تصوفِ اسلام

اس بحث میں جانے سے قبل “سرّیّت” کو جاننا ضروری ہے،چونکہ Orientalists   نے تصوف اور سرّیّت کو مترادف (Alternatives) ظاہر کیا ہے ۔دونوں ایک دوسروں کے لیے لازم و ملزوم ضرور ہیں لیکن ان میں واضح فرق ہے۔۔سریت “سِرُّٗ ” سے اخذ کیا گیا ہے ۔اس سے مراد وہ فطری اور جبلّی معرفت ہے جو اللہ نے روح میں ودیعت کی ہے۔روح عالمِ امر کاجزو ہے اور جزو اپنے کُل کی وجہ سے قائم ہوتا ہے۔مثلاً اگر درخت سلامت ہے تو اس کی شاخیں بھی سر سبز رہتی ہیں۔

بنیادی طور پر عالمین دو ہیں

  • عالمِ امر
  • عالم خَلق

عالمِ امر میں ممکنات معنوی(Metaphysical) صورت میں کارفرماء ہوتی ہیں اوریہی معنوی ممکنات، عالمِ امر کی  استعداد (صلاحیت) ایک خاص جزوی حد تک عالمِ خَلق(Physical Universe) میں اترتی ہے۔

سرّ ان تمام اجسام کی ارواح میں موجود ہوتا ہے جو دنیا میں پائے جاتے ہیں۔چنانچہ ہر خطہ، ہر دور اور ہر مذہب کے متعلقہ لوگوں میں جو روحانی اور سرمدی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے اس کی اصل تحریک یہی سرّیّت ہے

اب آتے ہیں تصوف کی طرف۔تصوف نہ تو یونانی فلسفے کے ذریعے مسلم معاشرے میں منتقل ہوا ہے اور نہ ہی اسلام کا  عجمی ایڈیشن ہے۔یہ بالکل اس طرح اسلام کا شعبہءِ لا ینفک(Inevitable Part) ہے جس طرح شریعت اہم ہے۔رسول اللہ ؐ کے دور میں جس طرح باقی علوم اصطلاحی طور پر (Terminologically) معین نہیں ہوئے تھے اس طرح یہ فن مبارک  بھی خاص حیثیت سے مقرر نہیں ہوا تھا۔لیکن دور نبویؐ میں تصوف اپنے کمالات اور ضرورت کے اعتبار سے نہ صرف موجود تھا بلکہ اس کی درجہ بندی بھی ہوئی تھی۔مسجدِ نبوی کے مصلیٰ پر شریعت  جلوہ کر رہی تھی۔کاتبین وحی کے چبوترہ پر علم کا راج تھا۔صحنِ مسجد پارلیمنٹ اور ایوانِ حکومت کا منظر پیش کر رہا تھا۔خارجی صحن فوجی چھاونی، کاروباری مرکز اور فنونِ لطیفہ کا مرکز تھا اور مکانِ اصحابِ صفہ

 خانقا ہ تھی جہاں تصوف اور تزکیہ ء نفس کی باتیں ہوتی تھیں۔یہی تصوف کا وہ رنگ تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔لہذا ایسا کہنا بالکل غلط ہے کہ تصوف اسلام میں خارجی اثرات کی وجہ سے داخل ہوا۔مثلا ایران اور ساسان کے زرتشتی اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے۔حضرت زرتشتؑ برگزیدہ تھے۔ہاں البتہ ساسانی تہذیب ِ فکر نےوقت گزرنے کے ساتھ حضرت زرتشتؑ کی تعلیمات سے انحراف کیا لیکن اس انحراف کا نام تصوف نہیں بلکہ حلول ہے۔حلول کا مطلب یہ ہے کہ ایک چیز کا دوسری چیز میں اس طرح شامل ہو جانا کہ دونوں کے مابین فرق کرنا ممکن نہ ہو۔اس طرح ہند اور یونان کی بعض باتوں کو  تصوف کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔جہاں تک یونان کا تعلق ہے ان کی فکری ارتقا کی بنیاد فلسفہ اور عقلیت کو سمجھا جاتا ہے۔یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن نے لُبّ اور نُہیٰ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔یونان کی فکر نے کلی طور پر سائنس کو بنیاد فراہم کی اور جزوی اثرات کے تحت”اتحاد” الحاد، دھریت کا رجحان پیدا ہوا۔ظاہر ہے اس اثر کا بھی تصوف  سے کوئی تعلق نہیں

ہند میں روحانی فضا تھی لیکن   وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  اس نے بت پرستی کا رنگ ڈھنگ اختیار کر لیا۔واضح رہے کہ تصوف کے ساتھ ان چیزوں کو کوئی تعلق نہیں

اس سلسلہ میں سب سے پہلے قرآن سے رجوع کرنا ضروری ہے۔چونکہ اکثر ناقدین ِتصوف کہتے ہیں کہ قرآن میں تصوف اور صوفیاء کا ذکر نہیں آیا۔اس حوالے سے تصوف کی دوسری باقاعدہ تصنیف “کتابُ اللُّمعَ فی اصول التصوف” جو حضرت شیخ ابو نصر سراجؒ نے مرتب کی ہے، سے ایک مختصر اقتباس کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے

“قرآن ِ مجید میں کثرت سے ایسے الفاظ و عبارات موجود ہیں جن سے اہلِ تصوف مراد ہیں۔مثلاً صادقین، قانتین، قانتات، خاشعین، موقنین، مخلصین، عابدین، صابرین وغیرہ۔جہاں تک اصطلاح ِ تصوف کا تعلق ہے۔یہ لفظ صحابہؓ کے آخری دور میں رائج ہو گیا تھا۔جب محدث اور فقیہہ کے الفاظ استعمال ہونے لگے تو لفظ صوفی بھی استعمال ہونا شروع ہوا۔

ہم حضرت امام حسن بصریؒ اور امام سفیان ثوریؒ کی باہمی گفتگو میں اس لفظ کا استعمال کثرت سے ملاحظہ کرتے ہیں۔اثر تو اثر یہ لفظ حدیث میں بھی آیا ہے۔

امام ابو بکر کلا بازیؒ اپنی کتاب “التعرف فی التصوف” میں فرماتے ہیں۔اصل لفظ صُفَوِیْ ہے جو اصحاب ِ صفہ سے لیا گیا ہے۔کثرتِ استعمال سے زبانوں پر صوفی رہ گیا”

حضرت ابو الحسن قّنادؒ اپنی کتاب “احوال الصوفیا” میں لکھتے ہیں۔

“صوفی، صَفَا سے مشتق ہے اور اس کا اطلاق اہلِ صفا پر ہوتا ہے”

حضرت معروف کرخیؒ فرماتے ہں

“جو لوگ امراضِ باطن مثلاً نفرت، نفاق،کدورت، حرص و طمع سے پاک ہوتے ہیں وہ تابعین کے زمانے میں صوفی کہلائے۔

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں۔تصوف اسوہءِ حسنہ کا نام ہے اور تمام علومِ دینیہ او ر اعمال ِ اسلامیہ کا  نچوڑ ہے

ruh-cont

RUH Manzil, Rauf Tower, 3rd Floor, DHA 2, ISLAMABAD

03357771005

051-5162023