لیکچر رپورٹ ”موجودہ دور میںفکرِ اقبالؒ کی ضرورت و افادیت” “(22 اپریل 2017(

21 اپریل حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کا یومِ وصال ہے۔آپ کی فکری اور نظریاتی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور آپؒ کی تعلیمات کی عملی ترویج کی طرف توجہ دلانے کے لیے روح فورم نے 22 اپریل 2017  بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں “موجودہ دور میں فکرِ اقبالؒ کی ضرورت و افادیت ” کے عنوان پر لیکچر کا انعقاد کیا  جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔

برگیڈئیر منیر نے نظامت کے فرائض سنبھالتے ہوئے تمام شرکا ء کا شکریہ ادا کیا   ۔پروگرام کا آغاز تلاوت ِ کلامِ پاک سے ہوا ۔محترم کرنل  سید مرتضی علی شاہ  صاحب کو ابتدائی گفتگو کی دعوت دی گئی تو آپ نے اسوہ ءِ حسنہ کے احیاء، فکرِ اقبالؒ اور موجودہ دور کے تقاضوں پر روشنی ڈالی ۔

گفتگو کو خلاصہ

”علامہ اقبالؒ نے حضورؐ کی حیات مبارکہ کی خوبصورت انداز میں سفارت کاری کی ہے۔فکرِ اقبالؒ کی ترویج کا مطلب سنتِ رسولؒ کی پیروی ہے۔علامہ اقبالؒ نے پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔آج کا دن انھی کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں ایک تاثر پایا جاتا ہے کہ عصرِ حاضر میں معاشرہ  فکرِ اقبالؒ پر عمل پیرا نہیں ۔سوال یہ ہے کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ لوگ فکرِ اقبالؒ کی ترویج کے لیے کیا کر رہے ہیں۔یہی سوچ کر ہم نے روح فورم کی بنیاد رکھی۔بہت سی شمعیں جل رہی ہیں مگر Integration  کی کمی ہے۔اگر ہم عملی طور پر اسوہءِ حسنہ کے احیاء کے لیے کوشاں ہوں گے تو ہمیں رستہ نظر آئے گا اور ہم نوجوان نسل کو اپنی منزل کی طرف گامزن کر سکیں گے۔مگر اس کے لیے ہمیں اپنے محور کی طرف واپس لوٹنا ہو گا۔

علامہ اقبالؒ نے ایک فرمایا تھا

جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی

جگر خوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

ہمیں مقاصد کے حصول کے لیے جدو جہد کرنی چاہیے۔ہمیں آج گھروں کو لوٹ کر سوچنا چاہیے کہ ہم معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

علامہ اقبالؒ نے خوبصورت پیرائے میں مقصدِ حیات کی طرف اشارہ کیا ہے

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی

ہمارا بندگی کا تصور کمزور ہے۔والدین اولاد کی دائمی زندگی کے لیے فکر مند نہیں۔نئی نسل کی کردار سازی کے لیے اسوہءِ رسولؐ سے بہتر شمع کوئی نہیں اور اس تک پہنچنے کے لیے فکرِ اقبالؒ سے بہتر راستہ کوئی نہیں”؎

بچوں اور بچیوں نے کلام ِ اقبالؒ ترنم کے ساتھ پیش کیا

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن

گفتار میں، کردار میں،اﷲ کی برہان

اسی تسلسل کو برقرار رکھتےہوئے محترم طارق نعیم نے بھی کلام ِ اقبال ؒ ترنم کے ساتھ پیش کیا

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتداکیا ہے

کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

اس کےبعد محترم زید گل خٹک نے ”موجودہ دور میںفکرِ اقبالؒ کی ضرورت و افادیت” کے عنوان پر لیکچر دیا

لیکچر کا خلاصہ

“آج کا دن اقبالؒ کے زاویہ ءِ فکر کے حوالے سے اہم دن ہے۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ علامہ اقبالؒ کی تعلیمات کو یکسر بھلا دیا گیا ہے مگر اتنی بڑی فکر کا حق ہے کہ وہ پروان چڑھے۔علامہ ابنِ رشدؒ نے فرمایا تھا  ” جب تم کسی قوم کو دیکھو کہ وہ اپنے فکری رہنماوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو سمجھ لو کہ اس قوم میں زندگی کے جراثیم موجود ہیں اور وہ ترقی کرے گی”

فکرِ اقبالؒ کی افادیت کا اندازہ اس سے  بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر علی اکبر شریعتی اپنی کتا ب (ما ہ و اقبالؒ) میں لکھتے ہیں

“پچھلے چار سو سالوں میں مسلمانوں کے اندر اتنی بڑی فکری شخصیت نے ظہور نہیں کیا”

فکرِ اقبالؒ کو افادیت کے لحاظ سے تین مدارج میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔اس نقطہ ءِ نظر میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے

  • تشکیلِ جدید(Reconstruction)

تشکیلِ جدید کے حوالے سے آپؒ کے خطبات قابل ِ ذکر ہیں

  • احیاء (Revival)

آپؒ نے اپنے کلام سے اہلِ ایمان کے احیاء کا کام لیا۔احیاء کا لفظی ترجمہ  زندہ کرنا، روح پرور بنانا ہے۔اس کے لیے تاثیر کی ضرورت ہے۔علامہ اقبالؒ اپنی شاعری نوجوان نسل کے دل و دماغ پر نقش کرنا چاہتے تھے تا کہ وہ صرف مطالعہ کی حد تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے کردار و شخصیت میں بھی مثبت تبدیلی آئے

  • نظریاتی و سیاسی جدوجہد

آپؒ کی شاعری اور نثر کا وہ حصہ جس  کے ذریعے  آپؒ نے مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کی طرف مائل کیا۔

فکرِ اقبالؒ نوجوان نسل کے لیے نسخہءِ کیمیا ہے۔فورم کا مقصد اسے نئی نسل میں منتقل کرنا ہے۔

اس کے بعد سوال و جواب کے سیشن کا آغاز ہوا اور شرکاء کی پرتاثیر گفتگو سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے

  • تمام مسائل کا حل اسوہءِ حسنہ میں موجود ہے اور فکرِ اقبالؒ اسوہءِ حسنہ کی ترجمانی ہے۔
  • فکرِ اقبالؒ کی ترویج کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنی چاہیے۔
  • معاشرے کی اصلاح کے لیے جذبہءِ اخوت بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔
  • معاشرتی ترقی کے لیے Resources کا ہونا ضروری ہے مگر مثبت نتائج کے لیے جذبہ کارفرماء ہوتا ہے۔
  • اسلامی اقدار کے احیاء کے لیے تعلیمی نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
  • اچھے مستقبل کے لیے ہمیں اپنے اعمال درست کرنے کی ضرورت ہے۔

محترم جنرل حمید الدین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں قومی و ملی ضرورت اور لیڈرشپ کے حوالے سے گفتگو فرمائی

گفتگو کا خلاصہ

 علامہ اقبالؒ نے رحلت سے قبل اپنے رفقا کو یہ اشعار سنائے

سرود رفتہ باز آید کہ ناید
نسیمے از حجاز آید کہ ناید
سرآمد روزگار ایں فقیرے
دگر دانائے رازآید کہ ناید
ترجمہ: سرود رفتہ واپس آئے کہ نہ آئے، حجاز سے ٹھنڈی ہوا آئے کہ نہ آئے، یہ فقیر دنیا سے جا رہاہے، دوسرا دانائے راز آئے کہ نہ آئے

ہم نے آپؒ کو حکیم الامت کا خطاب تو دے دیا مگر آپؒ کی دانائی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔آپؒ نے ساری زندگی نوجوان نسل کو ابھارنے کو کوشش کی مگر آخر میں کہا

افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو

 دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات

آج نوجوان  دنیاوی آسائشوں کو حاصل کرنے میں مصروف العمل ہیں مگر اسوہءِ حسنہ پر عمل پیرا نہیں۔دوسری جنگِ عظیم ہوئی۔جاپان پر دو ایٹم بم پھینکے گئے۔2.5 ملین لوگ لقمہءِ اجل بنے۔دکلس نکارتھر جاپان کا پولیٹیکل لیڈر بنا اور جے شودا وزیرِ اعظم مقرر ہوا۔ایک جاپان کا تھا اور دوسرا امریکہ کا۔ایک Progressive  تھا جبکہ دوسرا رجعت پسند لیڈر جو اپنی اقدار(Values)  کو ترجیح دیتا تھا۔ایک مغرب کی تہذیب لایا اور دوسرا قدروں کو نہیں بھولا۔جاپان انھی دونوں کے زیرِ سایہ Reconstruct  ہوا۔آج کے جاپان کے یہ دونوں معمار ہیں۔اگر آج ایک جے شودا پیدا ہو جو اپنی اقدار کو لے کر چلے تو ہمارے قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

آخر میں محترم جنرل نعیم خالد لودھی نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ بچوں کی علمی نشونما کے ساتھ ساتھ روح کی نشونما بھی ضروری ہے ورنہ شخصیت نا مکمل رہ جاتی ہے۔علامہ اقبال نے فرمایا تھا

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

جب ہم اسلامی تعلیمات کی روگردانی کرتے ہیں تو اس کے منفی اثرات ہمارے کنٹرول میں نہیں رہتے۔  ہمارے اپنے اعمال کے طوق  ہمارے گلوں  میں ڈال دیے جاتے ہیں۔انسان رزقِ حلال نہیں کماتا اور کہتا ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔ہمیں چاہیے کہ بچوں کو ایسی تعلیم دیں جو اپنی اقدار کی طرف راغب کریں اور انھیں غورو فکر کرنے پر مائل کرے۔

پروگرام کا اختتام بھی کلامِ اقبالؒ پر ہوا اور بچیوں نے ترنم کے ساتھ کلامِ اقبال پیش کرنے کا شرف حاصل کیا

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ اللہ ہو

18010884_1900588250152901_6145397589084848926_n 18033459_1900588310152895_511446490969371486_n 18034047_1900588490152877_3853193334984191496_n 18056651_1900588376819555_5190984983956727534_n 18058007_1900588436819549_2455964232077713588_n

Slide9