پاک چائنا اقتصادی راہداری (CPEC) دعوتِ فکر وعمل

جہاں اگرچہ دِگر گوُں ہے ، قُم باذن ِ اللہ

وہی زمیں ، وہی گردوں ہے، قُم باذن ِ اللہ

کیا نوائے انا الحق کو آتشیں جس نے

تری رگوں میں وہی خوں ہے، قُم باذن ِ اللہ

غمیں نہ ہو کہ پرا گندہ ہے شعور ترا

فرنگیوں کا یہ افسوں ہے، قُم باذن ِ اللہ

اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم مقصد کے لیے اس کائنات کو تخلیق فرمایا ہے۔انسان کو اس جہانِ رنگ و بو میں مرکزی حیثیت دی ہے اور خلیفہ فی الارض بنایا ہے۔جس طرح رب ِ جلیل نے حضور ؐ  کو تمام انبیاؑ و رُسُل کا سردار بنایا ہے اسی طرح آپؐ کی اُمت  کو دیگر اُمم کا قائد بنایا ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:-

(آپ اپنے پدرِ بزرگوار ابراہیمؑ کی ملت ہو جنہوں نے تمارا نام مسلمان رکھا تا کہ تم لوگوں کو خیر کی دعوت دینے والے بن جاؤ)۔الحج

رسول اللہ ؐ نے امت کے ہر فرد کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور ابلاغِ خیر کا فریضہ اس کے ذمےلگایا ہے۔حدیثِ مبارکہ ہے

 (تم میں سے جو موجود ہے وہ اس تک لازما پہنچا دے جو موجود نہیں ہے) 

قرن ِ اوّل کے مسلمانوں نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھا اور خلقِ خدا کی رہنمائی اور بہبود کے لیے کمر بستہ رہے لہذا اہلِ اسلام کا اقبال نصف النہار پر رہا۔انہوں نے ایک زمانے کو فیض یاب  کیا۔لوگوں کو شعورِ حیات دیا ۔دنیا کو ظلمت اور جہالت کی تاریکیوں سے نکالا۔گرتے ہوؤں کو سنبھالا۔مظلوموں کی داد رسی کی اور دنیا کو تعمیر کیا۔ان کی تابناک تاریخ آج بھی دعوتِ نظارا دے رہی ہے۔بقول الطاف حسین حالی

ملایا میں ہیں ان کے آثار اب تک

انہیں رو رہا ہے ملیبار اب تک

آج ہم ان کامیاب اسلاف کا تذکرہ کر کے خوش ہوتے ہیں اور اس کو ا پنا فخر شمار کرتے ہیں۔لیکن ان کے راہِ عمل پر چلنے سے گریزاں ہیں۔کردار کا غازی بننے کے بجائے صرف گفتار پر قانع ہیں ۔یاسیت سے ان کا ذکر کرتے ہیں ۔بقول شاعر

بادشاہی میں فقیری کا چلن رکھتے تھے

دوش پر بار امانت کا اٹھانے والے

آج  اس بارِ امانت کو پھر سے اٹھانے کی شدید ضرورت ہے۔عالمِ اسلام کی سراسیمگی سب کے سامنے ہے۔پاکستان آج مسائلستان کا منظر پیش کر رہا ہے۔سوچنے کی بات ہے کہ پاکستانی شہریت کا حامل نوجوان انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے تصرف میں کیوں چلا گیا اور ان نامرادوں اور شیطان صفت لوگوں کا آلہءِ کار کیوں بن گیا۔وسائل سے مالا مال ملک پاکستان میں آج کیوں آتش و آھن کی بارش برس رہی ہے۔وہ ملک جو حضرت علامہ اقبالؒ نے قوموں کی قیادت کے لیےمتصور کیا تھا اور قائدِ اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانانِ برِ صغیر نے نہایت عزم کے ساتھ حاصل کیا تھا۔

آج طرح طرح کے نا مساعد حالات کا شکار ہے۔کیا ان حالات پر قابو پانا صرف حکومت اور فوج کی ذمہ داری ہے ۔نہیں بالکل نہیں!

معاشرے کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے گا تو سینہ چاکانِ چمن ، چمن سے آن ملیں گے۔

اگر ہم صرف اتنا کر دیں کہ بے کاری ختم کرنے کی جستجو کریں۔اپنے نوجوان بچوں اور بچیوں کو مصروف کر دیں ۔ان کے ہاتھوں میں عمل کا چراغ مہیا کردیں، ان کو ہنر آشنا کر دیں تو گویا ہم نے معاشرے کوچراغِ طور جلا کے دے دیا۔

رسول اللہ ؐ کا فرمان الکاسب حبیب اللہ  ایک تحریک ہے۔اس حدیثِ پاک کو تحریک کی صورت میں عملاََ قبول کر لیں تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔یہ کام ممکن ہے لیکن اس کے لیے قیادت پیدا کرنا ضروری ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس کے لیے قیادت میسر ہے اور وہ قیادت سول اور فوج سے ریٹائرڈ آفیسرز اور دیگر احباب ہیں۔یہ حضرات اس ملک کا نمک ہیں۔ان کے دلوں میں اس ملک کی بقاء اور خوشحالی کا درد ہے۔بس اس درد کو مہمیز ہونے کی دیر ہے۔روح فورم ایسے تمام خواتین و حضرات کو ممبر شپ کی دعوت دیتا ہے جو اپنے تجربات کی روشنی میں نئی نسل کے لیے آسانیاں اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے خواہشمند ہیں۔

ہم ملک کے طول و عرض میں الکاسب سنٹرز بناسکتے ہیں  اور اُن میں بچوں، بچیوں، بیوہ خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کو ہنر سکھا کر معاشرے کا فعال رکن بنا سکتے ہیں۔ایسے تمام خواتین و حضرات جو ہنر سکھانے کا سلیقہ رکھتے ہیں”المعلم” کے نعرہ کے تحت انھیں اکھٹا

ہونا چاہیے اور مختلف جگہوں پر الکاسب سنٹرز بنا کر  تربیتی پروگرامز کا انعقاد کرنا چاہیے۔

موجودہ دور میں پاکستان چائنا اقتصادی راہداری سے مستقبل میں فائدہ اٹھانے اور تجارتی سرگرمیوں کو بین الاقوامی سطح تک وسعت دینے  کے لیے ہمیں ابھی سے  ہنر مند نوجوان تیار کرنے ہونگے۔

اس حوالے سے تمام محکموں سے ریٹائرڈ افسران، آفیسرز، ملازمین ، قائدین، معلمین کو فورم مشترکہ طور پر کوئی لائحہء عمل مرتب کرنے کی دعوت دیتا ہے

اٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں

نَفَسِ سوختہءِ شام و سحر تازہ کریں

حکیم الامت علامہ اقبالؒ

1

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005

:ruhforum@gmail.com