زکوۃ:
زکوۃ کے لغوی معنی پاکیزہ کرنا ہے۔ارکانِ اسلام میں یہ اہم مالی عبادت ہے جس میں صاحبِ نصاب کو اپنے مال سے مقررہ رقم مستحق اور ضرورت مند کو ادا کرنی ہوتی ہے۔رقم کی ادائیگی انسان کو ظاہری و باطنی آلائشوں سے پاک کر نے کا سبب بنتی ہے اس لیے اسے زکوۃ کہا جاتا ہے۔قرآن و احادیث میں کئی مرتبہ زکوۃ ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ (النور۔ 56)
ترجمہ: اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رسول اللہ(ﷺ) کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
سیدنا عبد اللہ ابن ِ عمر رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کو مانتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مال کی زکوٰۃ دے۔‘‘ (طبرانی)
اگر زکوۃ و خیرات کی رقوم مؤثر نظام کے تحت بروئے کار لائی جائیں تو موجودہ دورکے مستحقین مستقبل میں دوسروں کے سروں پر دستِ شفقت رکھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
خمس:
اس طرح غنائم کا پانچواں حصہ اللہ اور اللہ کے محبوب اور آپؐ کے ذی القربی(اہلِ بیت و عترت) کی تملیک(خصوصی حصہ-ملکیت) ہے۔ہاں اس کا افادہ دیگرِ افرادِ معاشرہ کے لیے بھی ہے۔الانفال، آیت 41 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاعْلَمُوٓا اَنَّمَا غَنِمْتُـمْ مِّنْ شَىْءٍ فَاَنَّ لِلّـٰهِ خُـمُسَهٝ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِـذِى الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِۙ
پس جان لو کہ غنائم(مالِ غنیمت) میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے اذن سے اللہ کے محبوبؐ اور آپؐ کے اہلِ بیت کی تملیک ہے اور اُس سے یتیم ، مسکین اور راہی و محتاج کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
تجار، سرمایہ دار اور کاروباری خواتین و حضرات نفع کی رقم سے “خمس” ایسے صاحبانِ حیثیت اور صاحبانِ کردار ساداتِ کرام کو ادا کر سکتے ہیں جن کی کارگاہِ فکر میں کاوشوں کے شجر شاداب رہتے ہیں اور جو فلاحِ معاشرہ کے لیے فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ حصولِ اجر کےلیے کوئی بھی شخص زائد مال سے بھی خمس کی ادائیگی کر سکتا ہے ۔ زکوۃ الگ سے صاحبِ نصاب پر واجب ہوتی ہے۔
۔
· ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا زندگی گزارنے کا اسلوب دائمی مقاصد کے حصول کے لیے ایسے رہنما اصول فراہم کرتا ہے جن پر عمل پیرا ہو کر ہم نہ صرف دنیاوی زندگی میں ترقی و خوشحالی کی منزلیں طے کر سکتے ہیں بلکہ اخروی زندگی میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔الاحزاب، آیت 21 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا
ترجمہ: بے شک تمہارے لیے حضورﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں بہترین عملی نمونہ ہے، جو اللہ اور قیامت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے۔
· قرآنِ حکیم کی روشنی میں نظریہ ، شناخت ، اقدار اور امید کا احیاء ہر انسان کے لیے آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔حضورﷺ کے پیغامات کی عملی سفارت کاری ملتِ ابراہیم ؑ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔اسی نقطہ نظر کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہم خیال لوگوں کی باہمی جڑت سے Revival of Uswah e Hassanah(RUH) Forum روح فورم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ روح فورم مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے قائدین کو اس جذبے کے تحت متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے تا کہ زندگی کے تمام شعبوں میں اسوۂ حسنہ اور روحانی اقدار کا احیاء ممکن ہو سکے۔
- فورم کی اولین ترجیح جدید علوم اور دینی علوم کے ساتھ معاشرتی اقدار کے فروغ کے لیے مربوط نصابِ تعلیم کی تشکیل اور نئی نسل کے اذہان میں بنیادی و فکری پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی ٹیم تیار کرنا ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں کے نقطہ آغاز ہی سے رول ماڈل اساتذہ اور والدین کی خصوصی توجہ سے ایسی نسل پروان چڑھ سکتی ہے جو مستقبل میں جذبہ ء اخوت سے سرشار ہو کر صالح معاشرے کے قیام میں مربوط، مثبت اور فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔ملتِ ابراہیمؑ کو اتحاد، انفاق اور مواخات کے رشتے میں پرونے کے لیے حکیم الامت، علامہ اقبالؒ کی تعلیمات مؤثر ذریعہ ہیں۔ حکمتِ اقبالؒ کے مطابق ، انسان کی حقیقی کامیابی، روحانی ، فکری ، جدید سائنسی علم اور عملی افادیت سے منسوب ہے۔روح فورم سے منسلک مختلف شعبوں کے سربراہان نے انھی فکری پہلوؤں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے آبروئے ملت گروپ اور ایمبلم اسکول سسٹم کی بنیاد رکھی تا کہ نئی نسل کی تخلیقی و تعمیری صلاحیتوں کو پروان چڑھا کر انھیں انفرادی و اجتماعی خوشحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔اس مقصد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے تمام اداروں کی طویل المیعاد جڑت ہی نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے۔ فورم اِ س تعلیمی نظام کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر روشناس کروانے کے لیے انفاق اور مواخات کی بہترین حکمت کو بروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
- اسلام کے نظام ِ انفاق اور مواخات کی روشنی میں صدقے کا آغاز کھجور کے ایک دانے سبے بھی کیا جا سکتا ہے یعنی فلاحِ معاشرہ کے لیے چھوٹی سی چھوٹی میسر چیز بھی نظامِ انفاق کا حصہ بنائی جا سکتی ہے۔ہمارا تعلق جس شعبے سے بھی ہو اور تنگدست کی کفالت کی جتنی بھی بساط ہو، ہم عملی طور پر اپنی کاوشیں بروئے کار لا سکتے ہیں۔ضرورت صرف احساس کو درست سانچے میں ڈھالنے اور وسائل کو مربوط و منظم طور پر استعمال کرنے کی ہے۔ اسوۂ حسنہ اور مواخات کے تناظر میں کسی مستحق گھرانے کی تمام ضروریات کی ذمہ داری اٹھائی جا سکتی ہے اور اُن کے بچوں کو معزز شہری بنانے کے لیےاُن کی صلاحیتوں اور ہنر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے تا کہ وہ نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں بلکہ جذبہ ء اخوت سے سرشار ہو کر عہدِ جدید میں معاشرتی و سماجی بنیادوں کو مستحکم کرنے کے لیے مربوط، مثبت ، فعال کردار ادا کر یں اور گزشتہ ادوار کی ناکامیوں کا ازالہ ہو سکے۔
- لہذا روح فورم اور آبروئے ملت گروپ( ایمبلم اسکول سسٹم )کے منتظمین نے مشترکہ کوششوں کے تحت انفاق فنڈ کا آغاز کیا ہے جو انشا اللہ انفاق بینک کے قیام میں سنگِ میل ثابت ہو گا ۔انفاق فنڈ کا مقصد زکوۃ و خیرات کی رقوم کو مؤثر اور منظم منصوبہ بندی کے تحت مستحقین کی تعلیم، روزگار اور چھوٹے بڑے سماجی منصوبہ جات کے آغاز کے لیے بروئے کار لانا ہے۔جو خواہشمند خواتین و حضرات بحیثیت پیشہ ور ،مصنف، دانشور، معلم، مشیر، سرمایہ کار اور سماجی و فلاحی کارکن اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے میرِ کارواں کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اُن کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں مستحق افراد یا گھرانے کی نشاندہی , انتخاب اور کفالت میں ہماری معاونت کی جا سکتی ہے اور مالی اشتراک وا نتظامی امور کی انجا م دہی کےلیے بھی اپنی خدمات پیش کی جا سکتی ہیں۔ایسے مرتبینِ نصاب جو قرآن، حدیث اور حکمتِ اقبالؒ سے روشناس ہیں، انھیں اقدارِ اسوۂ حسنہ سے مزین جدیداور بنیادی نصابِ تعلیم مرتب کرنے کے لیے فورم میں شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔فورم دینی تعلیم سے بہرمند ان اساتذہ کی تلاش میں بھی ہے جو تدبیر، تحریر اور تقریر میں ماہر ہوں۔ مستحق بچوں کو پڑھانے اورمستحق خاندانوں کی کفالت کے لیے اس کارِ خیر میں مخیر احباب اپنی زکوۃ و خیرات کے ذریعے بھی ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ فورم ایسے تمام باصلاحیت اور با کردار افرادِ ملت کی شمولیت کا خواہشمند ہے جو قوم کو موجودہ زبوں حالی سے نکالنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
- ۔
