روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان ” تصوف ” 1 اپریل 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔
پروگرام کا آغاز تلاوت ِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد محترم زید گل خٹک نے تصوف کے حوالے سے لیکچر دیا
لیکچر کا خلاصہ
Orientalists نے تصوف اور سرّیّت کو مترادف (Alternatives) ظاہر کیا ہے ۔دونوں ایک دوسروں کے لیے لازم و ملزوم ضرور ہیں لیکن ان میں واضح فرق ہے۔۔سریت “سِرُّٗ ” سے اخذ کیا گیا ہے ۔اس سے مراد وہ فطری اور جبلّی معرفت ہے جو اللہ نے روح میں ودیعت کی ہے۔ویسے تو مفسرین نے اٹھارہ ہزار عالمین کا ذکر فرمایا ہے مگر بنیادی طور پر عالمین دو ہیں۔
- عالمِ امر
- عالم خَلق
عالمِ امر میں ممکنات معنوی(Metaphysical) صورت میں کارفرماء ہوتی ہیں اوریہی معنوی ممکنات، عالمِ امر کی استعداد (صلاحیت) ایک خاص جزوی حد تک عالمِ خَلق(Physical Universe) میں اترتی ہے۔ سرّ ان تمام اجسام کی ارواح میں موجود ہوتا ہے جو دنیا میں پائے جاتے ہیں۔چنانچہ ہر خطہ، ہر دور اور ہر مذہب کے متعلقہ لوگوں میں جو روحانی اور سرمدی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے اس کی اصل تحریک یہی سرّیّت ہے۔رسول اللہ ؐ کے دور میں جس طرح باقی علوم اصطلاحی طور پر Terminologically) معین نہیں ہوئے تھے اس طرح یہ فن مبارک بھی خاص حیثیت سے مقرر نہیں ہوا تھا۔لیکن دور نبویؐ میں تصوف اپنے کمالات اور ضرورت کے اعتبار سے نہ صرف موجود تھا بلکہ اس کی درجہ بندی بھی ہوئی تھی۔ اصحابِ صفہ کا چبوترہ تصوف کا پہلا مرکز تھا
کائنات کی ہر شے اللہ کی تصبیح بیان کرتی ہے اور ایک خاص حد تک شعور بھی رکھتی ہے مگر ہمیں اس کا علم نہیں۔ابو جہل ایک مرتبہ حضورؐ کے پاس آیا ۔اس کے ہاتھوں میں ایک موتی تھا۔اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ؐ اگر آپ بتا دیں کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے تو میں ایمان لے آوں گا۔آپؐ نے فرمایا کہ میں بتاوں یا وہ چیز بتائے جو تیری مٹھی میں ہے تو مٹھی سے آواز آئی”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں”۔ جب روح اور جسم آپس میں ملے تو تیسری قوت پیدا ہوئی جسے نفس کہتے ہیں۔نفس پر خارجی عناصر اثرا نداز ہوتے ہیں۔قرآن ِ کریم کی روشنی میں وہ شخص کامیابی حاصل کرتا ہے جو نفس کو تذکیہ کے راستے پر لگاتا ہے۔
لیکچر کے بعد محترم کرنل نوید صاحب نے “تدبر” کے حوالے سے Presentation دی۔
اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا اور شرکاء کی پر تاثیر گفتگو کے سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے
- جو عدل کرتا ہے چرند پرند اور درخت بھی اسے پہچانتے ہیں۔حکمرانوں کو چاہیے کہ اجتماعی عدل کو فوقیت دیں۔
- صوفی صرف خانقاہ پر بیٹھنے والے کا نام نہیں۔صوفی اجتماعی فلاح کے لیے جدو جہد کرتا ہے۔
- تعلیم یافتہ لوگوں کو چاہیے کہ علم کو پھیلائیں۔
- جو غیر اسلامی روایات خانقاہی نظام میں داخل ہو چکی ہیں ان کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
- اقبالؒ نے صوفی اس مردِ قلندر کو کہا ہے جو خدمتِ خلق میں مصروف رہتا ہے۔
- صوفیاء نے عملی جد و جہد کا درس دیا۔
- ہمیں تذکیہ ء نفس پر توجہ دینی چاہیے۔
آخر میں جنرل حمید الدین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے زید گل خٹک کے لیکچر اور حاضرین ِ مجلس کی گفتگو کو سراہا اور کہا کہ اسلام کے جتنے بھی احکامات ہیں وہ تعمیل کے لیے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ بہت سے مسائل کا شکار ہے۔روح فورم کے قیام کا مقصد اسوہءِ حسنہ کا احیا ء ہے اور اس میں ہر مکتبہ ءِ فکر کے لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ اسوہءِ حسنہ کا عملی طور پر مظاہرہ کریں۔فکرِ اقبالؒ سے نوجوان نسل کو روشناس کروانا بہت ضروری ہے تا کہ ملی تقاضوں اور اسلامی اقدار کا احیاء ہو سکے۔
