
خالقِ کائنات نے ساری انسانی دنیا کے لیے قرآن ِ عظیم کی صورت میں جو رہنما دستورالعمل بھیجا ہے۔اس میں کسب کی اہمیت اور ضرورت کو واضح طورپر بیان فرمایا ہے
كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ “ہر شخص اس کسب کا مرھون ہے جو اس نے کیا“
اس آیتِ مبارکہ میں ہر شخص کو کسب کا پابند بنایا گیاہے۔گویا کسب گری کو اللہ تبارک تعالیٰ کی طرف سے وظیفہ ء حیات ٹھہرایا گیا ہے۔تا کہ معاشرے کا ہر فرد کار آمد ہو اور اس کے کسب ہنر سے معاشرے پر اچھے اثرات رونما ہوں۔اس میں فرد کی دنیوی اور اخروی بھلائی ہے اور معاشرے کے ساتھ اس کا مفید ربط ِ باہم بھی قائم ہے
قرآنِ عظیم میں ایک اور آیۃ مبارکہ میں از حد قابلِ غور ہے۔جس کی تلاوت کرتے ہوئے شائد ہم صرف ایک ہی پسِ منظر ذہن میں رکھتے ہیں کہ وہ ابو لہب کے بارے میں نازل ہوئی۔اگر ہم مفسر بن عظام کے اس قائدہ کو پیشِ نظر رکھیں کہ قرآن کی ہر آیت کے دو پہلو ہوتےہیں۔صلبی اور ایجابی تو اس آیت سے کسب کی اہمیت کا ایجابی طورپر عمدہ مطلب نکلتا ہے
مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ
His wealth and what he earned availed him not
“اس کو اس کے مال اور ہنر (کسب) نے کوئی فائدہ نہیں دیا”
اس کا صریح مفہوم یہ ہے کہ ایک کاسب اور ہنر مند کو ایمان دار، دیانت دار اور تعمیری کردار کا حامل ہونا چاہیے تا کہ اس کے مال اور کسب میں برکت ہو اور اس کے کسبی اثرات معاشرے پر ایجابی طور پر مرتب ہوںظھر الفساد فی البر و البحر بما کسبت
“ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ “الروم
Corruption has appeared on land and sea with what the hands of the people earned.
بحر و بر میں رونما ہونے والی خرابی انسانی کسب کا شاخسانہ ہے۔اس آیتِ مبارکہ کو بھی ایجابی طورپر سمجھنے کی ضرورت ہے ۔اگر انسانی کسب کے مضر استعمال سے نظام ِ عالم میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے تو اس کسب ہ ہنر کے مفید استعال سے خشکی و تری کو کس قدر سنوارا جا سکتا ہے
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرے میں کسب کے حوالے سے تعیری رجحان پیدا کریں۔نوجوانوں کے ہاتھ میں ہنر کے اوزار دیں۔ان کے ازہان و قلوب میں کسب کا ولولہ پیدا کریں تا کہ حکیم اللامہ کا وہ خواب شرمندہء تعبیر ہو جائے جو آپ نے تصورِ پاکستان کے مقاصد سے وابستہ کیا تھا۔
اے معمارِ حرم، باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
کسب و ہنر میں پاگیزگی اور دیانت کے عمل کو بھی قرآن خصوصی طورپر اجاگر کرتا ہے
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ “ابقرہ
“اے ایمان والو ان پاک اموال میں سے خرچ کرو جن کو تم نے اپنے ہاتھوں کے ہنر سے کمایا”
O people, who believe ! spend of the good things you have earned
اس آیتِ مبارکہ میں کسب ہ ہنر کی زور دار ترغیب ہے اور کسب ہ ہنر کے نتیجے میں کمایا گیا مال پاکیزگی کا حامل بتایا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ و ہ مال اپنے اہل و عیال اور معاشرے کے دیگر افراد پر خرچ کرو تا کہ کسب و ہنر کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا جائے۔
کسب و ہنر کا حکم صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین بھی برابر طور پر زمہ دار اور حق دار ہیں کہ وہ بھی معاشرے کی فعال رکن بنیں۔
“وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ ط لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا” النساء
Men have a share in what they earn, and women have theirs in what they earn.
” مردوں کا اس کمائی میں حصہ ہے جو ان کے کسب و ہنر کا نتیجہ ہے اورعورتوں کا اس کمائی میں سے حصہ ہےجو انھوں نے اپنے ہنر سے کی “
اس حکم ّالہیٰ سے الکاسب کا cooperative culture اور Integrated Al-Kasib view کس خوبی سے ابھرتا ہے۔ایک ایسا
Industrial Home جس میں لڑکوں اور لڑکیوں کو ہنر مند بنایا جائے اور ان کے لیے ان کے تیار کردہ پروڈکٹس میں سے اجرت (wages) کا اہتمام ہواور کچھ پیسہ وہاں کے Executive کو اس Industrial + Craft chain کو آگے بڑھانے پر صرف کرنے کا اختیار ہو تا کہ معاشرے کے ہر فرد کو کسب آشنا اور ہنر آگیں بنا کر خوشحالی کی فضا پیدا کی جائے
الکاسب حبیب اللہ کی فکر ِ نبوی اگر ہمارے عمل میں آ جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا معاشرہ کسب ہ ہنر کے خوشگوار اثرات سے مالا مال نہ ہو سکے اور بے مقصدیت کا موجودہ ماحول مائل بہ اصلاح نہ ہو
آج کے راہبر کا بھی فرض ہے کہ جوجوانوں کو زوقِ ہنر عطا کرے۔معاشرے سے بےعملی، کاہلی اور کم ہمتی ختم کر کے مردِ امروز میں راہِ عمل اختیار کرنے کا شوق پیدا کریں۔ان کے ہاتھ میں ہنر کا عصا دیں تا کہ ان کے یدِ بیضا سے سینائے پاکستان اور عالمِ اسلام ذوالنور بن جائے۔اور اقوامِ عالم ہماری پیروی کو مقدم سمجھیں۔کہ سب کچھ ممکن ہے اگر ہم اپنے نوجوان بچوں ، بچیوں اور ہموطنوں کے ہاتھ کسب آشنا اور کسب آفرین بنا دیں۔بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کے اندر جوھر ِ خوابیدہ کو بیدار کر دیا جائے اور ان کے لیے کسب ہ ہنرکا ماحول پیدا کیا جائے