بمصطفیٰ ؐ برسا خویش را کہ دین ہمہ اوست
گر بہ او نر سیدی ، تمام بو لہبی است

اہلِ وجدان و بصیرت کی صف میں حکیم الامۃ اقبالؒ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا اس لیے کہ وہ مصلہءِ امامت پر کھڑا ہے۔اس شعر میں حکیم الامت ؒ نے آنحضرت ؐ کی ذاتِ مبارکہ پر نہیں بلکہ آپؐ کے گھرانے پر بات کی ہے اس لیے اپنے اس شعر میں آپؐ کا صفاتی نام برتا ہے۔مصطفی ؐ کا مطلب تمام خلائق میں چُنا ہوا اور منتخب ہے۔اللہ نے خود کو ربُ العالمین اور مصطفی ؐ کو رحمت اللعالمین کہا ہے۔آپؐ کی بات کو اپنی بات اور آپؐ کی اطاعت کو اپنی اطاعت کہا اور آپؐ کے اسوہءِ حسنہ کو معیارِ عمل ارشاد فرمایا۔
آپؐ اس مقام سے بھی آگے گئے جہاں سے آگے جانے کے لیے فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیل ؑ نے بھی معذرت کر لی۔
حکیم الامۃؒ نے اپنے ایک انگریزی لیکچر میں فرمایا “ایک صوفی بزرگ کہتے ہیں جہاں حضورؐ گئے، اگر میں وہاں گیا ہوتا تو واپس نہ آتا” اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ نبیؐ کی وسعتوں اوردرجات کا کیا عالم ہے”
علامہ اقبال نےعشقِ مصطفیؐ میں ڈوب کر شاعری کی۔اقبال ڈے صرف شاعرِ مشرق کی یاد تازہ کرنے کے لیے نہیں منانا چاہیے بلکلہ موجودہ وقت علامہ اقبال ؒ کی شاعری کی عملی ترویج کا تقاضہ کرتا ہے تا کہ اسوہءِ حسنہ کا احیاء ہو سکے اور مسائل دور ہو سکیں۔روح فورم نے کئی تعلیمی، اقتصادی، کاروباری اور تجارتی منصوبے تشکیل دیے ہیں ۔تمام احباب کو ممبر شپ کی دعوت دی جاتی ہے تا کہ مشترکہ طور پر ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے کوشش کی جائے اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ممکن بنائی جا سکے

RUH Manzil, 3rd Floor, Rauf Tower, DHA 2, Sector A, Islamabad
Cell: 0335-7771005