ندائے ربّانی

﴿يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ﴾ الانفطار:6

اے انسان کِس چیز نے تُجھ کو اپنے کریم رَبّ سے غافل کرکے دھوکے میں ڈال دیا۔

انسان  کی تخلیق اللہ کے امر اور قدرت کے مرہونِ منت ہے۔ انسان کے وسائلِ علم اور ذرائعِ رزق اللہ کی عطا کی برکات ہیں۔ اِس پر جملہ احسانات اِس کے کریم رب کے ہیں لیکن حیرت واستعجاب کی بات ہے کہ یہ اپنے اُس  محسنِ حقیقی کا ناشکر گزار رہا ہے۔ انسان کی معلوم تاریخ شاہد ہے کہ قلیل لوگ اِس دُنیائے اختیار میں اللہ کی مرضیات پر چلے جبکہ اکثر  لوگوں نے اللہ کی منشا سے بغاوت کے تحت انفرادی اور اجتماعی زندگی گزاری ۔

ہَر چند کہ اللہ نے ہدایت کی معرفت انسان کی فطرت و  طینت میں ودیعت فرمادی، سیّدنا آدمؑ سے لیکر سرورِ عالم محمد مصطفیٰﷺ تک ہدایت کا دسترخوان بچھایا جِس پر تمام انواعِ ہدایت چُن دیئے۔ کائنات میں ہر گاہ اور ہر گام پر ہدایت کی نشانیاں رکھیں۔ یہ سارا اہتمام انسان کے لئے مرتّب ومیّسر رہا تاکہ یہ سُبُلَ السَّلاَم سے بھٹک نہ جائے لیکن واحسرتاہ! انسان پر اُس کی شقاوت غالب رہی۔ تاریخ وعمرانِ بشری تو کُجا فُرقانِ حمید کی گواہی موجود ہے کہ عصرِ انسانی اِس پر شاہد ہے کہ انسان مبتلائے خُسران رہا ہے الَّا وہ لوگ جو ایمان لائے، صالح اعمال روا رکھے، حق کے مبلِّغ اور صبر کے متحمل رہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ نظامِ عالم صاحبِ عالم کی وجہ سے خراب ہے۔ خشکی و تری میں فساد کا ظہور انسانی افعال سے رونما ہوتا ہے۔ عطائے الہامی میں اِس صورتِ حال  کی مکمل تشخیص کی گئی ہے، تفاصیل زیادہ ہیں، اجمال میں سے دو چیزیں غور طلب ہیں۔

ایک یہ کہ جب  خُلق بگڑ جاتا ہے تو خَلق میں تغیُّر رونما ہوتا ہے۔ عدل خُلق ہے، لم بد خُلقی ہے۔ دیانت خُلق ہے، اور خیانت بَد خُلقی ہے۔ اخلاص  خُلق ہے، اور نفاق بَد خُلقی ہے۔ قناعت خُلق ہے، اور حرص بَد خُلقی ہے۔وعلی ہذا القیاس!

یہ اور اس طرح کے خُلق بر طرف رویّے خَلقیَّت میں بگاڑ پیدا کردیتے ہیں اور نظامِ عالم متفسد ہوجاتا ہے۔ کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ وہ اپنے کسی مفسدانہ عمل سے دوسروں کو شکار کرے گا اور خود محفوظ رہے گا۔

“ظلمَ نَفْسَه” کا قرآنی فلسفہ ہی کار فرما رہتا ہے اور ہماری غلط فہمی شکستِ فاش کا سامنا کرتی ہے۔ دوسری چیز شحۂِ نفس ہے جس میں مبتلا ہوکر انسان اپنا شَرف بھول جاتا ہے اور خَالق سے غافل ہوجاتا ہے۔ انسان “وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ” کے منصب سے معزول ہوجاتا ہے اور کریم رب سے برگشتہ ہوجاتا ہے۔ ان دو بد خصائل کے حامل فرد اور اجتماع نظامِ عالم کے تخریب کا باعث بنتے ہیں۔ اِن بد خصائل کا تدارک اصلاحِ نفس اور تعمیرِ خَلق کی طرف مہا قدم ہے۔ بقولِ حکیم الامتؒ:

خیمہ در میدانِ الاَّ اللہ زِ دست

در جہاں شاھدٌ عَلٰی النَّاس آمدست

1

روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

0335-7771005، 0515162023