روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان ” نئے عالمی منظر نامہ پر طلوع ِ اسلام “11 مارچ 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام ِ پاک سے ہوا۔ برگیڈیئر منیر نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ لیکچر میں شرکت کرنے والے احباب کی تعداد جتنی بھی ہو، ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے کہ حاضرین ِ مجلس میں ایسے لوگ شامل ہیں جو مختلف شعبوں میں رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی زید گل خٹک صاحب کو لیکچر کی دعوت دی ۔
محترم زید گل خٹک صاحب نے علامہ اقبال ؒ کی شہرہ آفاق نظم “ساقی نامہ” کے ان اشعار کی روشنی میں نئے عالمی منظر نامہ اور طلوع ِ اسلام پر روشنی ڈالی گئ۔
دلِ طُورِ سینا و فاراں دو نیم
تجلی کا پھر منتظر ہے کلیم
مسلماں ہے توحید میں گرم جوش
مگر دل ابھی تک ہے زنار پوش
تمدن تصوف، شریعت، کلام
بتانِ عجم کے پجاری تمام
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی
لیکچر کا خلاصہ یہ ہے
خلفائے راشدین کے بعد جتنی بھی حکومتیں آئیں ہم اصطلاح میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی حکومتیں تھیں مگر یہ نہیں کہ سکتے کہ اسلامی حکومتیں تھیں۔ایک مسلمان کی نظم ِ حکومت بالکل اسلامی نہ بھی ہو وہ اپنے مسلمان ہونے کے زیرِ اثر بہت سے کام ایسے کر لیتا ہے جو اجتماعی طور پر بہت مفید ہوتے ہیں ۔الغرض مسلمانوں کا سیاسی پسِ منظر مضبوط رہا۔
جب مدبر (تدبیر کرنے والا) عروج و زوال کو دیکھتا ہے تو آئندہ کے لیے لائحہ ءِ عمل تیار کرتا ہے۔جب مسلمان سیاسی سطح پر زوال کا شکار ہو رہے تھے تو حکیم الامتؒ گہرے دکھ اور کر ب میں مبتلا ہوئے ۔ تمدن کسی قوم کی زبان،لباس، نظریات، طرزِ معاشرت سے پروان چڑھتا ہے۔تصوف معرفتِ الہیٰ کا نام ہے۔معرفتِ الہیٰ ہمیں امید کی طرف لے جاتی ہے حالات جیسے بھی ہوں انسان عروج و ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔تصوف امید کی طرف لے جاتی ہے۔
شریعت اسلام قبول کرنے کا نام نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے ۔ علم الکلام وہ علم ہوتا ہے جس میں دلائل کی مدد سے حقائق کو ثابت کیا جاتا ہے۔ حکیم الامت نے بتانِ عجم سے مراد خارجی عناصر(External Elements) لیے ہیں جن نے اسلامی تہذیب و تمدن،روایات، شریعت، تصوف، کلام پر منفی اثرات مرتب کیے۔ساقی نامہ لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ سیاسی اور معاشی سطح پر ہمیشہ عروج پر رہے۔اب انھیں اپنی کوتاہیوں کی نشاندہی کر کے انھیں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ اسلامی تہذیب و تمدن اور روایات قائدانہ حیثیت سے برقرار رہیں اور مسلمان نظریاتی طور پر زندہ رہیں۔
لیکچر کے بعد محترم نوید ظفر نے “ہاتھ ہے اللہ کا” کے عنوان سے انسانی صلاحیتوں کو ابھارنے والے عوامل کی نشاندہی فرمائی۔
اس کےبعد سوال و جواب کا سیشن ہوا اور حاضرینِ مجلس کی پر تاثر گفتگو سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے۔
- جب تک معاشرہ اندرونی طور پر مضبوط نہیں ہو گا خارجی سطح پر اپنا تشخص برقرار نہیں رکھ سکتا ۔اس لیے ہمیں اپنی تعلیمی،معاشی،سیاسی اور اقتصادی ترقی پر توجہ دے کر خود کو مستحکم کرنا چاہیےتا کہ بیرونی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
- جس قوم میں اجتماعی عدل ہوتا ہے وہ عالمی منظرنامہ پر زوال پزیر نہیں ہو سکتی۔اس لیے ہر شعبے میں عدل روا رکھنا چاہیے۔
- موجودہ دور میں لیڈر پیدا نہیں ہوتے بلکہ مسلط کیے جاتے ہیں۔نوجوان نسل میں لیڈر شپ کی صلاحیتں بیدار کرنے کے لیے لائحہ ءِ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
- صالح معاشرہ برقرار رکھنا مسلسل عمل ہے۔اس لیے ہمیں جدو جہد جاری رکھنی چاہیے۔
- ایسے عوامل کا سدِ باب ضروری ہے جن سے معاشرہ تعصب کا شکار ہوتا ہے۔
- اسلام انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی کامیابی کا درس دیتا ہے۔ہمیں مل کر اجتماعی ترقی کے لیے اقدامات اٹھانے چاہییں۔
- اگر تمدن کو مدینہ سے اخذ کیا جائے تو مثبت سماجی اقدار اور فلاحی ریاست کا شعور ابھرتا ہے اور مواخاتِ مدینہ کا تصور اجاگر ہوتا ہے۔اسوہءِ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا درس ملتا ہے
- اگر ہم موجودہ دور میں عالمی برادری کے ساتھ ربط چاہتے ہیں تو اعلی اخلاقی روایات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
- حضورؐ نے فرمایا “دین دوسروں کی خیر خواہی کا نام ہے” ہمیں دوسروں کی فلاح کے لیے بھی فکر مندرہنا چاہیے۔
آخر میں صدر ِمجلس جنرل حمید الدین نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علم والا کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں اور دانا کہتا ہے کہ میں جاننا چاہتا ہوں۔یہاں سب دانا تشریف فرما ہیں۔حالات کو بہتر بنانے کے لیے مسسلسل جدو جہد کی ضرورت ہے۔1857 سے لے کر 1947 تک مسلمانوں کو بہت سے دشوار راستوں سے گزرنا پڑا۔اگر ہم آج متحد ہو کر جدو جہد کریں گے تو آنے والے وقتوں میں اس کے مثبت اثرات نمایاں ہونے شروع ہوں گے۔جب تک روح فورم کی تعلیمی، معاشی، فلاحی، سماجی اور اقتصادی شاخیں نہیں بنتیں مقاصد کا حصول نا ممکن ہے۔کردار سازی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں لیڈر شپ کی صلاحیتں اجاگر کرنا پڑیں گی تا کہ وہ ملک و قوم کی درست رہنمائی کر سکیں۔جو لوگ تشریف فرماء ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنے حلقہء احباب تک ہمارا پیغام پہنچا کر فورم کے دائرے کو وسیع کرنے میں ہمار ا ساتھ دیں۔
شرکاء کے نام
زید گل خٹک، جنرل حمید الدین ، سید مرتضی علی شاہ، جنرل نیاز کوثر، جنرل ساجد اقبال،کرنل حسیب، کرنل نوید ظفر، ارشد، عمر شہزاد، زاہد عارف ملک، محمد فرخ، محترمہ فاطمہ حمید، محترمہ سیدہ مہ جبین، محترمہ نمشین وسیم، محترمہ ڈاکٹر سمیرا ارشد۔
پیغام
روح فورم مواخاتِ مدینہ کی طرز پر تعلیمی، سماجی، معاشی اور اقتصادی جڑت کا خواہش مند ہے۔اس سلسلے میں رہنمائی ، مشاورت اور منصوبوں کی تشکیل کے لیے فورم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔روح تعلیم و تربیت (فورم کا ذیلی ادارہ) اقبالیات، ایچ آر(HR) اور چائنیز زبان کے کورسز کا جلد سے جلد آغاز کرنا چاہتا ہے جس کے لیے فورم کے مرکزی دفتر میں کلاس رومز، سیمینار ہا ل تمام سہولیات کے ساتھ موجود ہیں۔جو لوگ ان شعبوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ان سے التماس ہے کہ مشاورت اور لائحہءِ عمل کی تیاری کے سلسلے میں رابطہ فرمائیں۔
