لیکچر رپورٹ “عصرِ حاضر پر اقبالؒ اور رومیؒ کا تبادلہ ءِ خیال”(13 مئی 2017)

روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان ” عصرِ حاضر پر اقبالؒ اور رومیؒ کا تبادلہ ءِ خیال ” 13 مئی 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے  خواتین و حضرات   نے شرکت فرمائی۔

پروگرام کا آغاز تلاوت ِ کلامِ پاک سے ہوا ۔محترم سید مرتضیٰ علی شاہ  صاحب نے نظامت کے فرائض سنبھالتے ہوئے حاضرین مجلس کو خوش آمدید کہا اور ان کی شرکت کو سراہتے ہوئے فورم کے سلسلہ وار لیکچرز کی اہمیت کو اجاگر کیا اور درخواست کی کہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم سب کا فرض ہے کہ   معاشرے میں بہتری لانے کے لیےعملی طور پر اپنا کردار ادا کریں۔اس کے بعد محترم زید گل خٹک صاحب کو لیکچر کی دعوت دی جنھوں نے مندرجہ ذیل منتخب اشعار کی روشنی میں عصرِ حاضر کے مسائل اور ان کے حل پر گفتگو فرمائی

مریدِ ہندی

چشمِ  بینا سے ہےجاری جوئے خوں

علمِ حاضر سے ہے دیں زار و زبوں

پیرِ رومی

علم را برتن زنی مارے بود

علم را بر دل زنی یارے بود

۔۔۔

مرید ہندیؒ

پڑھ لیے میں نے علومِ شرق و غرب

روح میں باقی ہے اب تک درد و کرب

پیرِ رومیؒ

دستِ ہر نا اہل بیمارت کند

سوئے مادر آ کہ  تیمارت کند

۔۔۔۔

مریدِ ہندیؒ

خاک تیرے نور سے روشن بصر

غایت ِ آدمؑ خبر ہے یا نظر

پیرِ رومیؒ

آدمی دید است، باقی پوست است

دید آں با شد کہ دیدِ دوست است

لیکچر کا خلاصہ

امام ابنِ عربیؒ سے کسی نے پوچھا کہ ہم کس طرح اندازہ لگائیں کہ ہمارے اعمال اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو گئے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ جب آپ کے اعمال کے اثرات آپ پر اور معاشرے پر مرتب ہو رہے ہوں تو سمجھ لیں   کہ وہ اللہ کے حضور پسندیدہ ہیں۔ملت کا ایک مطلب کمیونٹی ہے اور ایک مطلب طریقہ ہے۔جو لوگ ابراہیمؑ کے طریقِ ملت پر ہوتے ہیں ان کی فکر آفاقی ہوتی ہے۔علامہ اقبالؒ اس وقت تشریف لائے جب برِ صغیر زرعی دور کے بہت سے اثرات سمیٹ کر صنعتی دور میں داخل ہو رہا تھا اور بہت سی معاشرتی و سماجی اقدار تبدیل ہو رہی تھیں۔ایسی صورتِ حال میں درست رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے اور علامہ اقبالؒ نے اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں یہ فریضہ سر انجام دیا۔علامہ اقبالؒ،  حضرتِ رومیؒ سے پوچھتے ہیں کہ علم تو حاصل کر لیا مگر نتائج بر آمد نہیں ہو رہے اور دین آہ وزاری کر رہا ہے۔مولانہ رومؒ جواب میں فرماتے ہیں کہ جب علم صرف اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حاصل کیا جائے تو یہ سانپ کے مصداق ہوتا ہے۔انسان کی ضروریات دوسروں کی ضروریات سے ٹکرا بھی سکتی ہے۔لوگ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کا نقصان بھی کر سکتے ہیں۔یوں معاشرہ تصادم اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔اس لیے علم فلاحِ انسانی، بہبودِ معاشرہ اور اللہ کی رضا کے لیے حاصل کرنا چاہیے۔روحانیت مجروح ہو رہی ہے ۔انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی تو کر لی ہے مگر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ہمیں مرکز کی طرف لوٹنا ہو گا ۔ اسوہءِ حسنہ سے مسائل کا حل تلاش کر کے صالح معاشرے کا قیام ممکن ہو سکتا ہے”

 محترم سید مرتضٰی علی شاہ  صاحب نے اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے علمِ نافع اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا

گفتگو کا خلاصہ

“موجودہ دور بہت سے علوم سے سرشار ہے مگر علم نافع “جس سے دوسروں کو نفع پہنچے” کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسلام نے اخروی اور دنیوی معاملات دونوں میں بہتری کی ترغیب دی ہے۔جب فورم کاروبار و تجارت کی بات کرتا ہے تو لوگ اس سے غلط تاثر  لیتے ہیں۔اقتصادی سطح پر خوشحال معاشرے میں ہی اعلیٰ اخلاقی روایات پروان چڑھ سکتی ہیں۔اگر ہم Complete Code of Life  کو دیکھیں تو  اندازہ لگایا جا سکتا  ہے کہ ہمارے ادارے علمِ نافع پر توجہ نہیں دے رہے۔تعلیمی ادارے ، اساتذہ اور والدین  ، نئی نسل کو زندگی کے حقیقی مقاصد سے روشناس نہیں کروا سکے۔ہم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ دائمی زندگی کے لئے  امتحان کی تیاری کس طرح سے کرنی چاہیے۔اس امتحان میں کامیابی کے لیے اسوہءِ رسولؐ  کی پیروی ضروری ہے۔ علمِ حاضر کو علمِ نافع میں تبدیل کرنے کے لیے  اسوہءِ حسنہ  کو سلیبس کے طور پر نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔HEC نے یونیورسٹیوں میں اسوہءِ حسنہ کی Chair رکھ دی ہے جو ہم سب کے لیے خوش آئند بات ہے۔ہم فورم کے مرکزی دفتر میں اسوہءِ حسنہ، اقبالیات اور لٹریچر کے Certificate Courses  کا اجرا کر کے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی لیول تک لے جا سکتے ہیں۔ اگر فورم کے زیرِ سایہ  Educationist مل کر نصاب پر کام کریں اور تعلیمی اداروں میں Recognize  کریں تو  طلبہ کو مقصدِ حیات سے روشناس کروانے میں اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ہمارے پاس ذرائع ہیں مگر Integration  کی کمی ہے۔

اس کے بعد محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے DNA کے مختلف پہلووں اور خصائص پر روشنی ڈالی  اور اس حوالے سے تحقیقاتی سرگرمیوں کی وضاہت فرمائی۔

اس کے بعد سوال و جواب کے سیشن کا آغاز ہوا  اور شرکاء کی پر تاثیر گفتگو سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے

  • علمِ نافع کے لیے اسوہءِ حسنہ کی ترویج ضروری ہے۔

  • تنقید کے بجائے اصلاحِ معاشرہ کے لیے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمہ کے لیے نوجوانوں کو مختلف ہنر سیکھنے کی ضرورت ہے۔
  • والدین اور اداروں کو چاہیے کہ طلبہ کو مقصدِ حیات سے روشناس کروائیں۔

سوال و جواب کے بعد شرکاءِ اجلاس نے ان باتوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باہمی مشاورت سے فورم کے    زیر ِ سایہ مندرجہ ذیل  شاخیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا

  • روح ایجوکیشن گروپ
  • روح ریشرچ اینڈ ڈویلپمنٹ گروپ
  • روح انٹر پرائز گروپ

 انشاء اللہ جلد ہی تمام احباب کی معاونت سے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا

 آخر میں محترم جنرل حمید الدین نے گفتگو سمیٹتے ہوئے تمام شرکاء  کی موجودگی کو سراہا اور کہا کہ دنیا میں جتنے بڑے کام ہوئے ان کے پیچھے بڑے لیڈروں کی کاوشیں کارفرماء رہیں۔بڑے کام کے لیے عزم کا ہونا ضروری ہے۔علم و عشق جب مل جائے تو قوم اور ادارے جو مقاصد پانا چاہیں پا سکتے ہیں۔جن قوموں میں اس کا فقدان ہو وہ ترقی نہیں کر سکتیں۔علامہ اقبالؒ نے فرمایا ہے

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

کیا وجہ ہے کہ سب کچھ میسر ہے مگر رومیؒ، تبریز اور اقبالؒ پیدا نہیں ہو رہے۔ہمیں اس سوال کا  سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے کوئی لائحہ ء عمل مرتب کرنا ہوگا اور نوجوانوں میں تحریک پیدا کرنی ہو گی تا کہ آنے والےوقت میں وہ معاشرے کے لیے کچھ کر سکیں۔

شرکاء کے نام

زید گل خٹک، جنرل حمید الدین، جنرل نیاز کوثر، جنرل ساجد اقبال،   سید مرتضی علی شاہ،  ڈاکٹر محمد اسماعیل ،ارشد حسین رضوی، محمد حمزہ شفیق، محمد شفیق، سید منظور عباس، محترمہ شیریں ہاشمی، عمر شہزاد، زاہد عارف ملک، محمد فرخ محموو ، دیگر

پیغام

فورم نے   ذیلی شاخوں کو  قائم کر کے معاشرتی، سماجی، تعلیمی اور اقتصادی  بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا عزم کیا ہے  ۔ہر شخص اپنی ذات میں ایک ادارہ ہے اور وہ اپنے حصے کی شمع جلا کر تنزلی کے اندھیروں میں روشنی پھیلا سکتا ہے۔حدیثِ مبارکہ ہے “جڑت پر اللہ کا ہاتھ ہے” مطلوبہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے  ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔اقبالؒ نے بھی فرمایا”فردِ قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں”تمام خواتین و حضرات سے التماس ہے کہ وہ جس بھی شعبے میں بہتری  لانے کا عزم رکھتے  ہیں وہ فورم میں شامل ہو کر خدمت کا موقع فراہم کریں

2c48c34d-5045-496a-8983-a86d2a3dfbf6 c9539499-2895-4077-ab74-b14d268b2ffd e2aafa25-005e-4ce0-b64d-1b3c0eaea2a6ruh-cont

Ruh Manzil, 3rd Floor, DHA 2, Phase , GT Road, Islamabad 

0335-7771005