فنونِ لطیفہ مثلاََ تصویر کشی اور موسیقی میں ہمارا معاشرہ الجھاؤ کا شکار ہے۔با لخصوص جب کہ ان ہردو کی ساخت و ترتیب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے ارتقاء سے فلم اور ٹیلی ویژن کا رواج پڑگیا ہے۔ٹیلی ویژن ایک سائنسی اسلوب ہے جو نئی نئی اخلاقی اقدار کو جنم دیتا ہے۔فنی خواہشات کو اُبھارتا ہے اور نوجوانوں میں نت نئے رجحانات پیدا ہونے کا باعث بنتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ قبل اس کے کہ ہم اس کے نفع اور ضرر کو اپنے ہاں تہذیبی ترازو میں تول کر دیکھتے۔ اس کی افادیت و اہمیت کا اندازہ کرتے، یہ ہمارے گھروں میں گھُس آیا ہے۔حتیٰ کہ اب ضرورتوں میں شمار ہونے لگا ہے
سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ اس مشکل کو کیسے اور کیونکر حل کیا جائے اور اس کے نقصان دہ پہلوؤں اور اثرات سے نسلِ نو کوکس طرح محفوظ رکھا جائے۔یہ بات تو طے ہےکہ سائنس او ر ٹیکنالوجی کی تیز رفتاریوں سے اُبھر کر جو نتائج معاشرے میں پھیلتے ہیں ان کو کسی بے جان فقہی بحث و جدال اور غیر مؤثر اور غیر منفذ عدم جواز کے فتویٰ سے روک دینا ممکن نہیں۔آخر آپ کس کس ایجاد کی مخالفت کریں گے ۔کس کس اصول، مسلمہ اور اختراع کے آگے دیوار چنیں گے اور سائنسی و ٹیکنالوجی کے سیلاب ِ سیل ِ رواں کے سامنے بند باندھیں گے۔ہم زیادہ دور کیوں جائیں، کیا ماضی قریب میں علوم و فنون اور تحقیق و تجسس و ایجاد کے ریلوں کو کوئی روک سکا ہے۔گزشتہ تین صدیوں میں چرچ اور سائنس میں جو معرکہ آرائیاں رونما رہی ہیں، کیا ان کی روداد ہر ذی فہم کو معلوم نہیں ہے۔سائنس دانوں کو چرچ کے فتوؤں کے تحت شہری مراعات سے محروم رکھا گیا۔کلیسا کے مزعومات کے خلاف لب کشائی کرنے والے اہلِ خرد کو بے دریغ جیلوں میں ڈالا گیا۔سولیوں پر لٹکایا گیا۔آگ میں زندہ جھونکا گیا۔تعزیر و تعذیب کی یہ ہولناکیاں کیا آڑے آنے میں کامیاب گئی تھیں۔ان تمام مزاحمتوں کے علی الرغم علوم و فنون اور خرد افروزی کے قافلے برابر آگے بڑھتے رہے اور وہ مذہب جس نے سائنس کے خلاف رزم آرائی کی تھی، مغرب میں ہمیشہ کے لیے اپنا وقار کھو بیٹھا۔
خود مسلمانوں کے ادوارِ ملوکیت میں اکثر اہلِ خرد اور فلاسفہ و متجددین، ابن ِ سینا ؒ، ابو نصر فارابیؒ، کندیؒ، ابنِ رشدؒ، ابنِ طفیلؒ، ابنِ ماجہؒ، ابن مسکویہؒ، ابنِ عربیؒ ، ابنِ ہیثم اور اخوان الصفا وغیرہ پر کفر کے دھواں دار فتوے لگے۔ایسے علما ء نے یہ فتوے لگائے جو آج تک ہمارے مذہبی حلقوں میں شیخ الاسلام اور حجۃ الدین و الملۃ کے ضوفشاں القاب سے مشہور ہیں۔مشرق میں کافر قرار پانے والے یہ بزرگ فلاسفہ یورپ میں مُتَرَجَّم (Translate) ہوئے، ان کی فکریات سے سائنس کی بَنا پڑی اور ایک نئی اور ہوش ربُا دنیا تعمیر ہوئی۔ہمارے پاس کہنےکو صرف اتنا کچھ رہ گیا کہ یورپ میں سائنسی انقلاب مسلمان فلاسفہ کے رشحات ِ فکر سے آیا۔کیا ان تاریک خیالوں کی مذمت تک بھی کسی نے کی جنہوں نے اپنے پندار کو برقرار رکھنے کے لیے ان فرزندانِ اسلام پر فتوے لگائے ۔حق یہ ہے کہ جب انسانی ذہن بیدار ہو جائے، جب اس میں تلاش و تحقیق کے داعیے جاگ اُٹھیں تب کوئی چیز نتیجہ خیز طور پر مزاحم نہیں ہو سکتی اس کی راہ میں جب زمین اپنے خزانے اُگل دے، کوئی راز ، راز نہ رہے، انسان کا دستِ شوخ آسمان کے گریباں تک جا پہنچے، ان حالات میں کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی اُلٹی زقند زمانے کے رُخ کو پھیر دے، کیا اس طرح کا ماحول برپا کیا جا سکتا ہے کہ انسانی فکر سائنس کے وہ مسلمات جن کی توسط سے ٹیلی ویژن ایکسرے وغیرہ نے جنم لیا ہے، یکسر بھول جائے۔کیا تجربات کے فطری عمل کو روکا جا سکتا ہے، ہر گز نہیں، ہم فتوؤں سے ارتقائی تقاضوں کا گلا گھونٹ سکیں، یہ قطاِِ ممکن نہیں۔اس کے علاوہ اس کے افادی پہلوؤں سے کلیتاََ محرومی معاشرے کے حق میں ظلم بھی ہے۔اس صورت میں دین کا حکیمانہ اندازِ فکر، جس کی طرف کتاب اور صاحبِ کتاب ﷺ نے بلیغ اشارے فرمائے ہیں ،کا داعیہ مجبور کرے گا کہ ہم ا پنے اجتہاد کو حرّیت پسندانہ اندازِ استدال سے آگے بڑھا کر افادیت و استبصار کے وسیع تر سانچے میں ڈھالیں، اس کا رُخ موڑ دیں اور یوں سوچیں کہ ان ایجادات اور متجددات سے اور تصویر و آھنگ کے اس امتزاج سے قومی و ملی روایات کے احیاء کا کام کس طرح لیا جا سکتا ہے۔ہم ان چیزوں کو نژادِ نو کی تربیت کےلیے کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔تصویر و نغمہ، اشتمالی کاروباری رویے، دیگر نت نئے ابھرتے ہوئے عصری تقاضے، اس نکتہءِ نظر سے دیکھے جانے چاہیں کہ ان کی افادیت کو کیسے معین و میسر کیا جا سکتا ہے۔اب اندازِ فکر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے حق میں یا مخالفت میں جو دلائل محدثین و فقہا و صوفیاؒ کے مابین باعثِ نزاع(Bone of Contention) بنے رہے ہیں، ان میں قومی ترقی کا منہج(Opinion) ہے اس لیے کہ اس فکری نہج (Thinking Mode) سے کچھ ہونے والا نہیں۔
آخر ان چیزوں کو رد کرنے کے بجائے بالیدگی کے سانچے میں ڈھال کر، تعلیمی، تدریسی، تخلیقی اور تہذیبی مقاصد کی تکمیل کے لیے بھی تو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
روح فورم ان تمام فطری اور جمالیاتی اختراعات کو بالیدہ اور نفیس کرنے کا خواہاں ہے۔خواہ و شعر و نغمہ و آھنگ ہو یا اشتمال و انمیاد و اشتراکِ کاروبار ہو تا کہ ان میں افادیت پیدا کر دی جائے اور ان سے تعلیم و تربیت اور قومی و ملی روایات کے احیاء کے لیے فائدہ اٹھا جائے۔بقول حکیم الامت علامہ اقبالؒ
نقش ہیں سب نا تمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد
فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005
:ruhforum@gmail.com