ہم اپنے تاریخی تسلسل میں جہاں بہت سے صدمات و سانحات کا شکار ہوئے ہیں اور ہوتے آ رہے ہیں اُن میں ایک صدمہ و سانحہ “انحراف” ہے ۔میں ان اسباب و علائل میں جانے سے گریز کروں گا تا کہ طوالت پر طرف رہے اور اُن اکائیوں کی آبرو بھی قائم رہے جو انحراف کے عمل میں دانستہ و نادانستہ اور بلاواسطہ ملوث ہیں
نفسِ مضمون کے بطن میں آنے سے قبل چند ایک مصطلحات (Terms) کو علمی و ادراکی سطح پر سمجھنا ضروری ہے۔
- متاع
قرآن تمام وسائل و وسائط و ذرائع ِ حیات کے لیے “المتاع” کا لفظ استعمال کرتا ہے جو انسانی اجتماع کو ضرورت پڑ سکتے ہیں اور قرآن اطلاع دیتا ہے کہ “متاع” بمقدار وافر زمین اور نظامِ ارض میں ودیعت ہے۔
- فضل
اس متاع(راس ُ المتاع) میں بہت ذیادہ توسیع و تبسیط موجود ہے ۔مثلا آپ مٹی کو شاہکار بنا سکتے ہیں ۔گندم سے آتا اور آٹے سے بسکٹ وغیرہ بنا سکتے ہیں ۔اس حکمتِ ربانی اور رمزِ متاع کو قرآن فضل سےتعبیر کرتا ہے۔
- ابتغاء
ان تمام وسائل کو انفرادی و اجتماعی طور پر تلاش کرنا ، پانا اور بروئے کار لانا قرآنی اظہار میں ابتغاء کہلاتا ہے۔
- ابتعاث
وہ منظم جدوجہد جس کے تحت ارضی وسائل کو تکمیل و تنشیر کی سطح تک لایا جائے ۔مثلا ایک فرد کان سے چونے کا پتھر نکالتا ہے۔دوسرا اس کی تشفیف کرتا ہے۔(To get it purified) تیسرا اس سے صنعت بناتا ہے۔
- ارتکاز
قرآن ارضی وسائل کے احتکار و ارتکاز سے منع کرتا ہے(To not restrict it withen some people) ۔بلکہ ابتغا و ابتعاث میں معاشرہ کے تمام ارکان کو ان کی استعداد کے مطابق شریک کر کے ثمر و تنفع میں عادلانہ طور پر شامل کرنے کی ناگزیر تلقین کرتا ہے۔
- استکثار
قرآن فرد یا ایک گروہ کے ہاتھ میں تمول کے حق میں نہیں ہے ۔چونکہ اس سے متاع جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔نسلِ انسانی میں تمرد، استکبار اور تترف کے مفاسد پیدا ہوتے ہیں جو محرومی اور پھر تصادم کو جنم دیتے ہیں۔اس سے مصالحِ ذریہِ آدم کو سخت نقصان پہنچتا ہے لہذا یہ منشاء ایزدی کے خلاف ہے۔
- عفو و انفاق
- زکوۃ
سال بھر کے غیر متمس(Untouched) ذخیرہ (Saved Treasure) میں سے ایک قلیل ترین مقدار انفاق کرنا۔قرآن اِس کو تفرد کے بجائے تجمع کے طور پر روا رکھنے کی موید ہے تا کہ یہ تنفیق ایک سسٹم میں آ جائے اور انسانی معاشرے کو پائدار معاشی استحکام میسر ہو۔
- تصدق
ھنگامی حالات یا جزوی ناگزیر حالات میں حسبِ استطاعت انفاق کرنا
- عفو
اپنی ضرورت پسِ انداز کر کے باقی مال انسانی عمران کے حوالے کرنا تا کہ ایک Organ کے بجائے پورا جسم مضبوط ہو اور اجتماعی خوشحالی کے مستحکم آثار روپزیر ہوں۔
- تنفال
اپنی پسندیدہ چیزیں انسانی بہبود کے لیے وقف کرنا۔قرآن اس کو بِر اور اس عمل کو حاملین کے ابرار سے معنون کرتا ہے۔یہ عمل شرفِ انسانی کا کمال اور مکارم ِ خُلق کا جمال ہے۔اس قدر سے مملو معاشرے کو قرآن خود کفالت، خود انحصاری اور دائمی معاشی استحکام و تنعم کی نوید سناتا ہے۔(ان الابرارلفی نعیم)
- ایثار
یہ عبدیت کی معراج ہے خود تنگی میں رہ کر دوسروں کی کشادگی کا اہتمام کرنا
الغرض انفاق لجنہ کو فہم و ادراک اور شغل و عمل دونوں کے ساتھ متحرک و متوجد و متقلب ہونا ہو گا تا کہ انحراف کا باب مقفل کر دیا جائے اور الطاف و انبساط کا باب و ا ہو جائے۔
اسی نظام کور سول اللہ ؐ نے بصورت مواخات نافذ کیا ۔مواخات صرف بھائی چارے کا نام نہیں۔یہ دراصل انفاق کی عملی تشکیل ہے جس نے “یثرب” (معاشی تنگی کی جگہ) کو مدینہ منورہ، مدینہء طیبہ، ارض التمور، معمورۃ النعمت بنا دیا حالانکہ وہاں صرف دو ذرائع تھے۔مویشی اور کھجور
آپ سیرت کی کتابوں میں مواخات کے تسلسل کا مطالعہ کریں۔آپ پر یہ رازِ معیشت منکشف ہو جائے گا کہ اس سلسلۃ الذھب میں متاع، فضل، ابتغاء، ابتعاث، زکوۃ، تنال، عفو و انفاق اور ایثار و تصدق اپنے پورے شِکُوہ و سطوت کے ساتھ کارفرما ہیں۔
آب ذرا فلسفہءِ انفاق و مواخات کو جو اسوہءِ حسنہ کے اقدار میں بدرِ منیر کی حیثیت رکھتا ہے کو پاکستان میں لاگو کرنے کا تصور کریں جہاں ذراعت کے تمام مواقع اور معدنیات کے اکثر وسائل، مدخنات (Fuels) کے وافر وسائط ، جڑی بوٹیوں کی کثیر مقدار، اَنعام(موشی ) کی تمام انواع، آب کے ذخائرو سیلان اور موسموں کے تمام اقسام مہیا ہیں تب وہاں خوشحالی کا منظر کیا ہو گا۔سیدنا یوسف ؑ نے اسی نظامِ تنعیم کے زور پر مصر کو خشک سالی میں کسادِ رزق سے محفوظ رکھا بلکہ پورے مدائنِ شرقِ اوسط میں غلہ کی ترسیل کو یقینی بنایا لیکن بقول حکیم الامت علامہ اقبالؒ
ایں کارِ حکیماں نیست
دستِ کلیماں گیر
ضرورت اس امر کی ہے کہ روح فورم کے نوزائدہ پلیٹ فارم پر انفاق کے نظریہ کا شعور رکھنے والے اور اس کی تنفیذو تقویم کی استطاعت و استعداد رکھنے والے کچھ افراد اکھٹے ہو جائیں اور صرف ایک قابلِ تقلید مثال رونما کر دیں ۔
اے معمارِ حرم باز
بہ تعمیرِ جہاں ساز
(علام اقبالؒ)
.
روح منزل تھرڈ فلور، ، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد 0335-7771005، 0515162023