روح بزنس گروپ کے اراکین کے لیے ایک پیغام

شراکت دار چاہے  وہ کم سرمائے کے مالک ہوں چاہے زیادہ کے ، اُن منصوبوں کی تکمیل کے لیے اب عملی طور پر   اپنی کاوشیں بروئے کار لائیں جو روح فورم نے اسوہءِ حسنہ کی روشنی میں ترتیب دیے ہیں۔روح بزنس گروپ فلسفہ ء اقبالؒ کی روشنی میں سرگرمِ عمل ہے

فرد قائم ربط ِملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

اس بات کو بھی مدِ نظر رکھا جائے کہ  تعلیمی، معاشی، معاشرتی، فلاحی اور تجارتی منصوبوں کے لیے جہاں اخلاص  و یگانگت ضروری ہے وہاں  اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے وسائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے

حدیث مبارکہ ہے “اقتصادی سرگرمیاں نصف زندگی ہے”

(راوی: نقادۃ الاسدیؓ)

ہمارے پیارے نبیؐ نے رزقِ حلال کے لیے مشقت کرنے والے کو مجاہد فی سبیل اللہ کا درجہ عطا فرمایا ہے۔فورم کا مقصد صرف رزق کمانا نہیں بلکہ تجارتی سرگرمیوں سے انفرادی اور اجتماعی مثبت تبدیلیاں  پیدا کر  کے  ان کے اثرات  تعلیم، کسب، اخلاق، معاشرت، فلاح و اصلاح  اور دیگر شعبوں پر مرتب کرنا ہے۔معیار ِ زندگی اور تہذیبی اقدار ایک دوسروں کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔جو معاشرہ خوشحال ہوتا ہے وہاں تہذیبی اور اخلاقی اقدار  پوری توانائی کے ساتھ مثبت انداز میں پروان چڑھتی ہیں۔غربت کےباعث معاشرے میں اخلاقی  اور معاشرتی اقدار  پامال ہونا شروع ہو جاتی ہیں. حتیٰ  کہ معاشی تنگدستی لوگوں کو کفر تک لے جا سکتی ہے

حدیثِ مبارکہ ہے “کاَدَ الْفَقْرُ اَنْ یَّکُوْنَ کُفْراً”

ترجمہ: کچھ بعید نہیں کہ معاشی تنگ دستی کفر تک پہنچ جائے

بابا فرید گنج بخشؒ کا ایک شعر اسی حدیث کی عکاسی کرتا ہے

پَنج رُکن اسلام دے تے چھیواں فریدا  ٹُک
جے نہ لبھے چھیواں تے پنجے جاندے مُک

اسلامی نظریہ ء حیات کی روشنی میں اجتماعی اقتصادی کوششوں کی اشد ضرورت ہے اور اس سلسلے میں روح فورم نے ایک بزنس کلب قائم کیا ہے۔جہاں مشترکہ وسائل اور سرمائے کو بروئے کارلاتے ہوئے خوشحال معاشرے کا قیام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔تمام  خواتین و  حضرات  سے درخواست ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے اب عملی طور پر قدم اٹھائیں تا کہ ہم تمام معاشرتی اور سماجی  مسائل کو جلد سے جلد حل کر پائیں