وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
(سورۃ انحل، آیت 14)
اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو
اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ کائنات کے بعد انسانوں کو بہت سے وسائل اور زرائع فراہم کیے اور انھیں تلاش کرنے اور غور و فکر کرنے کی تلقین کی۔حصول ِ معاش اور اقتصادی ترقی کی حکمتیں قرآن و حدیث اور مشاہیر ِ اسلام کی زندگیوں سے تلاش کی جا سکتی ہیں
حضرت عبدالرحمان ابنِ عوفؓ کا عمل مشارکہِ (Business Partnership) ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔مکہ مکرمہ میں آپؓ خشک پھلوں کا کاروبار کرتے تھے۔آپ ؓ کا حضرت سعید ابن زیدؓ کے ساتھ کاروباری اشتراک بھی تھاہجرت کے وقت مشرکین ِ مکہ نے آپؓ کی دکان لوٹ لی۔آپؓ بے سروسامانی کے عالم میں مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔مواخات مدینہ کے خوشگوار منظر میں آپؓ کے بھائی حضرت کعب ابن مالکؓ انصاری ہوئے۔انہوں نے اپنے گھر کا اثاثہ آدھا آدھا کیا اور نصف مال آپ کو پیش کیا۔آپؓ نے پیش کش سے معذرت کرتے ہوئے ان سے قرضہ ِ حسنہ دینے کو کہا۔حضرت کعبؓ نے فرمایا۔بھائی قرض نہیں دیتا۔بلکہ یوں کرتے ہیں کہ سرمایہ میں لگاوں گا اور آپ کاروبار کریں جب نفع ہو جائے تو آپؓ اپنے حصے کا نفع دوبارہ کاروبار میں لگا کر(investment)باقائدہ شراکت دار (Share Holder) بن جائیں. حضرت کعبؓ زراعت اورباغات کی رکھوالی(Management) کی وجہ سے خود وقت نہیں دے پاتے تھے۔یوں شراکت ِ کاروبار کا باب کھل گیا
حدیث مبارکہ ہے
رفاقتِ کاروبار میں زیادہ نفع اور برکت ہے (راوی: جریر بن عبداللہؓ)
روح فورم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شراکتِ کاروبار (Business Partnership) کے لیے تمام کاروباری خواتین و حضرات کا خیر مقدم کرتا ہے