اسلام میں ذوقِ لباس

دین میں لباس کا معاملہ کسی تنگی یا قید سے وابستہ نہیں بلکہ ایک وقار اور جمال کا متحمل ہے تا کہ اس میں جہاں ان پاکیزہ انسانی اقدار کا خیال رکھا جائے جو ساری انسانیت کے لیے مفید اور باعثِ رحمت ہیںوہاں تنوع، ورائٹی اور ان خصوصیات کو بھی گوارا کیا جائے جو کسی قوم، معاشرہ اور تہذیب و تمدن کے آئینہ دار ہیں

قرآن ِ مجید میں ارشاد  وارد ہوا ہے کہ آب  و ہوا، موسم ار پیشے کی تبدیلیوں سے لباس کی وضح قطع میں نیرنگی ناگزیر ہے

وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُمْ بَأْسَكُمْ ۚ  (سورۃالنحل،آیہ 81)

 اور تمہارے لیے کچھ پہناویں ایسے بنائے گئے ہیں کہ تم کو گرمی سے بچائیں اور کچھ پہناویں ایسے ہیں جو جنگ میں تمہاری حفاظت کا باعث ہیں

قرآنِ حکیم ذوق ِ جمال اور ذوقِ لطیف کی رنگا رنگی بھی تسلیم کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ لباس میں زینت و آرائش ، خوش رنگی و زیبائش کے پہلو ممنوع نہیں بلکہ مطلوب ہیں

خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف، آیہ 31)

اپنی زینت کا اہتمام کرو جب مسجد میں جاو

اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے

 قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ(الاعراف، آیہ 32)

اے حبیب ؐ فرما دیں اس زینت کو کس نے حرام قرار دیا جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے مہیا فرمائی ہے

صرف اس پر بس نہیں بلکہ قرآن کا منشا تو یہ ہے کہ ہر شخص رہن سہن اس انداز کا رکھے کہ جس سے تحدیث ِ نعمت کا اظہار ہو  اور اس بات کا اعلان ہو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کسی شخص یا معاشرہ کو سہولت و آرائش کی کن کن صورتوں سے نوا ز رکھا ہے

واما بنعمۃ ربک ِّ فحدث (ضحی 11)

اور اپنے رب کی نعمت کا چرچا کرو

حدیث ِ پاک میں اس آیت کی تشریح و توضیح ان الفاظ میں آئی ہے

اِْنَّ  اللہَ یُحِبُّ  اَن یَّرَی اَثْرُ نِعْمَتِہِ عَلَی عَبْدِہ (ترمذی شریف)

بے شک اللہ اپنے بندے پر اپنی نعمتوں کا اظہار محبوب رکھتا ہے

تنوع اور اختلاف کی ان ان صورتوں کو جا آب ہ ہوا اور ذوق وضرورت کے تقاضوں سے وابستہ ہیں۔اسوہءِ حسنہ میں نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔بلکہ  درخوراِعتنا جانا گیا ہے۔لیکن اس کے دوش بدوش اسلام یہ بھی چاہتا ہے کہ پاکیزہ اور بلند تر انسانی اوراخلاقی اقدار کو بھی ملحوظ ِ خاطر رکھا جائے جو تہذیب ِ اسلامی کی عکاس ہوں اور اہلِ اسلام کے اندر ہمہ گیر وحدت اور وقار پیدا کر سکیں تا کہ ملی تشخص کا بھر پور اظہار ہو

روح فورم مشترکہ تکسیبی اور تنفیعی جدو جہد کے زریعے ایک وسیع تر اخلاقی، معاشرتی، تعلیمی اور تہذیبی احیاء کا متمنی ہے چونکہ اسوہءِ حسنہ کا سرمدی تقاضا یہی ہے

اپنی ملت پر قیاس اقوام ِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

1

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005

:ruhforum@gmail.com