سیرت سازی کے سلسلہ وار لیکچرز کے تعارفی پروگرام کی رپورٹ

سیرت سازی کے سلسلہ وار لیکچرز کا تعارفی پروگرام 21 جنوری 2017، بروز ہفتہ، صبح 11 بجے روح فورم کے مرکزی دفتر،روح منزل، روف ٹاور، فورتھ فلور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ ، روات میں منعقد ہوا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے شرکت فرمائی۔

زید گل خٹک نے اس پروگرام کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ ہمارا معاشرہ  بہت سے تعلیمی، معاشی،سیاسی اور اقتصادی مسائل کا شکار ہے۔نوجوان نسل اسلامی تہذیب و تمدن سے دور ہوتی جا رہی ہے۔والدین اور اساتذہ  کے حقوق  و احترام سے غفلت برتی جا رہی ہے۔معاشرہ اخلاقی ابتری کا شکار ہو گیا ہے۔غربت و بے روزگاری بڑھتی جا رہی ہے۔نا امیدی اور یاسیت کی فضا قائم ہو گئی ہے۔لوگ اپنے اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا نہیں کر رہے۔ہمارے تعلیمی نظام پر مغریبی تہذیب کے اثرات نمایاں ہو گئے ہیں۔ہم اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں۔ہر شخص انفرادی طور پر اہم ہے۔اسوہءِ حسنہ ہر زمانے میں رائج رہا۔مگر برِ صغیر میں علامہ اقبالؒ کو  اسوہءِ حسنہ کی ترویج کے لیے علمی دولت سے نوازا گیا۔آپ نے اپنے افکار کے ذریعے ابتری کی شکار قوم کو  مایوسی اور غفلت کے اندھیروں سے نکالا۔آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو اسوہءِ حسنہ اور فکرِ  اقبال ؒ سے روشناس کرایا جائے  تا کہ وہ درست سمت کا تعین کر سکیں۔

برگیڈئر منیر نے کہا  کہ اگرچہ آج کے اجلاس میں  شرکاء کی تعداد کم ہے مگر  تاریخ گواہ ہے کہ کم لوگ ہی کسی میدان میں مثبت قدم اٹھاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کی کاوشوں سے زمانہ فیض یاب ہوتا ہے۔ہمیں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

کرنل سید مرتضی علی شاہ نے کہا کہ خود احتسابی روح فورم کے آغاز کی محرک بنی۔پہلے خود سوچا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے۔اسی سوال نے اسوہءِ حسنہ کے احیاءکی طرف راغب کیا۔ہمیں چاہیے کہ کلمہ طیبہ کو عملی طور پر سمجھیں۔افراد کا تعلق کسی بھی شعبہ، ملک یا علاقے سے ہو۔کلمہ طیبہ انھیں ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرتا ہے اور ایک ہی طرح کے مقاصد کے حصول کے لیے متحرک کرتا ہے۔ہمیں معاشی، تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے لیے اپنی اصلاح کرنی ہے اور سوچنا ہے کہ کونسی خامیاں ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ہمیں متحد ہو کر حالات بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔والدین اولاد کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں۔اولاد کی تربیت کے لیے  والدین کا ان احکامات سے آشنا ہونا ضروری ہے جو اسوہءِ حسنہ سے ہمیں ملتے ہیں۔اگر آج ہم نے نئی نسل کی کردار سازی پر توجہ نہ دی تو جلد ہی اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے۔روح فورم کا آغاز ہم نے کر دیا ہے۔اس کے مقاصد کے حصول کے لیے سب نے مل کر کوشش کرنی ہے اور یہ سلسلہ اس کے اراکین نے آگے بڑھانا ہے۔ہماری کوشش ہے کہ اس کے ممبران کی تعداد میں اضافہ ہو اور وہ بھی اسوہءِ حسنہ کی ترویج کے لیے اپنی کوششیں جاری  رکھیں۔

شرکاءِ اجلاس نے فورم کے ساتھ منسلک رہنے کی یقین دہانی کرائی اور  اپنے تاثرات بیان  کرتے ہوئے مندرجہ ذیل  باتوں کا اظہار فرمایا۔

  • موجودہ عہد میں بچوں کی اخلاقی تربیت(Character Building) اشد ضروری ہے۔
  • ہمیں خوشی ہوئی کہ روح فورم کے پلیٹ فارم پر کردار سازی کے حوالے سے قابلِ قدر اور علمی شخصیات موجود ہیں۔
  • علامہ اقبالؒ کے افکار سے نئی نسل کو روشناس کرانا عہدِ حاضر کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے فورم کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔
  • کردار سازی اور اخلاقی تربیت کے لیے لیکچرز کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور والدین و اساتذہ کو چاہیے کہ نہ صرف خود شرکت کریں بلکہ اپنے بچوں اور اقربا کو بھی ان میں شرکت کی دعوت دیں۔
  • ہم فورم کا پیغام دوسرے لوگوں تک بھی پہنچائیں گے تا کہ  اس کے اراکین میں دن بدن اضافہ ہو۔

گفتگو سمیٹتے ہوئے جنرل حمید الدین نے کہا کہ ایک جگہ مباحثہ ہوا کہ لیڈر بنتے نہیں بلکہ پیدا ہوتے ہیں۔اس مباحثے سے جو نتیجہ اخذ کیا گیا وہ یہ تھا کہ آرٹ کے ذریعے لیڈر بنائے بھی جا سکتے ہیں ۔آرٹ کی ذریعے بعض لوگوں کی خوبیوں کو نکھارا جاتا ہے جو بعد میں بڑی شخصیت کی حیثیت سے ابھرتے ہیں۔ہمارے پاس اسوہءحسنہ ہے جس کے ذریعے نئی نسل میں لیڈر شپ پیدا کی جا سکتی ہے۔روح فورم نے ایک درد کے ساتھ اس مشن کا آغاز کیا ہے اور امید ہے کہ شرکاءِ اجلاس مستقبل میں اپنا اپنا کردار ادا  کریں گے

جن احباب نے شرکت فرمائی ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں

زید گل خٹک، جنر ل حمید الدین، کرنل مرتضی علی شاہ،  برگیڈیئر منیر، برگیڈیئر حامد عبداللہ،محترمہ عفت یاسمین، محترمہ مریم افضل، ڈاکٹر سمیرا  ارشد، محترمہ فاطمہ ارشد، محترمہ سمن مرتضی، سید علی رضا، سید جابر عباس، میاں محمد ریاض، محترمہ ربینہ فواد

Slide7