عشق لافانی قوت ہے، عشق روح کا شباب ہے۔مشہور صوفی بزرگ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ فرماتے ہیں:-
ہر بلند نور کو ماتحت نور پر غلبہ حاصل ہوتا ہے اور ماتحت نور کو بلند نور کی طرف کشش نصیب ہوتی ہے۔بس اس جزبِ باہم سے کائنات قائم ہے
نیوٹن سے پہلے حضرت رومؒ اور شیخ سہروردیؒ نے دنیا والوں کو بتا دیا تھا کہ کائنات اور نظامِ کائنات کشش(Gravity) سے عبارت ہے اور وہ عشق ہے۔قرآن و حدیث میں وُدّ (Wudd) کا لفظ عشق کا ترجمان ہے۔متکلمین ِ اسلام میں حضرت جلا ل الدین رومیؒ اور حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے عشق کے مضمون میں وسعت اور شدت پیدا کی۔حضرتِ رومؒ عشق کو زندگی کی قوتِ محرکہ سمجھتے ہیں جس کے ذریعے زندگی ذوقِ تخلیق اور لذتِ ارتقاء سے بہرہ ور ہوتی ہے۔عشق ہی کی جوش انگیز رہنمائی میں انسان زندگی کے ارفع نصب العین یعنی ذاتِ حق تک رسائی میں کامیاب ہوتا ہے
مولانا رومؒ فرماتے ہیں:-
عشق سلطان است و برہان ِ مبین
ہر دو عالم عشق را زیرِ نگین
عشق قوت بھی ہے اور دلیل بھی اور دونوں عالم کو فتح کرنے کی سبیل بھی ہے
حکیم الامت علامہ اقبالؒ عشقِ الہیٰ کو منزل او ر عشق ِ مصطفیٰؐ کو وسیلہء اعظم قرار دیتے ہیں
شعلہء در گیر زد ہر خس و خاشاکِ من
مرشدِ رومی گفت منزلِ ماکبریااست
میرے وجود نے پکڑ لیا شعلہ-جب رومیؒ نے کہا میری منزل ہے کبریا
رسول اللہ ؐ کی محبت جانِ کائنات اور شعورِ حیات ہے۔آفتاب بھی اس سے روشن ہے۔ماہتاب بھی اس سے منور ، شعر کا حسن بھی ذکرِ مصطفیٰؐ سے ہے اور ادب کی رونق بھی بیانِ چہرہ ءِ والضحیٰ ہے۔اسی جذبہ سے کائنات میں رنگ ہے۔
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، درد لا دوا پایا
(غالب)
پشتو زبان کے عظیم صوفی شاعر حضرت بابا عبد الرحمان ؒ فرماتے ہیں
دَا جہان دِ خدائے لہہ عشقہ پیدا کمے
دَجملہٰ و مخلوقا تو پلا دے دا
ماحصل
عشق ِ ا لہیٰ اور عشقِ رسول ؐکے تقاضوں سے شناسائی حاصل کرتے ہوئے ہمیں مقصدِ حیات پر نہ صرف خود توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ نئی نسل میں بھی یہ شعور بیدار کرنا چاہیے تا کہ وہ دنیاوی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی میں بھی سرخروئی حاصل کر سکیں

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد
فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005
:ruhforum@gmail.com