رپورٹ: لیکچر” مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور مسائل کا حل”(25 مارچ 2017)

رپورٹ: لیکچر” مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور مسائل کا حل”(25 مارچ 2017)

روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان ” مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور مسائل کا حل “25مارچ 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔  مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلام ِ پاک سے ہوا ۔برگیڈئیر منیر نے حاضرین ِ کی شرکت کو سراہتے ہوئے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا اور ابتدائی گفتگو کے لیے سید مرتضی علی شاہ  کو دعوت دی ۔گفتگو کا خلاصہ

“ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں مگر اچھے لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے نہیں ہو رہے۔اجتماعیت کی طرف ہمارا رجحان کم ہے۔کلمہ طیبہ مکمل ضابطہءِ حیات اور  مقصدِحیات ہے اور حضورؐ کی ذاتِ مبارکہ  قرآن کی روشنی میں ہمارے لیے رول ماڈل ہے۔ تمام شعبوں میں اسوہءِ حسنہ کے احیاء کے  لیے روح فورم کی بنیاد رکھی گئی۔ہر آدمی ایک ادارہ ہے۔والدین ، اساتذہ، علماء اور اچھے تاجران ایسے ادارے ہیں جو معاشرتی و اقتصادی خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اپنے تشخص اور اقدار کے احیاء کے لیے  اپنا   School System متعارف کروائیں۔جو لوگ نصاب اور  تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے کچھ کر سکتے ہیں ہم درخواست گزار ہیں کہ  ہماری معاونت فرمائیں۔فورم اپنی Humble   Capacity میں جو کچھ کر سکتا ہے وہ کر رہا ہے۔ہمیں عملی قدم اٹھانا چاہیے۔فورم بزنس کلب کے ذریعے لوگوں کے ذہنی رجحان کو نوکری سے کاروبار کی طرف راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے تا کہ حالات تبدیل کیے جاسکیں۔معاشرے میں بہت سی شناختیں ایسی ہیں جنھیں  Pride کے طور پر لے کر آگے بڑھا جا سکتا ہے  مثلاً فوج کی شناخت، علی گڑھ کی شناخت، قومی شناخت، صوبائی شناخت، خاندانی شناخت۔تعصب کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ممکن ہے فورم سماجی بہتری کے لیے  NGO  کی بنیاد رکھے۔ہم اپنا برینڈ بنا سکتے ہیں۔اس سلسلے میں  پہلے بھی باتیں ہو چکی ہیں۔فورم Healthy Food  کے لیے گفٹ پیک متعارف کروانا چاہتا ہے اس سلسلے  میں  کاروباری حضرات ہمارے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں۔ہمارے پاس  ہر قسم کا آئیڈیا ہے مگر انھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے اشتراک و معاونت کی ضرورت ہے۔

اس کے بعد محترم زید گل خٹک نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور حل کے عنوان پر لیکچر دیا۔

لیکچر کا خلاصہ

موضوع کا مرکزی خیال علامہ اقبالؒ کی مشہور مثنوی( پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرقٖ) سے لیا گیا ہے۔علامہ اقبالؒ نے فلسطین، افغانستان اور دوسرے ممالک کا سفر کیا۔آپؒ کے سامنے عالمی منظر نامہ تھا۔آپؒ کو مسلمانوں کی زبوں حالی پر بہت دکھ اور افسوس ہوا اور اسی کیفیت میں آپ ؒ نے مثنوی لکھی اور زوال کے اسباب اور حل پر روشنی ڈالی۔ہمارے ہا ں عموماً یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسلام کا آغاز حضورؐ کے دور سے ہوا۔مگر ایسا نہیں ہے۔اسلام اللہ کا منشور ہے اور اس میں جو حدیں متعین فرمائی گئی ہیں وہ اللہ کا مخلوق کے ساتھ لطف ہے۔یہ منشور ہر نبی ؑ کے دور میں رہا اور حضورؐ کی ذاتِ مبارکہ پر اس کی تکمیل ہوئی۔جب مسلمانوں نے حضورؐ کی تعلیمات کے مطابق اس منشور پر عمل پیرا ہونا چھوڑ دیا تو وہ اللہ کی لطف و عنایات سے محروم ہو گئے۔ جن دو اقدار کو چھوڑنے سے مسلمانوں کو  زوال کا سامنا ہوا وہ خُلقِ عمومی اور ارتقا ہے۔اجتماعی عدل، مساوات اور احسن رویہ  خلقِ عمومی کے ستون   ہیں ۔جس معاشرے میں ارتقا کا رجحان کم ہو وہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔جن مسلمان فلسفیوں نےلوگوں کی توجہ ارتقاء  کی طرف دلائی انھیں اپنے وقت کے علماء کی تنقید کا سامنا رہا۔نتیجے میں مسلمان سائنسی علوم میں اہلِ مغرب سے پیچھے رہ گئے اور وہ سیاسی منظر نامہ پر غالب آ گئے۔اسوہءِ حسنہ ہمیں دنیوی اور اخروی کامیابی  کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔اگر ہم اسوہءِ حسنہ پر عمل پیرا ہو جائیں تو مسلمان پھر سے قائدانہ منصب سنبھال سکتے ہیں۔

لیکچر کے  بعد سوال و جواب کے سیشن کا آغاز ہوا۔شرکاء کی طویل اور پر تاثر گفتگو سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے۔

  • سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے مساوات پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔
  • اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ سائنسی علوم پر توجہ دینا اشد ضروری ہے۔دین ہمیں ارتقاء کی طرف لے جاتا ہے۔
  • تفرقہ بازی اور تاویلات سے اجتناب برتنا چاہیے۔
  • ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونے اور عملی منافقت سے بچنے کی ضرورت ہے۔
  • اپنے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے پرائمری لیول تک تعلیمی ادارہ متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔اس کا آغاز مشترکہ طور پر فورم سے کر کے پورے ملک تک اس کی شاخیں پھیلائی جا سکتی ہیں۔

آخر میں صدر ِ محفل محترم جنرل حمید الدین نے گفتگو سمیٹتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ  اگر ہم  خُلقِ عمومی، عدل اور مساوات اپنائیں تو مستقبل میں اس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔جہاں زوال کی بات ہوتی ہے وہاں مسلمانوں کے عروج کا ذکر بھی آتا ہے۔کامیابی کے لیے اپنی کوتاہیوں کی نشاندہی کر کے مستقبل کے لیے لائحہ ءِ عمل تیار کرنا بہت ضروری ہے۔یہاں جتنے شرکاء موجود ہیں ان کا ایک حلقہ ہے۔ہمارا پیغام ہر ممبر اپنے حلقے تک پہنچائے تا کہ ہم تعلیمی، معاشی، اقتصادی شعبوں میں ترقی کے لیے مثبت اقدامات اٹھا سکیں

شرکاء کے  نام

زید گل خٹک، جنرل حمید الدین، سید مرتضی علی شاہ، جنرل نیاز کوثر، جنرل ساجد اقبال، برگیڈئیر منیر، اسکارڈن لیڈر محمد عارف، عبد اللہ محمد، محمد فرخ، محترمہ سیدہ مہہ جبین، عمر شہزاد

پیغام

اقتصادی خوشحالی سے معاشی اور سماجی برائیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ہمیں اپنا برینڈ بنا کر بین الاقومی منڈی تک رسائی حاصل کرنی چاہیے اور قومی خوشحالی کی طرف قدم اٹھانا چاہے۔تمام احباب سے گزارش ہے کہ برینڈ بنانے کے سلسلے میں کسی قسم کا آئیڈیا ہے تو وہ فورم کے مرکزی دفتر میں آ کر آئیڈیا رجسٹر کروا ئے یا ہفتہ وار لیکچر میں شمولیت کے دوران اپنے منصوبے  پر Presentation  کی شکل میں روشنی ڈالے ۔اس کے علاوہ ترجیحی بنیاد پر فورم پرائمری لیول تک اسکول کا آغاز کرنے کا خواہشمند ہے۔ایسے ماہرینِ تعلیم، منتظم، پرنسپل یا اساتذہ جو اس سلسلے میں ہماری رہنمائی یا معاونت کر سکتے ہیں جلد سے جلد ہم سے رابطہ کریں تاکہ ہم کوئی قدم اٹھا سکیں۔

Slide7

e524ac73-3ed0-45ca-ab6f-2b34720fb834

360717fd-6d48-4947-bacc-aacac593acdf