل ِ مراد سے ہمکنار ہوتا ہے
تب یہ عشق نعرہ زد ہوتا ہے
ا سلم تسلم
آئیے! پر امن معاشرے کے قیام کے لیے تمام اختلافات دور کر کے نئ نسل کی بقاء کے لیے مثبت کردار ادا کریں اور انفرادی و اجتماعی خوشحالی کے لیے متحد ہو کر تعلیمی، فلاحی، سماجی اور اقتصادی منصوبوں کی بنیاد رکھیں

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد
فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005
ای میل:ruhforum@gmail.com