روح فورم کا سلسلہ وار تربیتی و تعلیمی لیکچر بعنوان “علامہ اقبالؒ کے خطوط کی روشنی میں تصورِ خودی” 18 فروری 2017 بروز ہفتہ دن 11 بجے، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اور طلبہ و طالبات نے شرکت فرمائی۔
نشست کا آغاز تلاوتِ کلام ِ پاک سے ہوا ۔جنرل حمید الدین نے استقبالیہ جملوں کے بعد گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے روح فورم کے قیام کا مقصد اور سلسلہ وار لیکچرز کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور ایڈوائزر روح فورم زید گل خٹک کا تعارف پیش کیا۔تعارفی کلمات کا خلاصہ یہ ہے
“تمام مسائٖل کا حل اسوہءِ حسنہ میں موجود ہے۔اسوہءِ حسنہ سے دوری کی وجہ سے ہم روز بروز معاشرتی، تعلیمی اور اقتصادی ابتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایسے پلیٹ فارم کی اشد ضرورت تھی جو اسوہءِ حسنہ کے احیاء کے لیے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو باہمی مربوط کر کے امن و خوشحالی کے طرف گامزن کرے۔روح فورم کی بنیاد اسی مقصد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رکھی گئی۔فکرِ اقبالؒ اسوہءِ حسنہ کی ترجمان ہے۔لہذا فکرِ اقبالؒ کی ترویج سے اسوہءِ حسنہ کا احیاء ممکن بنایا جا سکتا ہے”
تعارفی کلمات کے بعد نوجوان گلوکار طارق نعیم نے ترنم و ساز کے ساتھ اقبالؒ کی غزل پیش کی۔
اک دانش نورانی ، اک دانش برہانی
ہے دانش برہانی ، حيرت کی فراوانی
زید گل خٹک صاحب نے علامہ اقبالؒ کے اُس خط کے حوالے سے لیکچر دیا جو پروفیسر نکلسن کے اسرارِ خودی اور رموزِ خودی کا انگریزی ترجمہ کرنے کے بعد آپؒ نے انھیں لکھا تھا۔لیکچر کا خلاصہ یہ ہے۔
“علامہ اقبالؒ نے پروفیسر نکلسن کے کام کی ستائش کی مگر اس کے ساتھ ساتھ انھیں ترامیم اور اصلاح کی ضرورت بھی پیش آئی ۔ تراجم پڑھنے والوں کی آراء کا جائزہ لیا جائےتو محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اقبالؒ کے فلسفہ ءِ خودی کو نطشے (جو کہہ ایک جرمن فلاسفر تھا) کے نظریات کے ساتھ جوڑاہے۔
۔علامہ اقبالؒ نے جس طرح خودی کا مفہوم اور اس کے مراحل بیان کیے ہیں انھیں محض خیالی طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔اسی لیے وہاں کے تبصرہ نگاروں نے آپؒ کے فلسفہ ءِ خودی کو نطشے کے افکار سے اخذ شدہ تصور یا تسلسل سمجھا۔حالانکہ ایسا بالکل نہیں تھا۔علامہ اقبالؒ نے خودی کو قرآن ِ مجید سے اخذ کیا ۔علامہ اقبال ؒ کا یہ شعر یورپ جانے سے پہلے کا تھا جس میں تصورِ خودی واضح طور پر اجاگر ہوتا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اس شعر میں اقبالؒ نے انسانِ کامل یعنی رسول اللہؐ کی بات کی ہے جو خودی کے اس بلند مقام پر ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان کی خواہشات کو مقدم رکھتی ہے۔علامہ اقبالؒ کے اس نظریہ کا تعلق قرآنِ عظیم سے ہے جس کا تعلق نطشے کے نظریہ سے ہو ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ سورۃ والضحیٰ میں فرماتا ہے
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
“اور عنقریب آپؐ کا رب ، آپؐ کو اتنا کچھ عطا کرے گا کہ آپؐ راضی ہو جائیں گے”
موجودہ دور میں ہم بحیثیت مسلم امۃ اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔اس لیے نوجوان نسل کو تصورِ خودی سے روشناس کرانا ضروری ہے ۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے سیشن کا آغاز ہوا ۔جس سے مندرجہ ذیل نکات اخذ کیے گئے۔
خودی کا تصور پہلے بھی موجود تھا مگر اقبالؒ نے تمام تر جزیات کے ساتھ اس کا فلسفہ بیان کیا۔
ہم سال میں ایک مرتبہ اقبالؒ ڈے منا کر یہ سمجھتے ہیں کہ حق ادا ہو گیا مگر ایسا نہیں۔معاشرے میں اقبالؒ کی تعلیمات کی عملی ترویج ہونی چاہیے ۔
ہمیں چاہیے کہ ظاہری علوم “سائنس، ٹیکنالوجی” کو ضرورت یا مجبوری کے تحت حاصل نہ کریں بلکہ ذوقی سطح پر انھیں سے مستفید ہوں۔
مسائل دو طرح کے ہوتے ہیں نظریاتی مسائل اور حقیقی مسائل۔نظریاتی مسائل اختلافات کا سبب ہوتے ہیں اس لیے کہ ان میں طبیعت کا رجحان ہوتا ہے۔ہم فکرِ اقبالؒ کی ترویج سے نظریاتی اختلافات دور کر کے سب کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر سکتے ہیں۔
موجودہ دور میں نصاب سے اقبالؒ کی تعلیمات کو خارج کیا جا رہا ہے۔نہ صرف ماہرین ِ تعلیم بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو اس بارے میں سوچ کر مثبت حل نکالنے کی ضرورت ہے۔
تعمیری فکر سے حالات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔
روز مرہ کے مسائل میں الجھ کر ہم خودشناسی پر توجہ نہیں دے رہے۔ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔
تمام شرکاء نے متفقہ طور پر اظہار کیا کہ فہم ِ اقبالؒ کے لیے کسی پلیٹ فارم کا ہونا نہایت ضروری تھا ۔ اس حوالے سے روح فورم کی سرگرمیوں اور کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔
لیکچر کے بعد طارق نعیم نے اقبال کی نظم ” رُوح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے” کے کچھ بند ترنم کے ساتھ سنائے
کھول آنکھ ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوۓ سورج کو ذرا دیکھ
اس جلوہء بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ
ایام جدا ئی کے ستم دیکھ ، جفا دیکھ
بے تاب نہ ہومعرکہء بیم و رجا دیکھ
آخر میں جنرل حمید الدین نے گفتگو سمیٹتے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مختصر نشست میں اقبالؒ کے تصورِ خودی کے تمام پہلووں پر روشنی ڈالنا ممکن نہیں۔یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور تمام حاضرین کی شرکت سے فکری تربیت ہوتی رہے گی۔ علامہ اقبالؒ کے خطوط کے حوالے سے جو ابہام پیدا ہوئے وہ آپؒ نے خود توضیح فرما کر دور کیے ۔ہمیں نوجوان نسل پر توجہ دینی چاہیے اس لیے کہ یہ مستقبل کے لیڈر ہیں۔ہمیں تمام فکری اختلافات کو دور کر کے ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا چاہیے اور معاشرتی و اقتصادی ترقی میں مل کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔جس کی زندگی کا مشن اسوہءِ حسنہ کا احیاء ہے وہ روح فورم کا ممبر ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ یہاں سے جا کر ہماری نمائندگی کریں۔
روح فورم نے سلسلہ وار تربیتی لیکچرز کا آغاز فکری تربیت کے لیے کیا ہے تا کہ اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں درست سمت کا تعین کر کے خوشحالی کا سفر طے کیا جا سکے۔اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
بہت سے لوگ اور سماجی تنظمیں معاشرتی خوشحالی کے لیے انفرادی کوششیں کر رہی ہیں مگر بحیثیت مسلم امۃ ہمیں اپنا تشخص بحال رکھنے کے لیے تمام اختلافات دور کر کے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔تما م احباب سے گزارش ہے کہ نہ صرف خود ان لیکچرز میں شرکت فرمائیں بلکہ ہمارا پیغام دوسروں تک بھی پہنچائیں۔اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں اسلامی نظریہ ءِ حیات اور فکرِ اقبالؒ کے حوالے سے ہمارا تحریری کام ہماری ویب سائٹ www.ruhforum.com پر موجود ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ پروگرامز کی رپورٹس بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
شرکاء کے نام
زید گل خٹک، جنرل حمید الدین، جنرل ساجد اقبال،جنرل نیازکوثر، برگیڈیئر منیر، لیفٹینٹ کرنل حامد بٹ، اسکارڈن لیڈر محمد عارف، ، مسز شیریں ہاشمی، محترمہ تہینہ کن شیخ ، عبدالقادر شیخ، محمد فرخ، محمد حبیب، ناصر محمود بٹ، عمر نیاز، محترمہ ریان جمیل، محمد بلال ، زاہد عارف ملک، محترمہ نوشین وسیم، محترمہ سمرہ قمر،محترمہ آنسہ نسیم، طارق نعیم
