اللہ تعالیٰ نے جب آدم و حوّا سلام اللہ علیھما کو زمین پر بھیجا تو دو ضروریات کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ایک رہائش اور دوسرا ذرائع۔رسول اللہؐ نے بھی انسان کی بنیادی ضروریات کا تذکرہ کچھ یوں کیا
“بنی آدم کو رزق کی ضرورت ہے جس سے اپنا پیٹ پیٹ پال سکیں۔لباس کی ضرورت ہے جس سے اپنا تن ڈھانپ سکیں۔مکان کی ضرورت ہے جس میں سکونت اختیار کر سکیں”
ہم سب کو معلوم ہے کہ پاکستان ایک خاص تناظر میں تشکیل پایا۔خلافتِ عثمانیہ کے ٹوٹ جانے کے بعد مسلمانوں کی جو واجبی سی مرکزیت تھی وہ بھی ختم ہو گئی۔اس موقع پر اہل اسلام کےبہت بڑے فکری رہنما حضرت علامہ اقبالؒ نے ایک آزاد ملک کا تصور پیش کیا اور اس کےتعلیمی، معاشرتی ، سیاسی، اقتصادی اور سماجی ڈھانچے کو مرتب کرنے کے لیے تمام تر رہنمائی اولین معیاری ریاست مدینہ طیبہ سے حاصل کی۔علامہ اقبالؒ نے واضح طور پر ایک چیز کا ذکر فرمایا تھا کہ ہم اس خطہءِ زمین میں اسوہءِ حسنہ کے مطابق ایک معیاری معاشرہ قائم کریں گے اور عالمِ اسلام کو اس سے وابستگی کی دعوت دے کر عملی مظاہرہ کریں گے اور دنیا پر ثابت کریں گے کہ انسانی فلاح کا تصورکیاہے۔شاعرِ مشرق حکیم الامۃ علامہ اقبالؒ نے قیام پاکستان سے بھی پہلے تجرباتی بنیادوں پرایک معیاری بستی “دارالسلام” کی شروعات کی تھی لیکن ابھی وہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں تھا کہ آپؒ دنیا سے رخصت فرما گئے۔
بعد ازاں تصورِ اقبالؒ کو بنیاد بناتے ہوئے قائد ِ اعظم ؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانانِ برِصغیر نے حصولِ پاکستان کی پر امن مگر موثر تحریک کی بنیاد رکھی اور 1947 میں ایک آزاد ریاست کا قیام عمل میں آ گیا مگر کئ مسائل کی وجہ سے علامہ اقبال ؒ کا خواب ادھورا رہ گیا۔
قیام ِ پاکستان کے بعد موثر منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے مفید رہائشی منصوبوں کی تشکیل نہیں ہو سکی۔اسلام آباد کے علاوہ ہر شہر کا انتظامی ڈھانچہ نہ صرف بے ربط ہے بلکہ دن بدن کئی مسائٖل بھی پیدا ہو رہے ہیں۔بڑے شہروں کی آبادکاری اور ترتیب بندی پرائویٹ اداروں کے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کے لیے کثیر سرمائے کی ضرورت ہے اور حکومتی سطح پر ہی کچھ ممکن ہو سکتا ہے لیکن چھوٹے سرمایہ کار مشترکہ سرمائے کو بروئے کار لاکر بہترین اور معیاری منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔اس سلسلہ میں روح فورم تمام چھوٹے بڑے سرمایہ کار خواتین و حضرات کے لیے ایک پروجیکٹ میں شرکت کی دعوت دیتا ہے جس کے کچھ اس طرح سے ہیں۔
اس ہاوسنگ کالونی کا نام حدیقہ المدینہ یا دارالسلام رکھا جائے گا۔ مدینہ طیبہ جیسی معیاری بستی کی مثال آج تک کہیں بھی نہیں ملتی۔ہجرت سے قبل اس جگہ کو یثرب کہا جاتا تھا۔معاشی اور معاشرتی مسائل عام تھے۔امن و اماں کا فقدان تھا۔موثر منصوبہ کے بغیر لوگ اقتصادی طور پر بہت پست حال تھے۔یہودیوں کی سا ھو کاری نے مدینہ کی معیشت کو تباہ کر دیا تھا اور عام شہری غربت و افلاس کی زندگی گزار رہا تھا۔رسول اللہ ؐ نے ہجرت کے فوراّ بعد اس شہر کی اصلاح کا آغاز فرمایا۔مدینہ میں مختلف مکتبہ ءِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد تھے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے لڑائی جھگڑا شروع ہو جاتا تھا۔آپؐ نے میثاقِ مدینہ کے تحت سب کو پر امن لڑی میں پرو دیا اور ہر شہری کو اس کے حقوق کی فراہمی کی ضمانت دی۔میثاقِ مدینہ کے اندر ایسے نکات رکھے جن کو ان لوگوں نے خود قبول کیا۔
کاروباری سرگرمیوں کو اس انداز میں منظم کیا کہ یہود کی اجارہ داری ختم ہو گئی اور سود کے بجائے کاروبار میں منافع کے تقسیم کا تصور ابھرا۔مدینہ کی اجناس شام کی منڈیوں تک بر آمد ہو لگیں اور کثیر زر مبادلہ حاصل ہونے لگا۔گلہ بانی کی صنعت ایسی عروج پر چلی گئی کہ کھانے پینے کی اشیا کی قلت ختم ہو گئی اور ہر شخص کو ضرورت کا سامان آسانی سے میسر آنے لگا۔خوشحالی ہر شخص کی دہلیز پر دستک دینے لگی۔
رسول اللہ ؐ نے مہاجرین و انصار کے درمیان ایسی عمدہ مواخات کرائی کہ وہ ایک دوسرے کا سہارا بن گئے اور ان کےباہمی تعاون کی وجہ سے نتیجہ خیز اثرات مرتب ہونے لگے۔
مسجدِ نبوی کی تعمیر کی صورت میں ایک ایسا مرکز فراہم ہو گیا جو صرف عبادت گاہ ہی نہیں ، ایک مشاورتی کونسل اور پارلیمنٹ بھی تھی۔اسی مسجد شریف میں دو اہم شعبہ جات بنائے گئے جن میں تربیت اور آگاہی کے بہترین مواقع میسر تھے۔ایک شعبہ کاتبین ِ وحی کا تھا جسے موجودہ دور میں Writers Forum کہا جا سکتا ہے۔ان کے لیے مسجدِ نبوی میں دفتر مہیا کیا گیا۔قرآن و احادیث کی تدوین میں ان عظیم الشان صحابہؓ کے کردار کو بہت اہمیت حاصل ہے۔بیرونی دنیا سے خط و کتابت کی ذمہ داری بھی انھی کاتبینِ وہی پر تھی۔
دوسرا یونٹ اصحابِ صفہ تھے۔ان عظیم ہستیوں نے اسلام کی روحانی اور اخلاقی فروغ میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔رسول اللہ ؐ ان سے نہایت محبت سے پیش آتے تھے۔یہ دراصل ایک تربیتی گروپ تھا۔انہوں نے اپنے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیے۔
ایک اور ذیلی ادارہ مسجدِ نبوی میں خواتین کے لیے مختص تھا۔حضرت ام سلیم ؓ کی درخواست پر رسول اللہ ؐ بدھ کے دن خواتین کے لیے ایک تربیتی نشست کا اہتمام کرتے تھے جس میں مدینہ طیبہ کی تمام خواتین شرکت کرتی تھیں۔روحانی تعلیمات کے علاوہ ان کو معاشرتی اطوار بھی سکھائے جاتے تھے۔امہات المومنین کے ھجرات میں بھی آگہی کا ایسا نظام میسر تھا جس سے خواتین استفادہ فرماتی تھیں۔
مدینہ طیبہ میں فجر سے لے کر ظہر تک کا وقت کاشتکاری، باغبانی، کھجوروں کے باغوں کی نگہداشت اور گلہ بانی کے لیے مختص تھا۔بے کاری پر سخت پابندی تھی۔تجارتی سرگرمیاں نمازوں کے دورانیہ کے علاوہ باقی سب اوقات میں جاری و ساری رہتی تھیں۔ایک ایسا مرتب، مہذب اور جدوجہد یافتہ معاشرہ تشکیل پا گیا تھا کہ ایک فرد بھی مانگنے والا نہیں تھا اور خوشحالی کا دور دورہ تھا۔
حضرت ام سلیم ؓ نے اپنی ذاتی کوششوں سے خواتین کے لیے الکاسب سنڑ بنایا تھا جہاں مدینہ کی بہو بیٹیاں کسب گری کرتی تھیں۔اس سنٹر نے اتنی ترقی کی تھی کہ یہاں سے بہترین منبر تیار ہوا جو چوب کاری کا بہترین نمونہ تھا۔یہ اعلیٰ تحفہ حضرت ام سلیمؓ نے رسول اللہ ؐ کو تحفے میں دیا۔اس سنٹر میں آمدنی اور نفع کا یہ عالم تھا کہ یہاں کی دست کار خواتین جہاد کے مواقع پر مالی تعاون بھی کیا کرتیں اور لاچار بچیوں کی شادیوں کے انتظام و انصرام کا ذمہ بھی خود لیتی تھیں۔
مدینہ طیبہ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ بے کار رہنے کا تصور بالکل نہیں تھااور نکمے پن کی سخت حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔
مدینہ طیبہ کے تمام مکانات کشادہ اور ہوا دار تھے۔درخت لگانے کی ترغیب دی جاتی تھی۔بچوں کے لیے تیر اندازی اور کھیل کود کے لیے مختلف جگہیں مختص تھیں۔
قضاءِ حاجت کے لیے جگہیں متعین تھیں اور صاف ستھرا ماحول قائم رکھنا لازم تھا۔مختلف محلوں میں کنویں موجود تھے۔بارش کے پانی کو تالابوں میں سٹور کرنے کا نظام بھی دستیاب تھا۔اسی طرح پانی ذخیرہ کرنے کا ابتدائی تصور بھی ہمیں اس عظیم شہر سے ملتا ہے۔
اہلِ علم نے مدینہ طیبہ پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ابن ِ ندیم کی فتوح البلدان بہت مشہور ہے۔ہمارے ہاں شاہ عبدالحق محدث دھلویؒ نے جزب القلوب فی البلد المحبوب کے نام سے عمدہ کتاب لکھی جس میں آبادی اورانتظامی معاملات کا ذکر بہت خوبی سے کیا گیا ہے۔
الغرض مدینہ طیبہ کی طرز پر ایک معیاری شہر کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس کے لیے چھوٹے سرمایہ کار مشترکہ منصوبہ شروع کر سکتے ہیں۔
روح فورم کے زیرِ سایہ کنسٹرکشن کمپنیوں کا گروپ مشترکہ تعمیراتی منصوبوں کی تشکیل و تکمیل تک پوری ذمہ داری سے اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ روح بزنس گروپ ، روح فورم کی ایک شاخ ہے جس کا مقصد تعمیراتی منصوبوں کے تحت اقتصادی خوشحالی لانا اور چھوٹےبڑے تمام سرمایہ کاروں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔روح فورم کے مرکزی دفتر میں جہاں تعلیمی اور تربیتی پروگرامز منعقد کر کے سماجی بہتری لانے کے لیے تمام تر سہولیات موجود ہیں وہاں کاروباری سرگرمیوں کو احسن طریقے سے پایہ ءِ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام دفتری اور تنظیمی سہولیات موجود ہیں۔ماہرین کی ایک کمیٹی باہمی مشاورت سے عملی قدم اٹھانے کے لیے لائحہ ءِ عمل تیار کرتے ہیں تا کہ ہر قسم کے خسارے اور بد مزگی سے بچا جا سکے۔ کسی آئڈیا کو لفظوں میں ڈھال کر رجسٹر کیا جاتا ہے اور اس کی تکمیل تک تمام سرگرمیاں ایک ہی چھت تلے جا ری رہتی ہیں۔فورم حدیقۃ المدینہ جیسے منصوبے کے لیے تمام کاروباری خواتین و حضرات کو دعوت دیتا ہے کہ آئیں اور علامہ اقبالؒ کے خواب کی تعبیر ممکن بنا کر معاشرتی اور سماجی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔اس سلسلہ میں روح فورم کے مرکزی دفتر میں مشاورت کے لیے تمام احباب تشریف لا سکتے ہیں۔
