تہذیبِ نفس اور تعمیرِ سیرت

ہم عاجز پڑھانے والے اور شعبہء تعلیم کے ذود پشیماں کا رپرداز اور اختیار نواز اس رنج میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ سماج پر تعلیم کے مطلوب اور خوشگوار اثرات  کماحقہ مترتب نہیں ہو رہے۔درد مند خواتین و حضرات کی پریشانی بجا ہےکہ تعلیمی اداروں سے معاشرہ کی طرف خروج کرنے والے فارغ التحصیل طلباء و طالبات قومی اور عملی زندگی میں اھلیت و افادیت کا مظاہرہ کرنے کے متحمل ہو سکیں گے یا خدا نخواستہ ہمیں خجالت اور حرماں نصیبی کا سامنا کرنا پڑے گا۔تخصیص(Position Holding)  اور خطیر عددی (To obtain Max. Marks) میں مشغول و متصرف ہمارا طالبِ علم قومی اور سماجی افق پر کوئی تعلیمی تاثر اور خُلقی رویّہ بھی برپا کر سکے گا کہ نہیں!

ہم کیا پڑھائیں اور کیسے پڑھائیں؟

اس مسئلے کے حل کے لیے ہمیں قدیم و جدید میں حسین امتزاج(Synchronization)  اور متوازن و معتدل تسلسل پیدا کرنا ہو گا ۔چنانچہ حصولِ غایۃ کے لیے اسوہءِ کامل سے رجوع لازم ٹھہرتا ہے۔جہاں تمام تمناؤں کا ایجاب اور درد ہائے علاج طلب کا درماں ہر آن ، ہر زمان میسر ہے

بقول حکیم الامۃ

عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا

اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

آج جب حالت بہ اینجا رسید کہ ہمارے مذہبی تعلیمی نظام سے شدت پسند اور تفرُٗق آشام  نکل  رہے ہیں  ہمیں  سوچنا پڑے گا کہ  معلم و معلمہ کی تربیتی اور مربیّانہ ترجیحات کیا ہونی چاہیے۔

آئیے!ہم دربارِ بیکس پناہ، خطیرہءِ شفاعت، محسنِ انسانیتؐ کے بابِ کوثر پر چلتے ہیں

فرشتے بزمِ رسالت میں لے گئے مجھ کو

حضورؐ آیۃء رحمت میں لے گئے مجھ کو

(حکیم الامت)

آیاتِ رحمت میں مؤثر اور نتیجہ خیز طریقہ ء تعلیم اور اسلوبِ تدریس ” تزکیہ” ہے

تزکیہ کا سادہ اور اجمالی مفہوم ہے باطنی و روحانی تربیت کرنا تا کہ متعلّم(سیکھنے والا) کو اپنے مقام کا احساس ہو جائے او ر شعورِ حیات میسر آ جائے۔اسی امر کو صوفیاءِ معرفت،متکلمین، تہذیبِ نفس اور فقہاء ، ادراک و فہم کہتے ہیں۔مجھے انبساط ہے کہ ہمارے ہی ایک نوجوان معلم سہیل بن عزیز دامت شرفہُ نے اعلیٰ سطح پر اس قبیل کی تجویز پیش کی ہے۔

تزکیہ کے ساتھ ساتھ توسیعِ مبروم(Compulsory Extension)  کے تحت خواندگی(Literacy) اور حکمت(Wisdom)  کو آیات میں اہم ترین نشست حاصل ہے۔قرآن ِ کریم خواندگی(کتاب وکتابت قرات) کو استعداد(Capacity)  کے طور پر معین کرتا ہے تا کہ حکمت کی کارفرمائی کے لیے اھلیت و قابلیت پیدا ہو(Creation & Sustaining of Capacity)  حکمت کسبی تعلیم کا منتہائے کمال ہے۔اس کا سفر ، عقل افروزی سے شروع ہوتا ہے۔عقل ایک  سرمایہ ہے جو ناسوتی کسب(Worldly Achievement)  کے لیے اس طرح انسان کے وجود میں ودیعت کیا گیا جس طرح معرفت(Metaphysical Achievement)  کے لیے نفس کا استوا کیا گیا ہے۔

عقل داخلی و خارجی دونوں طور پر نمو(Growth) اور ارتقاء    (Ascend  & Expand)   کرتی ہے۔اس کے ارتقائی اور تبسیطی طباقات(Stages) درجِ ذیل ہیں

  1. عقل یعنی جوھری حالت میں(عاقلین ِ قرآن)
  2. خرد یعنی جوھری حالت میں(اولی النہیٰ)
  3. بصیرت (اولی الالباب و الابصار)
  4. حکمت(وہ عطاءِ ایزدی جو عقل، خرد اور بصیرت کو نوازتی ہے

مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثِيراً

اس مقام پر معلم کی ذمہ داری نہایت اہم ہے کہ وہ خواندگی کی استعداد پیدا کرنے کے بعد طالب میں حکمت کی استطاعت پیدا کرے۔کما قال جلّ و علا

وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ (الجمعہ)

(اور ان کو کتاب (یعنی قرآن مجید )اور حکمت کا” علم“ بھی دیتے ہیں )

آپ ملاحظہ فرمائیں کہ یہ وہ منصب ِ عالیہ ہے جس کے اولین اور اصل معلم ِ اخلاق و لکتاب و حکمت یعنی معلمِ اعظم و ازکیؐ ہیں ۔یہاں پر معلم و معلمہ کو نسبتِ رسولی میسر ہے کہ وہ خواندگی سے شاد کام کر کے دو اہم کام سر انجام دیں گے۔

  1. تزکیہ یعنی تہذیب ِ نفس جو روحانی ارتقاء کا پیش خیمہ ہے
  2. حکمت یعنی تہذیب ِ عقل جو مادی ارتقاء کا خُلقی رویہ ہے

اس مقام ِ حکمت پر عقل معرفت کے دروازہ پر دستک دیتی ہے۔

عقل گو آستاں سےدور نہیں

اس کی تقدیر میں حضور نہیں

(حکیم الامت)

یہ سہ گانہ ارتباط(Threefold Combination)  جب آگے بڑھے گا توہم تعلیمی مقاصد سے شاد کام ہوتے چلے جائیں گے اور ضلال (گمراہی) سے نکل آئیں گے

1

روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

0335-7771005، 0515162023