روح فورم نے 20 نومبر 2016 بروز اتوار، روح منزل، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو میں ایک سیمینار بعنوان “عمل سے زندگی بنتی ہے” کا اہتمام کیا۔سیمینار کا مقصد ماہ ِ نومبر کو ماہ ِ اقبال کے طور پر منانا تھا اور فکر و تدبر کرنا تھا کہ اسوہءِ حسنہ اور فکر ِ اقبال کی روشنی میں ہم زندگی کے مختلف شعبوں میں کس حد تک عمل پیراء ہیں
تلاوتِ کلام ِ پاک کے بعد برگیڈیئر منیر نے حاضرین ِ مجلس کو گفتگو کی دعوت دی۔زید گل خٹک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال ؒ نے ایمان، عملِ پیہم، تطہیر ِ فکر اور کسب کی بات کی ۔ہمیں مل کر سوچنا چاہیے کہ ہم ان چار نقاط کی روشنی میں کس طرح معاشرے کے مختلف شعبوں میں بہتری لا سکتے ہیں۔ کرنل مرتضیٰ علی شاہ نے روح فورم کا تعارف کرواتے ہوئے کہا ” شعاعِ آفتاب ِمصطفیؐ سے ہم نے زندگی کے مقاصد کو وضع کرنا ہے۔ روح فورم کے قیام کا مقصد شعاعِ آفتابِ مصطفیؐ کی عملی سفارت کاری ہے جس کے لیے حکمتِ اقبالؒ کسی خزینے سے کم نہیں۔ فورم نے معاشرتی تقاضوں کی روشنی میں ابھرتے ہوئے تازہ افکار اور خیالات کو رجسٹر کر کے عملی شکل دینےکے لیے گلستان ِ افکار ِ ملت کی بنیاد رکھی ہے جس میں خاص طور پر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔کسی آئڈیے کی روشنی میں نئے منصوبے تشکیل دے کر انھیں پایہ ءِ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوشش کی جاتی ہے تا کہ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا جا سکے۔فورم نے روح میڈیا کلب کا آغاز کیا جس کا لائحہ عمل اسوہءِ حسنہ اور فکرِ اقبال کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔روح میڈیا کلب پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے زریعے برائی کوروکنے کی تدبیر، فلاح کی تشہیر اور امیدِ نو کے ابلاغ کے لیے کوشاں ہے۔
فورم اسوہءِ حسنہ اور فکر ِ اقبال ؒ کے ذریعے معاشرتی، تعلیمی ،ثقافتی اور اقتصادی میدان میں بہتری لانا چاہتا ہے اور اشتراکِ کاروبار کے زریعے علی گڑھ جیسے اداروں کے قیام کا خواہاں ہے جو احیائے اسوہءِ حسنہ، خصوصاً مواخاتِ مدینہ کی پاسداری کر سکیں۔فورم نے معاشرے کی فلاح کے لیے کاروباری اور تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کر رکھا ہے اور ہم خیال خواتین و حضرات کو فورم میں ممبر شپ کی دعوت دی جاتی ہے”
حاضرین ِ مجلس کی پر تاثیر گفتگو سے مندرجہ ذیل نقاط اخذ کیے جا سکتے ہیں
- نبی کریم ؐ کی ذات ِ با برکات تمام دنیا کے لیے رول ماڈل ہے اور موجودہ مسائل کے حل کے لیے اسوہءِ حسنہ اور فکرِ اقبالؒ کی عملی ترویج لازمی ہے۔
- ہمیں مل کر ایسے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھنی چاہیے جو طلباء کے عمل و کردار پر بھی مثبت اثرات مرتب کرسکیں۔
- اردو،عربی اور فارسی زبانوں پر بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ ان میں ہمارے اسلاف کا قیمتی سرمایہ موجود ہے
- اقتصادی ترقی کے لیے ہمیں مشترکہ کوشش کرنا ہو گی اور ایک دوسروں کے تجربے اور وسائل کی جڑت سے فائدہ اٹھانا چاہیے
- معاشرتی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں فلاح ِ معاشرہ کے لیے کام کرنا چاہیے اوریہی اسوہءِ حسنہ اور فکرِ اقبالؒ کا تقاضا ہے
- تعلیمی، معاشرتی ، ثقافتی اور اقتصادی میدان میں متحد ہو نا چاہیے تا کہ بطور امت ِ مسلمہ ہماری شناخت قائم رہ سکے
- نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کر کے مایوسی کی دلدل سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے
- ووکیشنل ٹریننگ سنٹر ز قائم کر کے “الکاسب ُ حبیب اللہ” کی عملی تصویر پیش کرتے ہوئےبے روزگار افراد کو خودکفیل بنانا چاہیے
میجر جنرل حمیدالدین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا ” اس پروگرام کا مقصد صرف Debate نہیں۔ ہمیں بحیثیت قوم تمام شعبوں میں متحد ہو کر تبدیلی لانے کے لیے عملی کردار ادا کرناچاہیے۔تعلیمی ادارے اور مدارس احکاماتِ الہیٰ اور اسوہءِ حسنہ کے مطابق ہوں۔روح فورم نے نوجوانوں کو فوکس کیا ہے تا کہ پاکستان سے قیادت ابھرے۔دینِ اسلام میں تنگ نظری نہیں اور اقبالؒ کی شاعری آفاقی ہے۔شخصیت پسندی سے اسلام نے منع فرمایا ہے۔ہمیں دوسروں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ حضورؐ نے ہر کسی کی بات سنی”لہذا ہم سب کو مل کر قومی تشخص کے لیے جدوجہدکرنی چاہیے
آخر میں طارق نعیم نے کلام ِ اقبال سے مندرجہ زیل نظمیں سنائیں
رُوح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے
…………………………………….
کھول آنکھ ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
مشرق سے اُبھرتے ہوۓ سورج کو ذرا دیکھ
اس جلوہء بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ
ایام جدا ئی کے ستم دیکھ ، جفا دیکھ
بے تاب نہ ہومعرکہء بیم و رجا دیکھ
ہیں تیرے تصرُّف میں یہ بادل، یہ گھٹائیں
یہ گنبد افلاک، یہ خاموش فضائیں
یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں
تھیں پیش ِنظر کل تو فرشتوں کی ادائیں
آئینہء ایاّم میں آج اپنی ادا دیکھ
سمجھے گا زمانہ تیری آنکھوں کے اشارے
دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
ناپید ترے بحر تخیُّل کے کنارے
پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے
تعمیر خودی کر، اثرِ آہِ رسا دیکھ
خورشیدِ جہاں تاب کی ضَو تیرے شرر میں
آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہُنر میں
جچتے نہیں بخشے ہوۓ فردوس نظر میں
جنّت تری پنہاں ہے ترے خونِ جگر میں
اے پیکرِ گِل کوششِ پیہم کی جزا دیکھ
نالندہ ترے عوُد کا ہر تار ازل سے
تُو جنسِ محّبت کا خریدار ازل سے
تُو پیرِ صنم خانہء اسرار ازل سے
محنت کش و خوں ریز و کم آزار ازل سے
ہے راکبِ تقدیرِ جہاں تیری رضا، دیکھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اثرکرے نہ کرے، سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندہء آزاد
یہ مُشتِ خاک، یہ صرصر ، یہ وسعتِ افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذّتِ ایجاد
ٹھہر سکا نہ ہواۓ چمن میں خیمہء گُل
یہی ہے فصلِ بہاری، یہی ہے بادِ مراد
قصوروار، غریب الدّیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد
مری جفا طَلَبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشتِ سادہ، وہ تیرا جہانِ بے بنیاد
خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیّاد
مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے اہلِ نظر ذوق ِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ د یکھے وہ نظر کیا
مقصودِ ہنر سوز حیاتِ ابدی ہے
یہ ایک نفس یا دو نفس مثل ِ شرر کیا
جس سے دل دریا متلاطم نہیں ہوتا
اے قطرہ ءِ نیساں وہ صدف کیا ، وہ گہر کیا
شاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو
جس سے چمن افسردہ ہو وہ بادِ سحر کیا
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا ہو ہنر کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جن احباب نے سیمینار میں شرکت کی ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں
زیدگل خٹک، میجر جنرل حمید الدین، کرنل سید مرتضیٰ علی شاہ، ڈاکٹرضیاالرحمان، عمر حمید خان، پروفیسر علی اصغر چشتی، کرنل محمد اختر، ڈاکٹر فہیم ہاشمی، سید عبید اللہ، میجر آفتاب اصغر، فرہان، نسیم سحر، احمد ظہور ، محمد اصغر خواجہ، سید وقاص شاہ، ضیا اللہ، برگیڈیئر منیر، طارق نعیم، عبدالستار







……………………….

RUH Manzil, 3rd Floor, Rauf Tower, DHA 2, Sector A, Islamabad
Phone: 051-5162023-5
Cell: 03357771005