حکیم الامت، علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:-
صورتِ شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ پاک ہے:-
“جو کوئی رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے گا۔اُس کی گزشتہ غلطیاں معاف کر دی جائیں گی۔
ایمان کا مطلب ہے اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھنا اور اللہ کریم سے اجر اور انعام کا طالب ہونا۔ اِس سے اخلاص کی عادت پیدا ہوتی ہےاحتساب سے مراد ہے اِس بات کا جائزہ لیتے رہنا کہ کہیں صیّام کے آداب کے خلاف کچھ سرزد نہ ہو جائے۔یہ عمل دراصل نفس کا تذکیہ ہے جس سے بلند کردار اور اعلیٰ سیرت پیدا ہوتی ہے اور جس وقت روزہ دار ، روزہ کی اصل غایت یعنی تقویٰ داری کی سیرت پروان چڑھا لیتا ہے تو اُس کی گزشتہ خطائیں اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے۔چونکہ وہ اپنی اصلاح کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔
ایمبلم اسکول سسٹم کی کوشش ہے کہ تذکیہ ء نفس کے ایسے ہی تربیتی ماحول میں نئی نسل کو نئے زمانے میں نئے صبح و شام پیدا کرنے کےقابل بنایا جائے۔جدید سماجی و سائنسی علوم کے ساتھ کردار سازی کر کے ان میں اپنے عمل کا حساب کرنے کا شوق پیدا کیا جائے، تاکہ وہ ملت کے مقدر کا ستارا بن کر دنیوی و اخروی کامیابیوں سے ہمکنار ہو سکیں۔
والدین ، اساتذہ، دانشور، ماہرینِ تعلیم، مرتبینِ نصاب، ماہرینِ اقتصاد اور تمام شعبوں کے سربراہان کو دعوتِ فکرو تدبر دی جاتی ہے
۔
آبروئے ملت، شعبہ نشرو اشاعت