روح فورم۔تعارف اور مقاصد

انسان اپنے ارد گرد کے اچھے برے حالات سے مثبت یا منفی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ایسے میں وہ اپنی اصلاح اور مسائل کے حل کی تلاش  کے لیے فکر مند رہتا ہے۔اللہ تعالی ٰ نے قرآنِ عظیم میں ارشاد فرمایا ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب)

بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے

قرآن ِ مجید میں حضورؐ کو سراج ِ منیر کہا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ آفتابِ نبوت کی شعائیں زندگی کے ہر شعبہ پر پڑتی ہیں اور اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں تمام معاشرتی مسائل کا حل موجود ہے۔چنانچہ سیرتِ طیبہ کو عملی سطح پر اجاگر کرنا اشد ضروری ہے۔روح فورم ( Revival of Uswa e Hasanah) یعنی اسوہءِ حسنہ کے احیاء کے  لیے میدان عمل میں داخل ہوا ہے۔ اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں معاشرتی ، تعلیمی، معاشی اور اقتصادی مسائل کے حل کے لیے  ایک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے مرکزی دفتر  کوتمام تر ضروریات اور سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔جب تک ہم انفرادی  طور پر معاشرتی خوشحالی کے لیے کوشاں رہیں گے خوشگوار نتائج بر آمد نہیں ہوں گے۔اتحاد میں برکت ہے۔احادیث مبارکہ ہیں۔

 

بندے کی فراست یہ ہے کہ وہ اقتصادی سرگرمیوں میں لوگوں کی  رفاقت پائے (راوی عبداللہ بن عمرؓ)

جس شخص نے باہمی معاملہ کیا اس نے فلاح پائی (سلسلۃ الاحادیث لا لبانی،جامع الصغیر اور فیض القدیر)

سماجی اقدار کی بہتری کے لیے اقتصادی خوشحالی ضروری ہے۔کون نہیں جانتا کہ جو معاشرہ غربت و افلاس کی لپیٹ میں ہوتا ہے وہاں لوگ اخلاقی ابتری کا شکار ہوتے ہیں۔اس ضمن میں ایک اور حدیثِ مبارکہ ہے۔

کچھ بعید نہیں کہ معاشی تنگ دستی کفر تک پہنچ جائے (جامع الصغیر)

حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے اپنے ایک شعر میں اسی حدیث مبارکہ پر روشنی ڈالی ہے۔

پَنج رُکن اسلام دے تے چھیواں فریدا  ٹُک
جے نہ لبھے چھیواں تے پنجے جاندے مُک

روح فورم ہر شعبہ میں اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں بہتری لانے کے لیے تمام خواتین و حضرات کو متحد ہو کر کام کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

Slide5

روح فورم کی مختلف یونٹس اور ان کا تعارف

فکری یونٹ(Revival of Allama Iqbal Hikma)

حکیم الامۃ علامہ اقبالؒ کے نظریات اسوہءِ حسنہ کے ترجمان ہیں۔کلامِ اقبالؒ عشقِ رسولؐ، ملی اتحاد اور عالمگیر انسانی اخوت کی عکاسی کرتا ہے۔آپؒ نے خودی کا تصور پیش کیا تا کہ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی اقدار کا احیاء کر سکیں اور اپنی شناخت برقرار رکھ سکیں۔عصر ِ حاضر میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل مغربی تہذیب کے زیر ِ اثر ہے اور اپنی روایات اور اسلامی تہذیب سے نا آشنا ہے جس کی وجہ سے بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔گھر سے لے کر معاشرے تک بے چینی کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ایسی صورت ِ حال سے نمٹنے کے لیے نوجوان نسل کو  فکرِ اقبالؒ سے روشنا س کرانا اشد ضروری ہو گیا ہے۔

اقتصادی یونٹ (Business)

اقتصادی خوشحالی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔اسوہءِ حسنہ سے ہمیں مشترکہ تجارتی معاملہ کے تحت اقتصادی خوشحالی کے حصول کی ہدایت ملتی ہے۔حدیثِ مبارکہ ہے۔

بندے کی فراست یہ ہے کہ وہ اقتصادی سرگرمیوں میں لوگوں کی  رفاقت پائے (راوی عبداللہ بن عمرؓ)

فورم کی خواہش ہے کہ تمام کاروباری حضرات مل کر اپنا برانڈ بنائیں اور ملکی تجارتی سرگرمیوں کو بین الاقوامی منڈی تک وسعت دیں۔CPECکے حوالے بہت سے اہم منصوبوں کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔اگر ہم مشترکہ طور پر ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو خوشحالی کی طرف ایک اہم قدم ہو گا۔فورم نے اس حوالے سے لائحہ ءِ عمل تیار کر رکھا ہے۔خواہشمند خواتین و حضرات مشاورت اور رہنمائی کے لیے ہم سے رابطہ فرما سکتے ہیں۔

الکاسب موومنٹ(Al Kasib Movement)

علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا

زیرِ گردوں آن جوانِ ارجمند

می رود مثلِ صنوبر سر بلند

(محنت کش نوجوان آسمان تلے قابل ِ قدر ہوتا ہے اور صنوبر کے درخت کی طرح سر بلند رہتا ہے۔یعنی محنت کش کبھی تنگدستی کا شکار نہیں ہوتا)

آج ہمارے معاشرے میں ہنر اور فن کا رجحان ختم ہو رہا ہے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوان نوکریوں کی تلاش میں وقت کا ضیاع کرتے ہیں۔بے کاری کی عادت نے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر  منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔معاشرے میں ہنر مندوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ہاتھ سے کام کرنا انبیاءِ اکرام ؑ کی سنت ہے اور ہمارے پیارے نبی ؐنے بھی اپنے ہاتھوں سے ہر کام کر کے امت کو فلاح کا راستہ دکھایا۔حضورؐ نے کسب گر (محنت کش) کو اللہ کا دوست کہہ کر معاشرے میں ان کا مقام و مرتبہ بلند فرمایا۔روح فورم الکاسب سنٹرز قائم کر کے  Dropouts  کو ہنر مندی سے روشناس کرانے کا عزم رکھتا ہے۔روح فورم کے زیرِ سایہ الکاسب سنٹر چھب سے کئی نوجوان بچے اور بچیوں نے  پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کی۔ہنر مند نوجوان نہ صرف قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی سطح پر بھی اچھے کردار کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

معاشرتی اور ملی جڑت(Social and National Integration)

مواخاتِ مدینہ اسوہءِ حسنہ کی وہ تابناک عملی مثال ہے جس کے تحت تمام  قبائل باہم متحد ہو گئے اور ان میں اخوت اور رواداری پروان چڑھی۔آج پاکستان کی خوشحالی اور بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ تمام اکائیوں کو ان کے تشخص کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے مواخات کی لڑی میں پرویا جائے۔اس مقصد کے حصول کے لیے فکری رہنماوں کے ناموں سے ذیلی شاخیں بنائی جا سکتی ہیں جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔جیسے اہلِ بیت فورم، رحمن بابا فورم ، سرمد فورم، بھٹائی فورم، بابا فرید فورم وغیرہ وغیرہ۔

حال ہی میں روح فورم  کی صوبائی شاخ “ولی فورم” کا قیام عمل میں آیا ہے۔اس کا محرک خیبر پختون خواہ کی مشہور  علمی اور روحانی شخصیت ڈاکٹر راج ولی شاہ خٹکؒ) کی کاوشیں بھی ہیں۔فورم ایسی ہے شاخیں تمام صوبوں میں قائم کر کے سماجی ، معاشی، تعلیمی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے  مشترکہ کوششیں کرنے کا عزم رکھتا ہے۔اس سلسلے میں تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے سماجی اور اقتصادی اداروں سے معاونت کی درخواست ہے۔

تعلیمی اور اداراتی جڑت (Educational and Institutional Integration)

ملک کے اندر مختلف ادارے خواہ وہ ادبی ہوں یا تعلیمی، ان کے درمیان اشتراک ِ عمل وقت کا اہم تقاضا ہے۔قرآن ِ مجید ہمیں اداراتی توسیع اور اس کی مرکزیت کا درس دیتا ہے۔روح فورم تمام اداروں کو باہم مربوط کرنا چاہتا ہے تا کہ ایک دوسروں کے تجربات، خیالات، خدمات، سرمایہ اور کاوشوں سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔یوںہ ہر نظریاتی ، مذہبی اور مسلکی تعصب کو پسِ پشت ڈال کر اسلامی اور ملی شعور  بیدار کیا جا سکتا ہے۔آئیے حکیم الامۃ علامہ اقبالؒ کے اس نظریہ کے فروغ  میں اہم کردار ادا کریں

اپنی ملت پر قیاس اقوام ِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ِ ہاشمی

Slide12