روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان ” اسلام کا نظام ِ انفاق اور اس کے دور رس اثرات ” 15 اپریل 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت ِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد کرنل سید مرتضی علی شاہ نے حاضرین ِ مجلس کی شرکت کو سراہتے ہوئے روح فورم کے اغراض و مقاصد اور لیکچر کے بنیادی نکات پر ابتدائی گفتگو فرمائی۔
گفتگو کا خلاصہ
“آج ہمارا معاشرہ مایوسی کا شکار ہے۔اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے جو حکمتِ عملیاں قرآنِ عظیم نے فراہم کی ہیں بدقسمتی سے مسلمانوں کے بجائے دوسری اقوام ان پر عمل پیرا ہیں۔ مسلمان مقصدِ حیات سے دور ہو کر means of life میں الجھ گئے ہیں۔دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے حضورؐ کی ذاتِ مبارکہ میں سب کے لیے بہترین عملی نمونہ ہے۔والدین اپنے بچوں کی دنیاوی زندگی کے لیے تو سوچتے ہیں مگر اخروی زندگی کے لیے فکر مند نہیں رہتے۔حدیثِ مبارکہ ہے کہ معاشی تنگدستی کفر کے طرف لے جائے گی۔موجودہ مسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں اقتصادی ترقی پر غور و فکر کرنا چاہیے۔قرآن و حدیث نے تین گروپس پر مشتمل انفاق کا موثر نظام متعارف کروایا ہے۔
- غارمین(Integrator)
- عاملین (Executive Body)
- حاصرین(Volunteers)
غارمین مختلف معاشرتی اکائیوں کو مربوط کر کے اہلِ خیر سے زکوۃ و خیرات وصول کر تے ہیں اور درست رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔عاملین فلاحی منصوبے تشکیل دے کر انھیں عملی جامہ پہناتے ہیں اور حاصرین نیک مقاصد کے حصول کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ آج سب حاصرین کے طور پر اس نشست میں تشریف فرما ہیں۔ ہم قرآن کے نظام ِ انفاق سے دور ہو گئے ہیں اسی لیے زکوۃ و خیرات دینے کے باوجود مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسوہءِ حسنہ کے احیاء، اسلام کے نظام ِ انفاق کی ترویج، اقتصادی اور تعلیمی منصوبوں کو Centralize کرنے کے لیے روح فورم کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے مرکزی دفتر کو تمام سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔حدیث ِ مبارکہ ہے کہ مفلوک الحال پر تجارت لازم ہے۔مگر ہم اس سلسلے میں نئی نسل کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اسی وجہ سے اقتصادی بحران کا شکار ہیں۔فورم نوکری کے رجحان کو کم کر کے کاروبار تجارت کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ہمارا معاشرہ منفی رویوں کی وجہ سے خود کفیل نہیں ہو سکا۔اسلام نے مشترکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا مگر ہم اشتراک سے گریز کرتے ہیں۔اسلام نے محنت کرنے کی تلقین کی مگر ہم بچوں کو ہنر مند بنانے سے کتراتے ہیں۔روح بزنس کلب کا مقصد اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں تعلیمی، معاشی، سماجی ، تجارتی اور کاروباری اداروں کو Integrate کر کے Outcomes سے فلاح کا تصور اجاگر کرنا ہے۔یہ اسلامی تصور ہے جس پر غیر مسلم عمل پیرا ہیں۔اگر ہم عملی طور پر ایک Brand کے زیرِ سایہ کام کریں گے تو موثر نتائج برآمد ہوں گے
اس کے بعد محترم زید گل خٹک نے اسلام کا نظامِ انفاق اور اس کے دور رس اثرات پر لیکچر دیا
لیکچر کا خلاصہ
” انفاق کو معاملات، اخلاقیات اور عقائد میں شامل نہیں کیا گیا بلکہ عبادات میں شامل کیا گیا ہے۔ اسلام کا نظامِ انفاق کھجور کی گٹھلی سے شروع ہوتا ہے۔صحابہ ءِ اکرامؓ اپنی ضرورت کی چیزیں بھی اللہ کی راہ میں قربان کر دیتے تھے۔قرآن و حدیث سے اخذ شدہ نظام ِ انفاق جو کہ غاربین، عاملین اور حاصرین پر مشتمل ہے اس کے مثبت اور دیرپا اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔یہ نظام حضورؐ کے زمانے میں رائج تھا اور غاربین میں ایسے لوگ شامل تھے جو بغیر کسی لالچ کے جو جذبہ ءِ ایثار سے سرشار تھے ۔جس کی ایمانداری پر تھوڑا سا بھی شک و شبہ پیدا ہوتا اسے غاربین کی جماعت سے خارج کر دیا جاتا۔ غیر مسلم بھی فلاحی منصوبوں میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس لیے کہ وہ بھی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اور فلاحی منصوبوں کے نتائج کی برکات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں ۔ ہم اس نظام ِ انفاق کے احیاء سے معاشرتی، تعلیمی اور اقتصادی خوشحالی کا باب کھول سکتے ہیں اور کئی فلاحی منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ پایہءِ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں۔ ہم سب کو مل کر معاشرتی بہبود میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
لیکچر کے بعد کرنل نوید ظفر نے سلسلہءِ روز شب کے عنوان پر Presentation دی اور لمحوں کی قدر و قیمت پر روشی ڈالی۔
اس کے بعد سوال و جواب کے سیشن کا آغاز ہو ا اور شرکاء کی پر تاثیر گفتگو سے مندرجہ زیل نتائج اخذ کیے گئے
- ہمیں وقت کی قدر کرنی چاہیے اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رہنا چاہیے۔
- غربت اور تنگدستی کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ فلاحی منصوبوں کا آغاز کر نا چاہیے۔
- اسلام کے نظامِ انفاق سے ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
- پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت سے خود کفیل معاشرے کا قیام ممکن ہے۔
- ہمیں مثبت سوچنا چاہیے اور منفی رویوں سے گریز کرنا چاہیے
سید مرتضی علی شاہ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب عملی قدم اٹھانا چاہیے۔اسوہءحسنہ کے احیاء سے ہی موجودہ مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے اور فکرِ اقبالؒ اسوہءِ حسنہ کی ترجمانی ہے۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو فکرِ اقبالؒ سے روشناس کروائیں
آخر میں بچوں نے ترنم کے ساتھ کلام ِ اقبالؒ پیش کیا
دگرگوں ہےجہاں ، تاروں کی گردش تیز ہےساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی
شرکاء کے نام
زید گل خٹک، سید مرتضی علی شاہ ، لیفٹینٹ کرنل رمضان ٹوانہ، اسکارڈن لیڈر محمد عارف، برگیڈئیر منیر، کرنل نوید ظفر، خالد مسعود, ملک اکبر حیات، عبدالقادر شیخ ، محمد افضل، حاشم خان، محمد فاروق، محمد رشتین ولی
