کعبۂ ارباب فن سطوتِ دینِ مبیں
تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں

فنِ تعمیر کی تاریخ انسان کے زمین پر قدم رکھنے سے شروع ہوتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ اس میں جدت پیدا ہوتی رہی۔تذئین و آرائش کے نئے نئے پہلو اجاگر ہوتے رہے۔سیدنا آدمؑ نے بیت اللہ کی تعمیر کے بعد اپنے لیے جو گھر بنایا اس کو جھونپڑی (Hut) کہا جا سکتا ہے۔یوں ہمیں اس ابتدائی مکان سے ہوادار اور روشن رہائش کا تصور ملتا ہے۔رسول اللہ ؐ نے کھلے اور ہوادار گھر بنانے کی ترغیب دی ہے تا کہ ان میں ہوا اور روشنی کا گزر ہو۔چونکہ یہ دونوں چیزیں حفظان ِ صحت کے لیے اشد ضروری ہیں۔
برِ صغیر میں ہنود کے ہاں تنگ و تاریک گھروں کا رواج تھا۔گویا ان کی تنگ نظری کے اثرات فنِ تعمیر پر بھی مرتب ہوئے۔جب اس خطے میں صوفیاءِ اکرام کی آمد ہوئی تو ان کے دم قدم سے جہاں خیالات اور نظریات پاکیزہ ہوئے وہاں تعمیرات کے میدان میں بھی انقلابی رجحان رونما ہوا۔
رسول اللہ ؐ نے حضرت سعد بن عبادہؓ سے ایک مرتبہ فرمایا
“سعد! سعادت تین چیزوں میں ہے۔فرمانبردار اہلِ خانہ میں، اچھی سواری میں اور وسیع صحن والے کھلے ہوا دار مکان میں”
ایک صحابی حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کو سرکار ِ رسالت مآبؐ نے کمرے میں روشندان بنانے کا حکم دیا تھا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھر کے حوالے سے آپؐ کا تعمیراتی نقطہ ءِ نظر کیا تھا۔
قرآنِ عظیم میں اہلِ ایمان کو ترغیب دی گئی ہے کہ اپنے گھروں کو ہوا اور روشنی کے رخ پر بناو۔رسول اللہؐ نےبہتے پانی کے قریب پڑاو کرنے کا حکم دیا تھا۔کیونکہ بہتا ہوا پانی آلائشوں سے پاک ہوتا ہےاور گدلا نہیں ہوتا۔حضورؐپانی کو استعال کرنے کے وقت بلندی سے پستی کی طرف بہاو کا حکم فرماتے تھے۔اس سے ہمیں استعمال شدہ پانی کے نکاس کا تصور ملتا ہے۔
ایک موقع پر حبیب کبریا ؐ نے پہاڑ کے دامن میں گھر بنانے کا بھی ذکر فرمایا جس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ زرعی زمین پر گھر بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ابنِ خلدون نے مقدمہ التاریخ میں اور ابن ندیم نے فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ اہلِ اسلام کے ہاں پہاڑوں کے دامن میں اور بہتے پانی کے قریب گھر بنانے کا رواج تھا اور قابلِ کاشت زمین میں فصل اگانے کا رجحان رہا ہے۔سمندر کے قریب رہائشی کالونی سے بندرگاہ اور تجارتی مراکز کا تصور ابھرتا ہے۔
آج فنِ تعمیر میں ان تمام باتوں کا خیال رکھنا اور ان رجحانات کا احیاء بہت ضروری ہے تا کہ آباد کاری کی موثر اور مفید منصوبہ بندی ہو سکے۔
ریپڈ کنسٹرکشن (Rapid Construction) ایسا تعمیراتی ادارہ ہے جو روح فورم کے زیرِ سایہ کام کر رہا ہے اور اس کی بنیاد اسوہءِ حسنہ پر رکھی گئی ہے۔اس ادارے نے کئی چھوٹے بڑے تعمیراتی منصوبے کامیابی سے مکمل کیے ہیں اور ایک منفرد معیار کی مثال قائم کی ہے۔
سرکاری، پرائیویٹ، ملکی اور غیر ملکی سطح پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھنے والے اس ادارے کے عہدہ داران اور کارکنان اعلی ٰ تکنیکی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔احباب نہ صرف فنِ تعمیر میں اس ادارے کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ تعمیراتی منصوبوں کے لیے مشاورت اور سرمایہ کاری بھی کی جا سکتی ہے ۔ اس سلسلے میں روح فورم کے مرکزی دفتر یا اس کی ویب
سائٹ www.rc.com.pkسے تفصیلات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
