زراعت کا احیاء

اللہ نے انسان کی تخلیق مٹی سے فرمائی۔مشہور ماہرِ حیاتیات ابن المسکویہ ؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب” الفوز الاصغر” میں لکھا ہے”اللہ تبارک تعالیٰ نے انسان کے جسم کو زمین میں بتدریج ارتقائی مراحل سے گزارا۔جمادات سے نباتات، نباتات سے حیاتیات، حیاتیات سے شعوریات، شعوریات سے اخلاقیات، اخلاقیات سے عمرانیات اور بالاخر شرفِ نبوت پر ارتقا عروج پرپہنچی۔اس ارتقاکا مقصد یہ تھا کہ زندہ رہنے کے لیے جتنے وسائل (Resources)ہیں ان تک انسان کی رسائی ممکن ہو سکے۔جن میں سے اہم وسیلہ زمین میں سے رزق اگانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم ؑ کو دنیا پر بھیجتے ہوئے فرمایا تھا

لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّوَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ 

یعنی زمین میں انسان کی بودو باش اور ترسیل ِ رزق کا سلسلہ مقررہ وقت تک جاری رہے گا۔

قرآن ِ مجید میں زراعت کی اہمیت کو اللہ تعالیٰ نے بار بار بیان فرمایا ہے۔سورۃ الواقعہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

“کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ تم زمین میں بوتے ہو اس سے فصل ہم اگاتے ہیں کہ تم اگاتے ہو”

اس آیت ِمبارکہ سے اس ترغیب کا اندازہ ہوتا ہے جو کاشت کاری کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اگر لوگ کاشتکاری کرنے والے بن جائیں تو  اللہ تعالیٰ کس طرح ان کی کوششوں کو با برکت بناتا ہے اور ان کے رز ق میں کشادگی پیدا فرماتا ہے۔

رسول اللہ ؐ  صحابہ ءِ اکرام ؓ کو فجر سے ظہر تک مدینہ طیبہ میں واقع کھجور کے باغات میں کام کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔حضورؐ نے مہینوں کے نام زرعی اعتبار سے رکھے(ربیع الاول، ربیع الآخر، جمادی الاول، جمادی الآخر)

حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے بھی فلسفیانہ انداز میں زراعت کی اہمیت و  افادیت سے روشنا س کرایا ہے۔

ہر شاخ سے یہ نکتہ ءِ پیچیدہ ہے پیدا

پودوں کو بھی احساس ہے پہنائے فضا کا

ظلمت کدہءِ خاک پہ شاکر نہیں رہتا

ہر لحظہ ہے دانے کو جنوں نش و نما کا

اہلیانِ وطن! اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے ملک کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔چاروں موسموں سے   انفرادی طور پر بہت سے فائدے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ذرخیز زمینیں موجود ہیں۔مون سون ہواوں کے نتیجہ میں بارش کی فراوانی ہے۔   لیکن ہم زراعت جیسے اہم شعبے پر توجہ نہیں دے رہے حالانکہ سب کچھ دستیاب ہے۔بقول علامہ اقبالؒ

پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب

مرغان ِ سحر تیری فضاوں میں ہیں بے تاب

ماضی قریب کی بات ہے ۔کپاس ، چاول، اور گندم پاکستان کی برآمدات میں شمار ہوتی تھیں مگر ہماری عدم توجہی اور نا اہلی کی وجہ سے یہ دن بھی آئے کہ ہمیں یہی چیزیں درآمد کروانا پڑ رہی ہیں۔لہذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنی زراعت کو ترقی دیں۔اگر زرعی شعبے میں مشینیں استعمال کرنے سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں تو روایتی طریقہ اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔گو آج صنعتی دور اپنے عروج پر ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے کثیرزرمبادلہ خرچ کر کے مشینری خریدنا، صنعتیں لگانا اور پھر پروڈکٹس کو عالمی منڈی میں فروخت کر کے اپنی معاشی ساکھ کو بہتر بنانا آسان کام نہیں۔

تمام مشکلات  سے نمٹنے کا راستہ یہ ہے کہ زراعت کو انقلابی پیمانے پر اختیار کیا جائے کیونکہ تمام وسائل دستیاب ہیں۔پاکستان کا وسیع رقبہ قابلِ کاشت ہےلیکن وہاں زراعت نہیں ہو رہی۔لوگوں نے شہروں کا رخ اختیار کر لیا ہے۔نوجوان ملازمتوں کی تلاش میں مصروف ہیں اور  محنت سے جی چرانے کی عادت عام ہو گئی ہے۔ان تمام باتوں کی وجہ سے قومی سطح تک مشکلات دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے نت نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔جرام کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور قانون کے نفاز کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی ہو رہی ہیں۔اگر نوجوانوں کو زراعت کی طرف راغب کر کے دستیاب وسائل کو کام میں لایا جائے تو ہم گرتی ہوئی معیشت کو سنبھال سکتے ہیں اور بے روزگاری جیسے مسائل سے بھی نمٹ سکتے ہیں۔ہماری زمینیں آباد ہو جائیں گی۔ہماری بر آمدات میں اضافہ ہو گا جو اقتصادی خوشحالی کا  پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ زراعت کی بحالی سرکاری سطح پر تو خیر زیادہ آسان ہے لیکن نجی سطح پر بھی مشکل نہیں۔ہاں اس کے لیے Joint Venture  کی ضرورت ہے وہ یہ کہ قومی سطح پر سرمایہ کار باہمی اشتراک کے تحت سرکاری اداروں کا تعاون حاصل کر کے معاشی اقدامات کا آغاز کریں۔

اسوہءِ حسنہ کا احیا اور اقتصادی خوشحالی ہی وہ محرک ہے جس کی بنا پر روح فورم اپنے دائرہ ءِ کار کو قومی سطح  تک وسیع کرنا چاہتا ہے۔حال ہی میں  خیبر پختون خوا  میں روح فورم کی صوبائی شاخ “ولی فورم” کا قیام عمل میں آ گیا ہے  جس کے تحت مشترکہ طور پر  سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی منصوبوں کو پایہءِتکمیل تک پہنچانے  کی کاوشیں کی جائیں گی۔روح فورم ، ولی فورم  کے تعاون سےجلد ہی وہاں موجود زمینوں کی آباد کاری کا سلسلہ شروع  کرنے والا  ہے۔ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو  اس منصوبے میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ بھی زرعی ترقی کے لیے مل کر منصوبوں کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

Slide8