روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان ” اسلام کا نظام ِ انفاق اور اس کے دور رس اثرات ” 6 مئی 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے احباب نے شرکت فرمائی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت ِ کلامِ پاک سے ہوا ۔برگیڈئیر منیر نے نظامت کے فرائض سنبھالتے ہوئے حاضرین ِ مجلس کی شرکت کو سراہا اور محترم زید گل خٹک صاحب کو لیکچر کی دعوت دی جنھوں نے خوبصورت انداز میں دیے گئے موضوع کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔
لیکچر کا خلاصہ
“
موجودہ تمام مسائل کا حل آنحضرتؐ کی حیات ِ مبارکہ میں موجود ہے۔نظام ِ انفاق کا آغاز زکوۃ سے ہوتا ہے۔اس کے بعد صدقے کا تصور ہے۔حضورؐ نے صدقے کا تصور یہاں تک دیا ہے کہ کھجور کی گٹھلی سے لگے پوست کا صدقہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ جب ذوقی سطح پر کسی خواہش کا اظہار کیا جائے تو اس سے قوتِ ارادی میں اضافہ ہوتا ہے۔حضورؐ نے فرمایا “اس وقت تک کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک دوسرے کے لیے وہ چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے” یہاں ایمان کی نفی نہیں بلکہ کمالِ ایمان کی نفی کی گئی ہے۔ایثار کے حوالے سے اہلِ بیت کی خدمات کو الفاظ میں سمیٹنا نا ممکن ہے۔آج حجاز ِ مقدسہ میں صحابہ ءِ اکرام کی قبروں کی تعداد صرف 800 ہے۔باقی صحابہءِ اکرام معاشرتی فلاح کے لیے پوری دنیا میں پھیل گئے۔اسلام ہمیں دین و دنیا دونوں میں کامیابی کا درس دیتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ حضورؐ گھر میں کونسی دعا زیادہ مانگتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا
“اے اللہ مجھے دنیا میں بھی حسنہ عطا فرما اور آخرت میں بھی حسنہ عطا فرما”
پھل کو کھانے کے بعد جسم میں جو توانائی پیدا ہوتی ہے عربی میں اسے حسنہ کہتے ہیں۔خطبہ الہ آباد میں علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کی ناکامی کا سبب یہ بتا یا ہے کہ مسلمانوں نے مادے اور روح کو ایک دوسرے سے الگ سمجھ لیا ہے۔اسی لیے معاشی، تعلیمی، سائنسی اور اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہیں۔اقبالؒ نے اہلِ مغرب کی بھی اس کوتاہی کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ صرف دنیاوی مقاصد کو مقدم سمجھتے رہے
نہ مشرق اس سے بری ، نہ مغرب اس سے بری
جہاں میں عام ہے قلب و نظر کی رنجوری
ہمیں دینی و دنیوی ترقی دونوں کے لیے فکر مند رہنے کی ضرورت ہے۔ہمارے پاس بہت سے ذرائع(Resources) ہیں ۔اگر کمی ہے تو Integration کی۔علامہ اقبالؒ نے بھی اس شعر میں اپنے ذرائع بروئے کار لانے کی طرف اشارہ فرمایا ہے
خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو
. سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا
اس کے بعد سوال و جواب کا سیش شروع ہوا۔حاضرینِ مجلس کی پر تاثیر گفتگو سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے
- فلاحِ معاشرہ کے لیے عملی سطح پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
- فورم کے ممبران باہمی مشاورت سے Action Plan مرتب کریں تا کہ اسے عملی شکل دی جا سکے
- Institutional Level پر معاشرے کی بنیادوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
- فلاحِ معاشرہ کی پہلی ذمہ داری ریاست کی ہے۔فورم چراغ سے چراغ جلا کر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
- ہمیں اپنی ذمہ داریوں پر بھی غور کرنا چاہیے۔
اس کے بعد محترم کرنل نوید ظفر نے “خرد” کے عنوان پر روشنی ڈالی
آخر میں صدرِ محفل محترم جنرل حمید الدین نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ان کی گفتگو کو سراہتے ہوئے کہا کہ سب نے بامقصد اور با معنی گفتگو کی ہے ۔فورم کے حوالے سے میں پر امید ہوں۔نوجوانوں کو فورم کی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ مستقبل کے رہنما ہیں۔جب بھی کسی کام کا آغاز کیا جائے تو شروع میں مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن جلد ہی مثبت اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں۔
شرکا ء کے نام
زید گل خٹک، جنرل حمید الدین، جنرل نیاز کوثر، برگیڈئیر خالد، برگیڈئیر منیر

