رپورٹ: فکرِ اقبال ؒ کی روشی میں قرآن فہمی(25 فروری 2017)

روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان ” فکرِ اقبال ؒ کی روشی میں قرآن فہمی ” 25 فروری 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔  مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔

نشست کا آغاز تلاوتِ کلام ِ پاک سے ہوا ۔برگیڈیئر منیر نے استقبالیہ جملوں کے بعد روح فورم کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورم کا مقصد اسوہءحسنہ کا احیاء ہے اور فکرِ اقبالؒ اسوہءحسنہ کی ترجمان ہے۔موجودہ دور میں علامہ اقبالؒ کے تصور کو سمجھنے کی ضرورت ہے تا کہ معاشرتی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے راہیں ہموار ہو سکیں۔روح فورم اسی مقصد کے پیشِ نظر لیکچرز کا انعقاد کرتا ہے ۔اس کے بعد طارق نعیم نے ترنم کے ساتھ علامہ اقبالؒ کی یہ غزل ترنم کے ساتھ سنائی

 مٹا دیا مرے ساقی نے عالم ِ من و تو

پلا کے مجھ کو مئے لا الہ الا ہو

  زید گل خٹک صاحب نے لیکچر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی دور اس سے پہلے گزر چکے ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ امت خیر سے محروم رہی ہو۔زمانہ بدلتا رہتا ہے اور ہر دور کے اثرات آنے والے دور میں بھی منتقل ہوتے ہیں۔برِ صغیر پاک و ہند میں جب زرعی دور صنعتی دور میں داخل ہو رہا تھا تو اقبالؒ جیسا چراغ روشن ہوا جس کے نظریات سے روشنی پھیلنا شروع ہوئی اور قوم مایوسی سے نکل کر امید کی طرف لوٹ آئی۔آپؒ استقرائی علوم یعنی فلسفہ، دین، روحانیت  اور تصوف سے سرشار تھے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ باتیں شرعاً درست معلوم ہوتی ہیں مگر ان کے اثرات بر عکس ہوتے ہیں۔جب یہودی فلسطین میں پراپرٹی خرید رہے تھے تو علامہ اقبالؒ نے ان کے مفتی کو خط لکھ کر ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ان نے جواب میں کہا کہ شریعت میں ایسی ممانعت تو کہیں بھی نہیں۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کے اثرات نے آج فلسطین کو کہاں لا کھڑا کیا ہے۔علامہ اقبالؒ نے فرمایا

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر

تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند

موجودہ دور میں تصادم کی ایک وجہ تاویل بھی ہے یعنی اپنے مطلب کے معانی اخذ کرنا۔ہر مسلک کے امام قرآن سے اپنے مطلب کے معانی نکالتے ہیں۔جب تک تاویل سے گریز کیا گیا امن و امان قائم رہا۔قرآن ہر دور کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے اور جو لوگ قرآنی احکامات کا اطلاق اپنے زمانے پر کرتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ  قرآن و حدیث پر مکمل عبور حاصل کریں۔یہ کوئی آسان کام نہیں۔دین آسان ہےاور معاشرتی فلاح  کے لیے ہے

اس کے بعد سوال وجواب کا سیشن  ہوا  اور شرکاء کی پر اثر گفتگو سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے

  • علامہ اقبالؒ نے قرآن کی روشنی میں مسائل کے حل تلاش کیے۔ہم اقبالؒ کے افکار کا مطالعہ کر کے موجودہ حالات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
  • ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکومت کو نہیں ٹھہرا سکتے ۔ہمیں معاشرتی، تعلیمی اور اقتصادی ترقی میں

اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

  • ترغیب کا راستہ بہتر ہے۔ہمیں دینی تعلیمات پر خود بھی عمل پیرا ہونا چاہیے اور دوسروں کو دعوتِ فکر دینی چاہیے۔
  • تاویل سے گریز کرنا چاہیے۔حضورؐ نے قرآن اپنے اپنے لہجے میں پڑھنے کی اجازت دی تھی اور یہ حضرت عثمانؓ کے دور تک جاری رہا۔مگر جب ہر قبیلے نے یہ کہنا شروع کیا کہ اُس کا طریقہ درست ہے تو حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ وہی طریقہ سب سے بہتر ہے جو پیارے نبیؐ کا تھا۔اس طرح اختلاف ختم ہو گئے۔آج ہمیں بھی اختلافات ختم کرنے کے لیے اسوہءِ حسنہ کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
  • ہمیں اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لانی چاہیے اور ہر معاملے میں توازن قائم رکھنا چاہیے۔

آخر میں صدرِ محفل جنرل حمید الدین نے گفتگو سمیٹتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کچھ عرصہ پہلے ایک جگہ پروگرام منعقد ہوا۔وہاں       Introduction of Holy Prophet (PBUH)  کے عنوان پر  گفتگو ہونی تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ زمانہ بھی آنا تھا کہ ہم اپنے پیارے نبیؐ کا تعارف پیش کر رہے ہیں اور لوگ ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔۔اسوہءِ حسنہ کے احیاء کے لیے روح فورم کی بنیاد رکھی گئی۔ہم نے اس مقصد کے لیے جس میڈیم کا انتخاب کیا وہ فکرِ اقبالؒ ہے۔کیوں کہ آپؒ نے ہر بات قرآن و سنت کے مطابق کی۔اس کا اعتراف انھوں نے خود بھی کیا۔موجودہ دور میں کردار سازی کی اشد ضرورت ہے اور ہمیں فلاح ِمعاشرہ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

شرکاء کے نام

زید گل خٹک، جنرل حمید الدین، جنرل ساجد اقبال، کرنل مرتضی علی شاہ، برگیڈیئر منیر، برگیڈیئرآفتاب قریشی، لیفٹینٹ کرنل ممتاز مظفر، ڈاکٹر عبد الرشید،  مبارک بٹ، عمر شہزاد، محمد فرخ، عنصر اقبال، خالد منیر، محترمہ لبنی بانو، محترمہ نگہت ،  محترمہ فاطمہ حمید، محترمہ نمشین نثار، محترمہ صائمہ راجا، محترمہ سائمہ زیب، محترمہ عظمی شاہد، محترمہ شبانہ کوثر اور ڈاکٹر بشری وحید

20170225_114000 20170225_114008

Slide8