روح فورم کے زیرِ اہتمام19 فروری 2019، بروز منگل ، شام 4 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو،سیکٹر اے، اسلام آباد میں ایک مکالماتی نشست منعقد ہوئی ۔” تعلیمی اداروں میں احیا ء ِ اقدارِ اسوہءِ حسنہ اور ہماری ذمہ داری” کے موضوع کو زیرِ بحث لایا گیا ۔علماء، اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔
تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ رسول ِمقبول ؐ کے بعد بچیوں نے قصیدہ بردہ شریف پیش کیا ۔آغاز میں علامہ زید گل خٹک نے منتخب موضوع کے مختلف پہلوؤں پر مفصل روشنی ڈالی۔
گفتگو کا خلاصہ :-
” ہمیں اپنی اہمیت اور افادیت کا احساس ہونا چاہیے ،انسان کو جو محوری مرتبہ اِ س کائنات میں دیا گیا ہےاُسے ، اُس کا احساس ہونا چاہیے۔خاص کر اساتذہ کو نہ صرف خود اِس کا ادراک ہونا چاہیے بلکہ طلبہ و طالبات میں بھی منتقل کرنا چاہیے۔جب بگِ بینگ نہیں تھا انسان اللہ کی تقدیر میں حکمت و معرفت پاتا رہا جس کا ذکر قرآنِ حکیم میں بھی ہے۔پھر رب جلیل نے اپنے ارادے کا ظہور فرمایا۔
حدیث قدسی ہے،اللہ نے فرمایا!
“میں محبت کا خزانہ ، میں حسنِ ازل کا خزانہ، میں نے پسند کیا کہ لوگ میری معرفت حاصل کریں پھر میں نے مخلوق کو پیدا کیا”
حضورؐ نے فرمایا
“سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا گیا”اسوہءِ حسنہ کو جب تک صحیح طرح سمجھانہ جائے اِ س کے عملی تقاضوں کا ادراک نہیں ہوتا۔خَلقِ کائنات کے بعد حضرت آدمؑ وجود میں آئے اور پھر آپؑ کے جسم کے حصے سے حضرت حوّاؑ کو پیدا کیا گیا جن کے بعد نسلِ آدمؑ کا سلسلہ بڑھتا گیا۔
تکوینی مخلوقات زمین ، آسمان ، چاند ، ستارے وغیرہ انسان کے لیے وسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔مقصودِ کائنات انسان ہے۔اگر انسان اِس طرح اپنی افادیت سمجھے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ صحیح راستوں سے بھٹک جائے۔ہمارے معاشرے میں کئی مکتبہء فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی فکریات میں تضادات نہیں۔آپ کو قدیم و جدید دونوں علوم پر دسترس حاصل تھی۔ہمارے ہاں پہلے نظریہ یا وژن تشکیل پاتا ہے اُس کے بعد عملی اقدام اٹھانے کےلیے تدابیر سوچی جاتی ہیں۔حضورؐ نےچالیس سال تک عمل کر کے دکھایا اور اس کے بعد نظریہ کا اعلان فرمایا۔تمام انبیاءؑ کے خصائص، انوار آپؐ کی ذاتِ مبارکہ میں رکھے گئے۔ آپ ؐ کی ذاتِ مبارکہ تمام کائناتوں میں واجب الاقتدا ہے ۔ اسلام میں تنوع کا تصور ہے تقسیم کا نہیں اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا صرف ایک راستہ ہے ۔وہ ہے اسوہءِ حسنہ۔روح فورم نے جس تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اُس کا نام مکتبِ بتول ہو گا اور اسوہءِ بتول سلام علیھا بچیوں کے لیے رول ماڈل ہو گا۔ہمارے نصاب میں رائج نصاب کے علاوہ خصوصی طور پر ایسا لٹریچر اضافی طور پر پڑھایا جائے گا جو کردار سازی کے لیے نہایت اہم اور ضروری ہے۔ہماری کوشش ہو گی کہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کی حامل معلمین سے نئی نسل فاطمی خوشبو پا کر مستقبل میں سماجی اقدار کے احیاء میں مثبت کردار ادا کریں”
علامہ زید گل خٹک صاحب کی گفتگو کے بعد محترم سید کرنل مرتضیٰ علی شاہ صاحِب نے منتخب موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے اہم پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی جس کا خلاصہ یہ ہے۔
ہمارے معاشرے میں لوگ رفاعی کام کر رہے ہیں مگر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا نہ ہونے کی وجہ سے دیرپا اثرات مرتب نہیں ہو رہے۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر غربت ختم کرنے کے کئ منصوبے بنائے گئے اور کئی بنائے جا رہے ہیں مگر اصل مسائل کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ روحانی اور فکری پستی ہےجس کی وجہ سے لوگ درست فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ہمیں اداراتی پستی بھی درپیش ہے ۔اداراتی حوالے سے دو ادارے اہم ہیں ۔والدین اور اساتذہ۔ بنیادی اقدار سے شناسائی نہ ہونے کے باعث یہ ادارے نئی نسل پر قابلِ ذکر اثرات مرتب نہیں کر رہے ۔ میڈیا کے ساتھ ساتھ اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیاں بھی ہماری تہذیب و ثقافت کی نمائندگی نہیں کر رہے۔ہمیں اِ س اہم مسئلہ پر غور و فکر کرتے ہوئے معلمات کے ذریعے ایسا ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے جہاں جدید علوم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کا احیاء بھی ممکن ہو سکے۔ہمیں اِ س سوچ کو عملی شکل دینے کے بعد نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا جو انشا اللہ مستقبل میں ہمیں نظر آئیں گے۔
اقتصادی پستی دور کرنے کے لیے ہمارے لیے اسوہءِ رسول ؐ میں مواخاتِ مدینہ کی مثال موجود ہے۔آج بھی وہی تصور ہے مگر درست سمت کا تعین نہیں کیا جا رہا۔روح فورم کا بنیادی مقصد لوگوں کو مواخات میں پرونا ہے اور تعلیمی و اقتصادی ترقی کے ذریعے سماجی و معاشی ترقی کے راستے پر گامزن ہونا ہے۔ساری پستیوں کو دور کرنے کا حل علامہ اقبالؒ نے بتا دیا
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمد ؐ سے اجالا کر دے
تمام مذاہب اور مسالک اسوہءِ حسنہ کے قائل ہیں اور آپؐ تمام جہانوں کےلیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔تمام احباب اپنے اپنے حلقہ ء ِ احباب میں سے اچھے لوگوں کی شناخت کریں چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔فورم مرکزی کردار ادا کرے گا۔تعلیمی، فلاحی، اقتصادی کسی بھی حوالے سے، کسی کو بھی اگر فورم کی معاونت درکار ہے تو فورم اپنی خدمات پیش کرے گا اور اسی طرح فورم بھی تمام احباب سے معاونت کی توقع رکھتا ہے۔تعلیمی ادارے کے قیام کے حوالے سے ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ نصاب، محقق، دانشور، اساتذہ، منتظمین وغیرہ جو آپ کی نظر میں ہیں انھیں فورم میں لائیں تا کہ عملی قدم اٹھایا جا سکے۔
حاضرینِ مجلس نے اختتامی کلمات میں فورم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے تعلیمی ادارے کا قیام ضروری ہے جہاں جدید علوم کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی کردار سازی پر بھی توجہ دی جائے اورمعاونت کی یقین دہانی بھی کروائی۔

………………………..
روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد
فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005
:ruhforum@gmail.com