ایک تہذیب و ثقافت(خواتین کا لباس)

ربِ ذولمنن کا  ارشادِ دلکشاد ہے جو آدم ِ ثانی سیدنا نوحؑ کی زبانِ حق ترجمان پر جاری ہوا اور تنزیل میں قلبِ مصطفیٰؐ پر طاری ہوا

مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا(النوح)

ترجمہ:-

 اے خلقِ خدا  آپ کو کیا ہو گیا ، اللہ کے حضور وقار کیوں اختیار نہیں کرتے اور بلاشبہ اُس ذاتِ پاک نے آپ سب کو بہترین اطوار کے ساتھ خَلق فرمایا ہے۔

باوقار لباس زیبِ تن کرنا دقیانوسی نہیں بلکہ خُلق ِ آدم ہے۔یہ معاشرت و تمدن ہے اور شخصیت کی نکھار کا باعث بنتا ہے۔یہ جدت و ارتقاء میں مزاحم نہیں بلکہ معاون ہے۔قرآنَ عظیم میں جلباب کا خوبصورت تصور اور حکم ہے جس کا متبادل انگریزی میں Scarf  ہو سکتا ہے۔

اس جلباب کے الہامی اور فطری تصور سے رداء اور چادر کی ثقافت ِ ملبوسی (Dress Culture)  کا رجحان ہماری پروقار روایت کا جزوِ لا ینفک ہے ۔جو بچیاں اس کا اہتمام فرماتی ہیں اُن کو سید الزھراؑ سے خاص نسبت حاصل ہے۔

سیدہ طاہرہ ؑ تمام خواتین کے لیے اس طرح رحمت اور قائد ہیں۔جس طرح رسول اللہ ؐ تمام خلائق کے لیے رحمت ہیں۔آپؑ کا قرآنی لقب الکوثر ہے ۔جو بچیاں آپؑ سے نسبت رکھتی ہیں وہ دراصل الکوثر تحریک کی سدا بہار ممبر ہیں۔علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا

مزرعِ تسلیم را حاصل بتول

مادراں را اسوہءِ کامل بتول

علامہ اقبالؒ دختران ِ ملت سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں

تا حسین ی شاخِ تو بار آورد

موسمِ پیشیں بہ گلزار آورد

ترجمہ:-

اے خاتونِ اسلام سیرتِ زھراؑ کی متابعت کرو تا کہ تیرے دامن میں حسینی پھول کھلیں اور چمنستان ِ مشرق و مغرب میں بادِ بہاری چلے

 اوڑھنی (دوپٹہ) وادئء سندھ کی تہذیب کا خاص حصہ رہا ہے۔ایک خاتون کا لباس با وقار ہو، سرِ عزت پر سکارف ہو تو یہ اُن کی تعظیم و توقیر کا باعث بنتا ہے۔ایک مرتبہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر آئیں، حسنِ اتفاق سے محبوبِ خدا  حضورؐ وہاں رونق افروز تھے۔حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہا تب ایک نوجوان بچی تھیں۔انہوں نے چست اور باریک لباس پہنا تھا، رسول اللہ ؐ نے اِس پر شکر رنجی(Displeasure)  کا اظہار فرمایا اور حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تادیب (Advice)  فرمائی کہ وہ  باوقار لباس زیب ِ تن فرمائے۔

کیا خوب نکتہ دانی فرمائی حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ نے:-

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب

نے زِ رقصِ دخترانِ بے حجاب

نے زِ سحرِ ساحرانِ لالہ  روست

نے زِیان ساق و نے از قطعِ موت

محکمی او  را نہ از لادینی است

نے فروغش از خطِ لاطینی است

قوتِ افرنگ از علم و فن است

از ہمین آتش چراغش روشن است

حکمت از قطع و بریدِِ جامہ نیست

مانعِ علم و ہنر عما مہ نیست

علم و فن ر ا         اے جوانِ شوخ شنگ

مغزمی باید نہ ملبوسِ فرنگ

اندریں رہ جز نگہ مطلوب نیست

ایں کُلہ یا آں کُلہ مطلوب نیست

ترجمہ:-

مغرب کی ارتقاء و اتقاء کا راز میوزک  کنسرٹ اور رقص و سرود کی محافل میں مضمر نہیں ہے۔مشاطہ و زعفران (Cosmetic)  سے سرخ رو ہونے میں یہ راز پوشیدہ  نہیں اور نہ ہی اس کا تعلق سکرٹ پہننے اور داڑھی و مُو کی تراش خراش سے ہے۔ترقی کی یہ حکمت لادینی میں پنہاں نہیں ہے اور نہ ہی اِس کےفروغ کا سبب خطِ لاطینی ہے ۔فرنگ کی قوت علم وفن کے رھین ِ منت ہے ۔علم و فن کے روغن سے اُن کا چراغ فروزاں ہے۔حکمت کب لباس کے قطع و برید سے تعلق رکھتی ہے، عمامہ علم و فن کے حصول میں  کب مانع و مزاحم ہے۔اے شوخ جوانو! علم و فن کے لیے ذھانت و فطانت چاہیے۔صرف ملبوسِ فرنگ (Western Dress)  ہی ممد و معاون نہیں ہو سکتا ۔

اس راہِ ترقی کا زاد (Source &  Mean)   نگاہ و بصیرت  (Proper approach, rational thinking & vision)  ہے۔یہ کلہ (Cap)  اور وہ کلہ پہننے یعنی زیبِ سر کرنے سے کامیابی میسر نہیں آئے گی

/

روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد 0335-7771005، 0515162023