سماع کی شرعی حیثیت

اسلام دینِ فطرت ہے۔فطرت جمال اور توازن سے ہم آھنگ ہے۔ترنم یا خوبصورت آواز طبیعت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ ایک فطری عمل ہے۔کائنات میں نغمگی ایسے سمائی ہوئی ہے جیسے جسم میں روح۔چشموں اور آبشاروں کی آواز، پرندوں کی چہکار، بلبل کا نالہ، صبح چلتی ہوئی اثر انگیز ٹھنڈی ہوا، نظام ِ قدرت میں شامل قدرتی موسیقی ہی تو ہے۔رسول اللہ ؐ کا ارشاد ہے

اَللہ ُ جَمیِلُٗ وَّ  یُحِبُّ الْجَمَال

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فطرت کو پروان چڑھانے کا نام اسلام ہے۔انسان کو ذوقِ جمال  ، جمیلِ مطلق یعنی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔حضرت علی بن عثمان ہجویری ؒ نے بالکل درست فرمایا ہے

“جو شخص کہتا ہے مجھے خوش آوازی متاثر نہیں کرتی وہ یا تو جھوٹا ہے یا بد ذوق ہے”

حکما ءِ اسلام میں شیخ ابو نصر فارابی ؒ فرماتے ہیں” جب کوئی چیز انسانی فطرت کا حصہ ہوتی ہے تو اسلام کبھی اس کو حرام قرار نہیں دیتا۔بلکہ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔غصہ طبیعت کا حصہ ہے۔اسلام اس کی حد متعین کر کے اس کو غیرت  و حیا کے روپ میں ڈھال دیتا ہے تا کہ جذبات مثبت مقاصد کے لیے ابھر سکیں۔آواز طبیعت پر اثرانداز ہوتی ہے۔اسلام اس کو نفاست میں پرو کر  روحانی  تسکین اور دل و دماغ کی تازگی کے لیے بروئے کار لاتا ہے

حضرت فارابی ؒ نے فنِ موسیقی پر دو لازوال کتابیں لکھیں اور کئی ساز بھی ایجاد کیے۔امام ابو حامد غزالیؒ فرماتے ہیں”موسیقی ایک ذوق ہے۔بے ذوق شخص اس کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہے” امامِ والا تبار نے بھی موسیقی پر کتاب لکھی جس میں انھوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ  کسی بھی کلام کو موسیقی کے آلات استعمال کرتے ہوئے پڑھاجائے تو یہ شرعاً مباح ہے اور سماع کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہو تو مستحب ہے۔حضرت جنید بغدادیؒ  فرمایا” سماع کے موقع پر  سالکین پر خاص رحمت نازل ہوتی ہے چونکہ  اس وقت ان کی توجہ اللہ کی طرف ہوتی ہے”

حضرت شیخ دینوری ؒ فرماتے ہیں” میں نے خواب میں حضورؐ کو سماع کی محفل میں حالتِ وجد میں دیکھا۔تب سے میں سماع کا قائل ہو گیا۔اس سے پہلے میں مختلف فقہاء کی رائے جان کر پریشان رہتا تھا”

موجودہ دور میں اختلافات بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض علمائے دین کسی بھی عمل پر حلال و حرام کا فتوی ٰ جاری کر دیتے ہیں حالانکہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کے علاوہ یہ اختیار کسی کو نہیں۔اگر ہم صرف یہی بات سمجھ جائیں تو بہت سے مسائل خودحل ہو جائیں گے۔

کسی مسئلہ کی وضاحت درکار ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے کتاب اللہ ، پھر سنتِ رسول ؐ کی طرف رجوع کیاجائے ۔اگر  معلومات فراہم نہ ہوں تو اہل ِ بیت اور صحابہ ءِ اکرامؓ کی روایات دیکھی جائیں ۔اس کے بعد علماء و فقہا کی تحقیق سے کام لیا جائے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر موسیقی باطل مضامین پر مبنی ہے تو حرام ہے۔لیکن کیا وہ لوگ بھی درست ہیں جو سر کے درد کا علاج، سر کو کاٹ دینا بتاتے ہیں۔یہ شدت پسندی ہے ۔نفیس نغمہ کے بارے میں تین مکاتبِ فکر رہے ہیں

  1. محدثین

جو اس کے مباح ہونے کے قائل ہیں یعنی شریعت میں اس سے منع نہیں کیا گیا

  1. فقہا

ان میں سے کچھ جواز کے قائل ہیں اور کچھ اس کو حرام قرار دیتے ہیں

  1. صوفیاءِ اکرام

دل و دماغ کی روحانی تسکین کے لیے جائز سمجھتے ہیں اور  قرب الہیٰ کے لیے مستحب

اب کچھ حوالے قرآن و سنۃ کے پیشِ خدمت ہیں

ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ (سورۃ الذخرف، آیۃ 70)

تم اور تمہاری ازواج جنت میں داخل ہو جاو جہاں تمہیں نغمے سنائے جائیں گے

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ (سورۃ ارعم، آیۃ 15)

جو لوگ ایمان لائے اور اس کے مطابق عمل کیے وہ جنت کے بالا خانوں اور چمن میں نغمے سن رہے ہوں گے

حَبَرَ کا ترجمہ عام طور پر خوشخبری، خوشی اور مسرت کیا گیا ہے۔یہ غلط نہیں ہے لیکن اصل ترجمہ وہ ہے جو اہلِ لغت اور اہلِ نحو نے کیا ہے۔مرتضیٰ حسین زبیدی ؒ تاج العروس میں لکھتے ہیں

“حبرہ سے مراد بہشتی نغمہ ہے اور زجاجؒ نے اس آیۃ کو تفسیر یہی کی ہے اور کہا ہے کہ حبرۃ لغت میں اچھے گانے کو کہتے ہیں”ایک اور مایہ ناز ماہرِ لغت شیخ عبد اللہ البستانیؒ اپنی کتاب (لغۃ البستان) میں لکھتے ہیں

” الحبرۃ کا مطلب ہے ہر عمدہ گانا اور خاص طور پرجنت میں گانوں کا سننا”

کتاب التعرف فی ا لتصوف میں امام کلابادیؒ لکھتے ہیں”قال مفسرون یحبرون بالسماع”(اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ ان کو سماع سے خوش رکھا جائے)

اب وہ احادیث ملاحظہ فرمائیں جن میں کثرت سے سماع کا ذکر ہوا ہے

  • ربیع بنت معوذؓ سے روایت ہے حضورؐ میری شادی کے موقع پر ہمارے ہاں تشریف لائے اور میرے سامنے جلوہ افروز ہوئے۔کچھ بچیاں دف بجا بجا کر گارہی تھیں (بخاری شریف)
  • حضرت عائشہ ؓ روایات فرماتی ہیں میں نے ایک انصاری بچی کی رخصتی کا اہتمام کیا تو حضورؐ نے فرمایا”اے عائشہ ؓ ۔کیا آپؓ نے لہو (گانا) کا انتظام نہیں کیا، انصار تو گانے کو پسند کرتے ہیں(صحیح بخاری)
  • حضرت عبداللہ ابنِ عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا اس لڑکی کے رخصتی کے وقت نغمہ خواں خواتین کو ساتھ کیوں نہیں بھیجا جو کہتی ہیں۔۔ایتناکم ایتناکم (سنن ابن ماجہ)

اس روایت سے تو یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آقائے نامدارؐ نے نغمہ کے بول بھی سکھائے

  • اے عائشہ ؓ ! آپؓ نے کوئی گانے کا اہتمام نہیں کیا۔انصار کا قبیلہ تو گانے کو پسند کرتا ہے (صحیح ابن حبان)
  • عامر بن سعدؓ روایت کرتے ہیں۔صحابہؓ نے فرمایا۔آپ کا دل چاہے تو بیٹھو ورنہ جا سکتے ہو، ہمیں تو ایسے موقع پر گانا سننے کی اجازت دی گئی تھی (سنن نسائی)
  • انس ابن مالک ؓ فرماتے ہیں۔حضورؐ نے مدینہ کی ایک گلی میں انصاری بچیوں کو دف پر نغمہ گاتے ہوئے پایا ۔ہم خوش نصیب ہیں کہ اللہ کا رسولؐ ہمارا پڑوسی ہے اور ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں۔اس پر حضورؐ نے فرمایا! اے انصار اللہ جانتا ہے کہ تم سے محبت کرتا ہوں (سنن ابن ماجہ)
  • سائب ؓ اور جمیرؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئی ہوئی ایک دف نواز اور تارا نواز کا نغمہ سنا تو فرمایا”کتنی خوش آواز ہے یہ خاتون” (سنن نسائی، معجم طبرانی)
  • حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکارِ رسالت مآب ؐ ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو ایک یمنی یا حبشی خاتون آپؐ کے پاس آئیں اور کہا یا رسول اللہ ؐ میں نے منت مانی تھی کہ جب آپؐ خیریت سے واپس آ جائیں گے تو میں دَف بجا کر گانا گاوں گی۔آپؐ نے گانے کی اجازت دے دی (جامع ترمذی)

اگر صحاح وسنن سے بھی ان روایات کو جمع کیا جائے تو تعداد سینکڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔

اب رہا اُس روایت کا ذکر جس میں آلاتِ موسیقی توڑنے کی بات ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ وہ خبر واحد ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اُن آلات کی بات کی گئی ہے جس کا انتظام کافر اور مشرک لوگ کرتے تھے اور ہاں شرکیہ کلام گایا جاتا تھا اور بدکاری و فحش کاری کی باتیں ہوتی تھیں۔ظاہر ہے ان چیزوں کا قلع قمع کرنا شریعت کا تقاضا ہے اور مسلمان کا فرضِ منصبی بھی

اب مختصر طور پر اساطین ِ اُمۃ کے نام درج کیے جا رہے  ہیں جو سماع کے قائل تھے

  • انبیاءِ اکرام میں حضرت داودؑ، حضرت ذوالقرنینؑ، حضرت موسیٰ ؑ، آقائے نامدار ؐ
  • اہلِ بیت میں حضرت جعفر ِ طیارؓ، حضرت عبداللہ بن جعفرؓ، حضرت امام حسن مثنیٰؓ
  • صحابہ ءِ اکرام میں عبداللہ بن زبیر، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ،عبدالرحمان ابن ِ عوفؓ، ابو عبیدہ ابن الجراحؓ، سعد بن ابی وقاص ؓ، ابو مسعود بدریؓ، عبداللہ بن ارقمؓ، اسامہ بن زیدؓ، حمزہ بن عبدالمطلب ؓ، عبداللہ بن عمرؓ، براء ابن مالکؓ، نعمان بن بشیرؓ،  حسان بن ثابت ؓ، عائشہ صدیقہ ؓ، ربیع بنت معوذؓبلال حبشیؓ
  • تابعین و تبع تابعین میں حضرت سالم بن عبداللہ ؒ، خارجہ بن زیدؒ، عبدالعزیز بن عبدالمطلب، عبدالرحمان بن حسان ؒ، عبداللہ بن محمدؒ ، ابراہیم بن سعدؒ (آپؒ بربط بجانے کے ماہر تھے)، امام ابو حنیفہ ؒ، صالح بن احمد ؒ بن حنبلؒ وغیرہ

ان کے علاوہ تقریبا ً تمام صوفیاءِ اکرام سماع کے قائل تھے۔حاصلِ بحث کے طور پر اتنا بتا دینا ضروری ہے کہ اس باب میں امام غزالیؒ کی کتاب فقہی طور پر نہایت جامع ہے اور ابو نصر فارابیؒ کی کتاب نظام النغمات فلسفیاتی اور منظقی طور پر نہایت وقیع ہے۔فارابی ؒ موسیقی کو بالکل ایک سائنس کی طرح بیان کیا ہے اور شریعت سے اس کا جواز بھی ثابت ہے

روح فورم مشاہیر  ِ ِ اسلام کے صوفیانہ کلام  کو معاشرے میں عام کرنا چاہتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں امید کے ساتھ ساتھ محبت و جڑت کا پیغام ہے جو معاشرتی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے اشد ضروری ہے۔اس سلسلے میں موسیقی میں دلچسپی رکھنے والے تمام خواتین و حضرات کو فورم کی ممبر شپ کی دعوت دی جاتی ہے ۔فورم کے مرکزی دفتر میں تمام سہولیات موجود ہیں  

شاعر کو نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو

جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا (اقبالؒ)

 

روح فورم