آبروئے ملت ایجوکیشن سسٹم  – زادِ راہ

سر شکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا

خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا

iqbal

حکیم الامۃؒ کی شاعری قرآن و سنت کی ذَوقی تفسیر و تعبیر ہے اِس لیے ترغیب کا حَسین رنگ لیے ہوئے ہے۔آپ کا ہر شعرمکمل ہوتا ہے۔شعرِ عنوان ملاحظہ فرمائیں،آنجناب نے مسلمانوں کے اندوہ ناک حالت میں سے بھی اُمید کی کِرن نکالی ہے۔سر شکِ چشم مُسلم کی خوبصورت ترکیب میں نامساعد حالات کے اندر مسلمانوں کا گِریہ، رونا دھونا،غم و الم کی ابتلا،مغربی یلغار کے تحت اُن کا سیاسی زوال ،الغرض ساری داستانِ حسرت بیان کر دی  ہے لیکن اسکے ساتھ نیساں کا لفظ کمالِ ترغیب ہے جسِ کا استحضار حکیمہ الامتہ ایسے نابغہء روزگار اور بطلِ ملت ہی کرسکتا ہے۔سمندرِ گریہ اور تلاطمِ امواج میں صدف کا قطرہ آبِ باراں کو کپکپاتےہوۓ ہونٹوں پرجمانا،پھر اپنے بطن میں اُتارنا،موجوں کے تند و تیز تھپیڑے کھاتے،اپنے رِحم صدف میں اُس قطرہ کی ایسی پرورش کرنا کہ وہ گوہرِ تابدار بن جائے۔پھر صدف کے باطن سے باہر آکر اپنی چمک دمک سے سب کو حیران کر دے۔

پہلے مصرع میں تمثیلِ وا قعی کا خوبصورت انداز اختیار کر کے، دوسرے مصرع میں یہ نباضِ  ملت کمالِ استدلال کے ساتھ نفسِ مسئلہ کیطرف آتا ہے اور تسلی  وتشفی دیتا ہے کہ فکرمند ہونےکی حاجت نہیں،گو آج ملتِ خلیل پر کٹھن وقت ہے،دریاءِ قہر میں اُس کو تلاطم خیز موجوں کا سامنا ہے لیکن یاد رکھو گوہرِ تابدار کو شہودوظہور سے قبل پرورش پانے کے لیے ایسے ہی ابتلا کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہاں پر ملت کی نَشاۃِ ثانیہ کو آب کے پس منظر سے جوڑنا حکمتِ دین و فلسفہ کاعجب انطباق ہے۔انسان کی تخلیق پانی سے ہے۔

 وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ

الانبیاء، آیت 30

  رسول اللہُ نے مکہ شریف کے اندر سخت حالات میں صحابہءِ اکرام کو حوصلہ دیتے ہوئےحضرت ہاجرہؑ کی فضلیت بیان کی اور فرمایا:-

“اے پانی والو! یہ ہے تمھاری ماں”

یہ شعر آبروئے ملت ایجوکیشن سسٹم کے لیے زادِ راہ ہے۔

سر شکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا

خلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیدا

۔

انتظامیہ آبروئے ملت ایجوکیشن سسٹم1

آبروئےملت ایجوکیشن سسٹم، ای 43، حیدری چوک، سیٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی

051-8350011-12

0335-7771005