اہلیت کی دستیابی (Availability of Talent)
- دنیانت دار قائمہ(Honest Administration)
- مستعد انصرام(Active Directorate)
- مربی صدر مدرّس(Patronized Principal)
- نائب صدر مدرّس (Patronized Vice Principal)
- باوقار اور مؤثر خواتین اساتذہ(Elegant, Result Ensuring Lady Teachers)
مشن
ایک ایسے مکتِ تعلیم و تربیت کا اجراء جس میں تلامذہ صرف بچیاں ہو گی۔اِن بچیوں کو اسوہءِ سیدۃُ النساء العالمین فاطمہ الزھراء البتولؑ کے مطابق تدریس و تربیت دی جائے گی۔یہ کوئی مروجہ مذہبی نظامِ تدریس سے تطابق(Synchronization) رکھنے والا ادارہ نہیں ہو گا جہاں کسی مشخّص مکتبہء فکر (Sectarian School of Thought) کی تعلیم دی جائے گی بلکہ اس میں انشاءَ اللہ و الرحمان اسوہءِ حسنہ اور ترجمانِ اسوہءِ حسنہ حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے رشحاتِ فکر کے عین مطابق اجتماعی مزاجِ اسلام کو بچیوں کے طبائع میں پروان چڑھایا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ بچیوں میں تخلیقِ پاکستان کا اصل مقصد متعارف کرایا جائے گا ۔اُن کو اخوتِ انسانی سے روشناس کرایا جائے گا تا کہ خلافتِ ارضی اور خُلقِ مصطفویؐ کے تقاضوں سے عہدہ بر آ ہونے کا جذبہ اُن کا شعورِ حیات اور مقصدِ زیست بنے۔
جدید علوم کی تلاش و تحقیق انسان کی ارتقائی طبع اور متجس فطرت کا لازمہ ہے۔اس حوالے سے بچیوں کے ذوقِ بسیار کو بطورِ خاص مہمیز رکھا جائے گا ۔بقول حکیم الامت ؒ
زندگی جہد است و استحقاق نیست
جزو بعلمِ انفس و آفاق نیست
مفہوم:- زندگی میں استحقاق(Deservingness) جدوجہد کے مرہونِ منت ہے اور اِس جدوجہد کا راس ُالمال(Prime Capital) روحانی اور سائنسی علوم کا اجتماع ہے۔
بناتُ الصالحات پر معاشرتی اصلاح اور اخلاقی ارتفاع کا دارومدار ہے۔قوم ماں کی گود سے طلوع پاتی ہے۔محبت و وفا خواتین کا جوہر ہے جس سے تہذیب و تمدن کے خط و خال متوازن و مترتب و مستحسن ہوتے ہیں۔
اہلِ بصیرت نے لکھا ہے
“انسان کا نکتہء آغاز ناسوتی(Worldly) سطح پر ایک نفسِ واحدہ سے ہوا جس کا تنوع(Expansion) مرد و خاتون کی صورۃ و ھیئت میں مستحضر(Manifested) ہوا۔اِ س تدبیری و تحکیمی تقسیم میں خاتون کی حیثیت معترت (Refuge & Patronage) کی سی ہے ۔چونکہ وہ دافعِ شر اور جالبِ خیر ہوتی ہے اور نسلِ آدمؑ کی جبلّت ِ عارفانہ اور خُلقِ اشرف کی حفاظت کرتی ہے”(علامہ علی مقدسی ؒ، رسائل ِ اخوان الصفا)
ان ذوقی ، ترغیبی اور تعلیمی حوالوں سے بنتِ رسولؐ کی سیرت ِ پاک کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے الکوثر قرار دیا ہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیاتِ طیبہ تمام خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔آپؑ کو قرآن نے نفسِ رسولؐ، صاحبہءِ تطہیر اور مواجہءِ مودَّہ قرارد یا ہے۔رسول اللہؐ نے آپ طاہرہ و طیبہ کو بضغۃُ مِنی اور قرۃ العیون (آنکھوں کی ٹھنڈک) کہا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اولاد کو اپنی اولاد کہا۔آپؑ کے گھر کو مختلفۃُ الملائکہ(فرشتوں کی آماجگاہ) کہا۔آپؑ کے لیے مینارہءِ نور قرار دیا۔
حکیم الامت نے خوب فرمایا ہے:-
مریمؑ ازیک نسبتِ عیسیٰؑ عزیز
از سہہ نسبت حضرت زہرا(رض) عزیز
نورِ چشمِ رحمۃ للعالمینؐ
آں امامِ اوّلیں و آخرین
بانوے آں تاجدارِ ھل اَتیٰ
مرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خدا
مادرِ آں مرکز پرکارِ عشق
مادرِ آں کارواں سالار ِعشق
سیرتِ فرزندہا از امہات
جوہر صدق و صفا از امہات
مزرعِ تسلیم را حاصل بتولؑ
مادراں را اسوہءِ کامل بتول(رض)
مفہوم:- سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام کو ایک نسبت میسر ہے جبکہ سیدہ فاطمہ بنت محمدؐ تین نسبتوں سے ممتاز ہیں۔وہ رسول اللہ ؐ کی لختِ جگر اور نورِ نظر ہیں۔سیدنا علی المرتضیٰ(رض) کی زوجہءِ مکرمہ ہیں۔سیدنا حسین ؑ کی مادرِ مربیّہ و مہربان ہیں۔فرزندوں کی سیرت کے نین نقش کی تزئین و آرائش ماؤں کی حُسن ِ ترتیب کا ثمر ہے۔اُن کے طبائع میں صدق و صفا(ظاہری و باطنی اقدارِ عالیہ) مادراں کی تربیت کا حاصل ہیں۔بس اسلام کا باغ سیدہ فاطمہ(رض) کی آبیاری سے گُل بداماں ہے۔تمام امہات و اخوات و بنات کے لیے بتولؑ کا اسوہءِ اکمل رہنمائی ہے۔
اس ادارہ کا نام مکتبِ بتول ؑ ہو گا۔اس کے اجراء، فروغ اور بارآوری کے لیے ہم میں سے ہر ایک نے مشورہ، ایثار، انفاق، ارتباط الغرض سب کچھ کرنا ہے۔
وما توفیقی الا باللہ
زید گل خٹک
ایڈوائزر روح فورم

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد
فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005
:ruhforum@gmail.com