اسلامی تعلیمات کی روشنی میں -خوف

خوف کو خَوَّفَ ، خاَفَ سے اخذ کیا گیا ہے۔یہ ایک طبعی کیفیت ہے۔اندرونی و بیرونی اثرات اس پر اثر انداز ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اس کیفیت میں کبھی کبھار شدت پیدا ہوتی ہے اور کبھی کبھار  مناسب سطح تک محدود رہتی ہے۔لغت کے اعتبار سے اس کا مطلب گھبرانا، احتیاط کرنا، ڈرنا ، بچنا، تھوڑا تھوڑا کم کرنا، خوفزدہ کرنا، مایوس کرنا، گھبراہٹ میں کوئی کام نہ کرنا، چمڑے کا جبہ پہنا، چلتے ہوئے راستے میں احتیاط برتنا وغیرہ ہے۔

قرآن ِ عظیم میں یہ لفظ فعل، فاعل اور صفت کے طور پر کئی مقام استعمال ہوا ہے۔قرآن نے موضوعاتی سطح پر اس لفظ کو بطور ِ اصطلاح تین عنوانات کے تحت بیان کیا ہے۔

  1. طبعی حالت
  2. صفاتِ ایمان
  3. طبعی علالت(بیماری)

اور نفسی مسئلہ جس کی وجہ سے اور بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

طبعی حالت

قرآن میں جیسے ذکر آیا”  خَافَ مِنْ مُوصٍ ِِ” یعنی دنیا میں سے جانے والا جو اُس شخص کے حوالے سے خوف میں مبتلا ہے جس کو وصیت کی ہے۔

صفاتِ ایمان

أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

یعنی اللہ کے نیک بندےمضبوطیءِ ایمان کی وجہ سے اِس طبعی حالت پر غالب آ جاتے ہیں۔

طبعی علالت

اس حوالے سے بھی قرآنِ مجید میں خوف کا ذکر آیا ہے۔یہ خوف کا وہ پہلو ہے  جس سے روکا گیا ہے۔چونکہ یہ ایمان، شخصی ترقی اور اجتماعی ارتقا کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہےخوف کا یہ زاویہ  ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں  اور اس کی وجہ سے انسان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس کیفیت میں انسان  کم ہمتی کا شکار ہو جاتا ہے اور پریشان رہنے لگتا ہے۔تصورِ خودی پیش کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے  خوف کے Destructive  پہلو کو  بطور خاص نشانہ بنایا ہے اور اس سے بچنے کی ترغیب فرمائی ہے۔

ہر کہ رمزِ مصطفی ؐ مہمیدہ است

شرک را در خوف مضمر دیدہ است

علامہ اقبالؒ نے خوف کو امتِ مسلمہ کے زوال کا ایک سبب قرار دیا ہے اور اس کیفیت سے نکلنے کی تلقین کی ہے

اے کہ در زندان ِ غم باشی اسیر

از نبیؐ تعلیم لا تحزن بگیر

گر خدا داری ذِغم آزاد شو

از خیال ِ بیش و کم آزاد شو

قوتِ ایماں حیات افزا یدت

وردِ لا خوَ فُٗ  علیھم بایدت

قرآنِ عظیم اہلِ علم کو کامیابی کی خوشخبری سناتا ہے

 لَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

“خوف و حزن میں مبتلا ہونے سے بچو۔تم ہی کامیاب اور سر بلند رہو گے اگر تم فی الواقعہ صاحبِ ایمان ہو”

آج ہمارے معاشرے میں خوف کی کیفیت اس قدر شدت اختیار کر چکی ہے کہ لوگ طرح طرح کے شکوک و شبہات میں مبتلا  ہو کر اسلامی تعلیمات کے منُافی رستوں پر چل نکلے ہیں۔مثلاً بچی کا رشتہ اس لیے نہیں آ رہا کہ کسی نے جادوئی حصار میں جکڑ لیا ہے۔بندش کی وجہ سے کاروبار نہیں چل رہا ۔وغیرہ وغیرہ۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن ِ حکیم نے  اس بارے میں کیا کہا ہے

وَلاَ یُفْلِحُ السّاَ  حِرُ حَیْثُ اَتیٰ

ساحر جس طرف سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا

وَماَ ھُمْ بضاَرینَ بہِ مِنْ  اَحَدِِ  اِلّاَ باِذ ْنِ اللہ

اور وہ اللہ کی منشا سے انحراف کر کے کسی کو نقصان پہنچانے کے اہل نہیں ہو سکتے۔

جہاں تک تصوف و سلوک و احسان کا تعلق ہے اللہ کا خوف اور باقی چیزوں سے بے خوفی تصوف کا اصل الاصول ہے اور اس کی بنیاد قرآن کی محکمات (وہ آیتیں جن میں تاویل نہ کی جا سکے) پر ہے۔

وَلِمَنْ خاَ فَ مَقَامَ رَبَّہ ِ وَنَھیَ النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰیٰ

اور جس کے پیشِ نظر اپنے رب کے مقام کا استخصار (توجہ) رہا ۔اور اپنے نفس کو تمام ھویٰ و وسواس و احزان سے روکے رکھا

وَلِمَنْ خاَفَ مَقَامَ رَبّہِ جَنَّتَان

اور جو اللہ کے مقام کی ھیبت سے شاد کام ہوا۔اس کے لیے دونوں جہانوں کی خوشگواری ہے

ruh-cont

RUH Manzil, Rauf Tower, 3rd Floor, DHA 2, ISLAMABAD

03357771005

051-5162023