قربانی کا توسیعی فلسفہ

اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن

جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا

علامہ اقبالؒ

 

عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور کی قربانی(ذبیحہ) مسلمانوں کی مذھبی روایت کا حصہ آرہا ہے۔لفظ قربانی سے زیادہ ضحایا اس عمل کے لیے انسب اصطلاح ہے لیکن ہمارے ہاں قربانی کا لفظ مروج ہو گیا ہے۔اس کی علت یہ ہے کہ اس عمل کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے سو اس کی انجام دھی قربانی کے لفظ سے موسوم ہوئی۔

ضحایا کا ایک متبادل لفظ نَحَر بھی ہے۔سورۃ الکوثر میں آیا ہے۔اس نسبت میں سے 10 ذوالج کو یومِ النحر کہتے ہیں ۔چونکہ اُس دن حجاج رمی سے فارغ ہو کر بشرطِ استطاعت جانور کا ذبیحہ کرتے ہیں۔یاد رکھیں اگر کسی مقتصد(Pilgrim)  کے پاس استطاعت نہ ہو تو اُس پر قربانی نہیں ہے۔

مقامی کے لیے 10 ذوالحج کو جانور کا ذبیحہ یعنی ضحایا کرنا کس حکم کا حامل ہے۔اس خاص حوالے سے اس عمل کے پسِ منظر کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔صدرِ ختمِ نبوت میں گلہ بانی کا رجحان عام تھا۔عرب کی بدوی ارضیات ذراعت سے کہیں ذیادہ گلہ بانی کے لیے سازگار تھیں۔مختلف تہواروں حتیٰ کہ دعوتوں پر بھی جانور  کو ذبح کر کے دستر خوان سجانے کا رواج تھا۔زائرین جب حرم ِکعبہ آتے تب عرب حضروی سردار اُن کے لیے بھیڑ بکریاں کٹواتے تھے۔یہ شاید اُس عمل کا بدلہ تھا کہ زائرین شکرانوں اور چڑھاووں سے لدے ہوتے آتے تھے۔

رسو ل اللہ ؐ کا خانوادہءِ اشرف متولیینِ کعبہ کی حیثیت سے زائرین کے لیے خوردو نوش کا بے لوث اہتمام فرماتا تھا۔سیدنا ھاشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لنگرثرید   سے مملو رہتا تھا۔

الغرض اس پسِ منظر سے جانور کی قربانی کا تصور بھی اٹھا اور ہمارے مذھبی تہوار کا جزوِ لا ینفک بن گیا۔اس کے علاوہ جانور ایک جنسِ استعمال کے طور پر بھی مزبوح ہے۔چونکہ یہ وسائل ِ حیات ہیں جو انسان کے لیے میسر ہیں اور مخلوق میں اللہ ذوالمنن کی سنۃ شروع سے یہی رہی ہے کہ بعض بعض کے لیے قربان ہو جاتے ہیں ۔ظاہر ہے اس کریم کا حق ہے مخلوق میں  تصرف کرنا۔انسان بھی اُس کی ارفع منشا یعنی اعلائے کلمۃُ الحق کے لیے قربان ہو جاتا ہے۔

قربانی کی علت میں توسیعِ نعمت کا بھی بہت سارا عمل دخل ہے۔سال میں ایک مرتبہ اس عملِ ضحایا کو وسیع پیمانے پر منعقد و انصرام کرنے کا مطلب یہ بھی چلتا آ رہا ہے کہ مفلوک الحال شخص کا دستر خوان بھی مشتہاتِ لحم سے مزین ہو جائے۔

اب رہا مسئلہ قربانی یعنی ضحایا کا جو ہمارے ہاں زور و شور سے روبہء عمل ہے تو عرض یہ ہے کہ معدودے چند فقہا (Jurisprudents)  کے نزدیک مقامی کے لیے واجب ہے۔بعض کے نزدیک واجب کفایہ ہے۔اکثر کے نزدیک مسنون مئوکد ہے،کچھ کے نزدیک مئوکد کفایہ یعنی مستحب بھی ہے۔خیر یہ تنوع و تبسیط تو فقہاء کے ہاں جزوی اور فروعی سطح پر موضوعِ بحث ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ توسیع کا رجحان بھی موجود ہے۔جس سے سرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا ۔

یعنی کیا قربانی کا پیسہ کسی اور توسیعی ، فلاحی اور رفاہی غایت کے طور پر لگایا جا سکتا ہے ?

تو عرضِ حال یہ ہے کہ قربانی تو قربانی اہلِ نظر و بصر نے سفر  ِ  حج سے واپس آ کر اور ارادہءِ حج ترک کر کے اُس زادِ راہ کو بھی خلائق کی فلاح پر لگایا ہے۔آثار کی کتب میں ایسے سینکڑوں واقعات ہماری دعوتِ فکر کے لیے کافی ہیں۔اُن واقعات و آثار سے اسلافِ عظام کے دینی مزاج کا پتہ چلتا ہے کہ وہ فلاح و رفاہ وہ بہبود کو واجبات پر بھی ترجیح دیتے تھے۔حضرت عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک طالبِ علم کی ضرورت پوری کرنے کے لیے مسنون عمل یعنی اعتکاف کو چھوڑ دیا تھا۔حضرت عبداللہ الموفقؒ نے حج کے لیے پس انداز رقم ایک نادار کے حوالے کر دی۔لیکن ہم فلاح و رفاہ سے یکثر بے نیاز اپنے مذہبی تسکین میں مصروف ہیں اور اس کو Justify  کرنے کے لیے ہمارے پاس مبرم دلائل ہیں۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ لزوم و ضرورت کے لیےحکمت و تدبیر بھی ایک دلیلِ شرعی ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قحط زدہ علاقے سے حدود و تعزیر کی پابندی اٹھا لی تھی۔سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے ذمیوں(Minorities)  کی بحالی ء معاش کے لیے ان کو مولفۃ القلوب قرار دے کر زکوۃ کا پیسہ بھی اُن پر صرف کرنے کا حکم عطا فرمادیا تھا۔

یہ دراصل وہ اعلیٰ فکری رسائی (Elegant Approach)  ہے جس کی آج ضرورت ہے کہ ہم روایت و نمود و نمائش (Tradition & Fashion)   سے بالا تر ہو کر زرو مال کا موئثر و منظم استعمال کر کے تعلیمی اور سماجی فروغ و استحکام کی بَنا ڈالیں۔

روح فورم اسوہءِ حسنہ کی ترویج بوسیلہ فکرِ اقبالؒ  کے لیے کوشاں ہے اور معاشرے میں مثبت رجحانات کے فروغ کا خواہشمند ہے۔تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو رکنیت کی دعوت دی جاتی ہے

.

روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد 0335-7771005، 0515162023

اگست 7، 2018