تصوف کی تاریخ میں آپؒ کا مرتبہ بہت بلند اور مسلمہ ہے۔ اشاعتِ اسلام کے حوالے سے شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو آپؒ کے نام سے واقف نہ ہو۔آپ ؒ کا تعلق ایران سے تھا اور تعلیم کے سلسلہ میں آپؒ بغداد تشریف لے گئے۔آپؒ کے نانا جان حضرت سید عبداللہ صومعیؒ کے پھلوں کے باغات تھے اور وہ پھلوں کے تاجر بھی تھے۔آپؒ حصولِ تعلیم میں مصروف ہو گئے اس لیے تجارت میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہو سکے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپؒ نے بغداد ہی میں ایک بہت بڑی دانش گاہ (University) کی بنیاد رکھی جہاں روحانی تعلیمات کادرس دیا جاتا تھا۔یونیورسٹی کے ساتھ جو زمین تھی وہاں کپاس اور دیگر فصلیں کاشت کی جاتیں۔آپؒ کے فرزند اور مرید اُس زرعی فارم کا انتظام و اہتمام کرتے اور آپؒ اس کی نگرانی فرماتے تھے۔اس Sep-up سے مدرسہ، خانقاہ اور گھریلو ضروریات کو پورا کیا جاتا۔یعنی یہ سارا نظام خود کفالت پر مبنی تھا اور کہیں سے شکرانے اور عطیات وغیرہ قبول نہیں کیے جاتے تھے۔اگر ہم اس Sep-Up پر غور کریں تو معاشی اور سماجی ترقی کے لیے عمدہ لائحہ ءعمل سامنے آتا ہے جس کے چند نکات مندرجہ زیل ہیں
- کاروبار کرنا اور خود کفیل ہونا
- ایک نگران کے زیرِ سایہ کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہونا اور محنت کرنا
- کاروبار سے حاصل شدہ نفع سے دنیاوی ضروریات پوری کرنا
- کاروبار سے حاصل شدہ نفع سے دینی، معاشرتی، تعلیمی ترقی کو فروغ دینا
اللہ کے نیک بندوں نے اسوہءِ حسنہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نہ صرف دنیاوی طور پر ترقی کی بلکہ آخرت کے لیے بھی رحمت و برکت کا سامان اکھٹا کیا۔روح فورم مشاہیر ِ ِاسلام کی زندگیوں اور حکمت ِ عملیوں کی روشنی میں تعلیمی، معاشرتی، معاشی اور کاروباری منصوبہ بندی کر کے دین و دنیا کو سنوارنے کا عزم رکھتا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے مشترکہ کاروبار کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ تعلیمی، فلاحی، معاشی اور معاشرتی بہتری کے لیے کئی منصوبے بنائے گئے ہیں جن کی تکمیل کے لیے کاروباری، فلاحی اور سماجی اداروں کے کارکنان کو روح فورم کے ممبر بننے کی دعوت دی جاتی ہے