دائرہ

تکوینی((Universal System اور تشریعی(Constitutional System) دونوں حوالوں سے دائرہ اور اس  سے پیدا ہونے والے مزید دائرےنہ صرف خالقِ کائنات کےدلچسپ نظام  کی عکاسی کرتے ہیں  بلکہ اہمیت کےحامل بھی ہیں۔کائنات اوپر سے نیچے کی طرف دوائر کی صورت میں پھیلاو اختیار کرتی ہے یعنی ایک مرکزی دائرے سے مزید دائرے تشکیل پاتے ہیں، ان سے مزید اور یہ سلسلہ بڑھتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے ۔اسے Descending Expansion in Circles  کہتے ہیں۔

کائنات کا آغاز خالقِ کائنات کے ارادہ سے ہوا۔یہ ارادہ قدرت، محبت ، تدبیر اور حکمت سے آراستہ تھا۔

سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ایسے دائرے تخلیق فرمائے جن کی شباہت آنکھ جیسی تھی اور جنھیں ظاہری طور پر نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔زمین و آسمان جیسے بڑے دائرے بھی چھوٹے دائروں  کی شکل میں ظاہر ہوئے اور وسیع ہوتے گئے ۔اس عمل کو قرآنِ مجید نے (رَتق) سے تعبیر کیا ہے

كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا(الانبیاء)

زمین و آسمان ایک خفیف دائراتی نقطہ کی شکل میں تھے۔پس ہم نے اُس نکتہءِ دوائر (جس نکتہ سے مزید دائرے تشکیل پاتے ہیں) کو پھاڑ کر پھیلاو اور نزول دیا۔

زمین ، آسمان، چاند ، سورج اور دیگر تمام اجسام دائروں  کی شکل میں رونما ہوے اور حرکت کرنے لگے۔ان کے اندر ٹھوس دائرے موجود ہیں جن میں سے بعض کو سائنس نے  دریافت کر لیا ہے اور بعض کو دریافت کرنے  میں اب تک ناکام ہے۔

کائنات کی سب سے زیادہ باشعور، ذمہ دار اور بااختیار مخلوق انسان نے بھی نفسِ واحدہ سے جنم لیا۔

قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے

خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ (النساء)

(جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا  )

نفس مختلف عناصر کی وہ ترکیب ہے جو دائرہ کی صورت میں رونما ہوتی ہے۔اسی دائرہ ءِ عظمیٰ سے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ  کی تشکیل کی گئی اور نسلِ آدمؑ کائنات میں پھیلتی چلی گئی۔اس کی مثال یوں بھی دی جا سکتی ہے کہ جب ہم گہرے پانی کے درمیان پتھر پھینکیں تو ایک دائرہ رونما ہوتا ہے اور پانی میں ہلچل پیدا ہوتی ہے ۔اس کے ساتھ ہی دائرہ وسیع ہوتے ہوئے کناروں کو چھونے لگتا ہے۔

کائنات کی حقیقت اور دیگر عوامل کے حوالے سے عظیم فلاسفہ اور سائندان الکندیؒ، الفارابیؒ، ابنِ ماجہؒ، ابنِ حزمؒ، ابن ِ طینؒ، ابنِ نجارؒ، مسکویہؒ، ابنِ رشدؒ، شیخ اکبر ابنِ عربیؒ اور امام جلال الدین رومیؒ  وغیرہ نے عمدہ دلیلوں کے ساتھ علمی سرمایہ چھوڑا ہے جس سے استفادہ  کیا جا سکتا ہے۔

امام ابنِ عربیؒ فرماتے ہیں

اَلخلقُ عینُ الخالق

(تمام پیدا کردہ ظاہری و باطنی اجسام اللہ کا پرتو (Impact)  ہیں جو لطیف وثقیل دوائر(Circles)  کی صورت میں ظہور کرتے ہیں۔

عالمِ بالا ارواح اور غیر مرئی تخلیقات(جنھیں چھُوا نہیں جا سکتا) پر مشمتل ہے  جن سے اللہ تعالیٰ  کی صفات اور انوارات چھلکتے ہیں مگر انھیں صرف روحانی اور وجدانی سطح (Mystically & Spiritually)  طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے.

انسانی جسم میں موجود خلیے جو دائروں کی شکل میں پھیلتے  اور سکڑتے ہیں ان سے دائراتی نظام کی نشاندہی اور رہنمائی ملتی ہے۔کہاوت ہے کہ زمین گول ہےمگر یہ  بات کہاوت تک محدود نہیں بلکہ کائنات اور اس کی تمام جزیات گولائی میں ہیں۔

شہادت بھی ایک دائرہ ء حق ہے جو زمیں سے آسمان کی طرف بڑھتے ہوئے عرش پر قیام کرتا ہے اور ابدی زندگی میں ہمیشہ روشن رہتا ہے ۔

حدیث مبارکہ ہے

اَرواح الشھداءِ یسکُنوُنَ فی قنادیلِ العرشِ و یَطیرونَ فی حدائقِ الجنۃِ کما یَشاَ عَونَ

شہدا کی ارواح عرش کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں اور جنت کے باغات میں جہاں چاہیں اڑتی پھرتی ہیں/سیر کرتی ہیں

.

روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد 0335-7771005، 0515162023

.

جون 13، 2018