اگر کتاب اللہ کو الگ الگ عنوانات میں تقسیم کیا جائے تو “اخلاق” اہم باب کی صورت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔اخلاق خَلَقَ سے اخذ کیا گیا ہے۔انسان خَلقِ خدا ہے اور خُلق یعنی اچھی خصلت کے بغیر انسان کی شخصیت نا مکمل ہے۔
علامہ اقبالؒ نے فرمایا
آبروئے گُل ذِ رنگ و بوئے اوست
بے ادب بے رنگ و بو ، بے آبرو اوست
اللہ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا یعنی اپنے خُلق پر تخلیق فرمایا اور اپنے اخلاق کا پرتو اپنے بندوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔اللہ تعالی ٰ نے ہمارے پیارے نبی ؐ کا تذکرہ خُلقِ عظیم کے ساتھ فرمایا۔امام ابنِ عربیؒ فرماتے ہیں۔خُلق کے پانچ مرتبے ہیں۔
- عظمت 2 طہارت ہدایت 4.ولایت 5.دعوت
اللہ نے اپنے حبیب ؐ کو عظمت سے نوازا۔آپؐ کی اٰلِ پاک کو طہارت سے شاد کام کیا۔آپؐ کے اصحاب و صحابیاتؓ کو ہدایت کا سرچشمہ بنایا۔آپؐ کے اتباع و اطاعت شعاروں کو ولایت کا تاج پہنایا اور آپؐ کی ساری امت کو دعوت کی صفت سے آراستہ فرمایا۔
یوں فلسفہءِ محمدیہؐ دراصل فلسفہءِ اخلاق ہے۔بجا فرمایا حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ نے کہ تصوف کا دوسرا نام علم الاخلاق ہے۔صفویت(خانقاہیت) کا نظام دراصل سیرت سازی کا عظیم ادارہ ہے۔عصرِ حاضر کا تقاضا ہے کہ خانقاہی نظام کو خارجی اثرات سے پاک کر کے اِسی ادارے کی حیثیت سے اجاگر کیا جائے۔حضرت علی بن عثمان الہجویریؒ نے اس ادارہ کا نصاب اور کارکردگی بہت عمدگی کے ساتھ بیان فرما دیے ہیں
“ہم گروہِ صوفیاء کے پاس جب لوگ سیکھنے آتے ہیں تو ہم پہلے ان کو ادب ، پھر خدمتِ خَلق اور تب ملازمتِ حق سکھاتے ہیں”
تصوف کی یہی وہ نمایاں خصوصیات ہیں جن نے برِصغیر پاک و ہند کے سماجی و معاشرتی نظام پر مثبت اثرات مرتب کیے۔علامہ اقبالؒ نے آپؒ کو عمدہ پیرائے میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے
سید ہجویر مخدوم اُمم
مرقد اُو پیر سنجر را حرم
امام ابو حامد الغزالیؒ فرماتے ہیں
“ہر صنف کا ایک خاص جوہر ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے انفرادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔جیسے جمادات کا ایک خاص جوہر ہے جسے صلابت(پختگی) کہا جاتا ہے۔نبادات کا جوہر تازگی اور حیوانات کا جوہر بھوک، خواہش ہے۔اسی طرح انسان کا جوہر ِخاص خُلق ہے”
ایک اور صوفی بزرگ حضرت ابو سلمان دارانیؒ فرماتے ہیں
“تصوف خُلق کی درسگاہ ہے ۔اس کا نصاب ادب سےشروع ہوتا ہے اور عشق پر جا کر ختم ہو جاتا ہے۔اسی مضمون کو علامہ اقبالؒ نے کس خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے
دیں سراپا سوختن اندر طلب
انتہا یش عشق و آغازش ادب
اگر نیا دور اقدارو اخلاق و اطوار سے بے نیاز ہے تو ایسے نوجوان پیدا نہیں ہو سکتے جن کی سیرت اور کردار میں اسلامی ضابطہءِ حیات کی جھلک ہو۔علامہ اقبالؒ نے فرمایا
چشمِ پیران ِ کُہن میں زندگانی کا فروغ
نوجواں تیرے ہیں سوزِ آرزو سے سینہ تاب
نظامِ تصوف کی Required Form بلاشبہ آج کے نوجوان کی ضرورت ہے۔چونکہ مدرسوں میں تفرقہ بازی کی فضا قائم ہو چکی ہے۔سائنس اللہ سے بے نیاز پن پر قائم ہو کر اپنی سَمَت کا تعین نہ کرنے کی وجہ سے اخلاقی سطح پر ماند پڑ گئی ہے۔علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں۔
جس نے سورج کی شعاوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سَحَر کر نہ سکا
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
فکر کی دنیا میں کامیاب سفر کرنے اور زندگی کی تاریک راہوں کو روشن کرنے کے لیے ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو علم الاخلاق کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔جب تک باطن روشن نہ ہو ظاہری چمک دمک انسان کی تسلی اور اطمینان کا سامان فراہم نہیں کر سکتی۔اس لیے تصوف کا احیاء ضروری ہے۔ہم امام غزالیؒ کی کتابوں “المرشد الامین اور منہاج العابدین” امام عبد الرحمٰن ابن جوزیؒ کی کتاب “منہاج القاصدین” اور حافظ ابنِ قیّم کی کتاب “منہاج السالکین” کو بنیاد بنا کر باطنی علوم پر مبنی نصاب مرتب کر سکتے ہیں جو اخلاقی احیاء کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔چونکہ تصوف کا اصل محرک تمدن ِ اخلاقی ہے۔ان کتابوں سے ماخوز ترتیب درج ذیل ہے
| انابت | دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف رجوع کرنا |
| عقیدت | حقیقی اقدار سے قلبی مناسبت پیدا کرنا |
| ارادت | اہلِ ذوق سے وابستگی |
| مجاھدہ | ریاکاری سے دامن بچاتے ہوئے شریعت گزاری اختیار کرنا |
| تزکیہ | طریقت گزاری اختیار کرنا تا کہ خُلق شخصیت کا حصہ بن جائے |
| تجرید | تکبر، حرص اور تمام ایسی عادتوں کو دور کرنا جس سے اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچتا ہے |
| تفرید | اخلاص، عجز اور تمام مکارمِ اخلاق سے ہمکنار ہونا |
| احسان | عبادات واعمال میں کمال ِ خلوص تک رسائی حاصل کرنا |
| اطمینان | حُبّ ِ رسول ؐ اور اتباع ِ اسوہءِ کاملہ کا مقام ِ ناز |
| فنا فی اللہ | اللہ کی صفات اور انوارات کی روشنی میں خُلق اختیار کرنا |
| بقا با اللہ | زمین پر اللہ کی خلافت کا حق ادا کرنا اور اجتماعی نظامِ عدل کے تقاضے پورے کر کے اللہ کی منشاء ِ تخلیق کو پورا کرنا |
ہر لحظہ نیا طور نئی برقِ تجلی
اللہ کرے مرحلہءِ شوق نہ ہو طے

RUH Manzil, Rauf Tower, 3rd Floor, DHA 2, ISLAMABAD
03357771005
051-5162023