حضرت سید علی غواص ترمذی المعروف پیربابا ؒ، قدس اللہ سرہٗ العزیز

(اُس ہستی کا ذکرِ خیر جس نے اپنی روحانی، معاشرتی، اخلاقی اور اقتصادی مساعتی جمیلہ سے معاشرے کی کایا پلٹ دی)

برِصغیر کے سرحدی صوبہ ، کوھستانی، قبائلی اور افغانی علاقوں میں جن بزرگانِ فیض نواز نے رشد و ہدایت، راست تفہیمِ دین اور تعمیل ِ طریقت کا بیڑا اٹھایا، ان میں سادات ِ ترمذ کے گُلِ بے خار حضرت سید علی ترمذی عرف پیر باباؒ سد بہار جلوؤں کے مالک ہیں۔آپ کا مولد مشہور  و قائع نگاروں کے  نزدیک قندوس یا قندس ہے۔یہ نہایت مردم خیز قریہ ہے، حضرت ابراہیم قندوسیؒ ایسے کاملین یہاں سے اٹھے تھے۔معین الدین چشتی اجمیریؒ ، حضرت ابراہیم ہی کے فیض یافتہ ہیں۔آپ علی ترمذیؒ کے دادا بزرگوار ا سید حامدؒ اہلِ باطن میں سے ہیں۔ان کا تعلق رجال الغیب سے تھا۔لیکن آپ کے والدِ ماجد سید یوسف نورؒ نے متصوفانہ برکات کے ساتھ ساتھ عسکری خدمات بھی سر انجام دیں۔وہ ہمایوں کےدور میں شمالی مغربی اقالیم کے منصب دار (کو ر کمانڈر) تھے۔ایک مرتبہ  ایک باغی سردار کے خلاف تادیبی کارروائی کے دوران جب  سنسناتے ہوئے  نیزوں اور تیروں کےسائے میں آپؒ ے میدانِ کار زار میں گھوڑے سے اتر کر نماز ِ عصر کی نیت کی اور نہایت وقار اور حضوری سے نماز میں مشغول ہو گئے تو مقابل سردار عبدالحکیم نے یہ کہہ کر جنگ روک لی

“اس شخص سے لڑنا تقدیر سے لڑنے کے مترادف ہے”

اور باجگزاری اختیار کی۔

حضرت سید علی ترمذیؒ نے اپنے اسلاف کا طرز اختیار کیا ۔فوج و حکومت سے الگ رہے۔انہوں نے سپاہ کی تیغ بازی کے بجائے نگاہ کی تیغ بازی کا شَغَل اپنایا۔وہ خلافت کی جگہ امامت کے منصب پر شاد کام ہوئے۔اس سلسلے میں انہوں نے پانی پت اور اجمیر کی طرف اسفار فرمائے۔شیخ سید والاتبار حضرت سید سالار چشتیؒ نے آپ کو طریقہء چشتیہ میں خرقہ سے نوازا اور آپ کے سرِ مبارک پر دستار ِ فضیلت  سجا کر کوھستانی اور سرحدی علاقوں میں اپنا نائب الطریقت بنا کر بھیجا۔آپ کے افغانی معتقدین نے لاکھ جتن کیے کہ آپ افغانستان کو اپنی تبلیغی مساعی کا مرکز بنائیں لیکن آپ نے اس حوالے سے کوھستان، ھزارہ اور سرحد  کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز رکھا۔

ان علاقوں میں اس وقت کیا صورتِ حال تھی۔حضرت پیربابا کے ایک شاگرد اور مرید ددویزہ اخوند صاحب کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:۔

“ان اماکن کے لوگ انتہائی سادہ دِل ، طالبِ حق اور متلاشیء دین تھے۔جوان بوڑھوں سے زیادہ حصولِ حق کے لیے بے چین اور خواتین مردوں سے زیادہ علم ِدین کی متمنی تھیں۔بچے اور گھروں کے ملازم  تک دین کی جستجو میں منہمک پائے گئے۔گویا ان لوگوں میں قبولِ حق کی بھرپور صلاحیت موجود تھی لیکن افسوس کہ انتظام و اہتمام موجود نہ ہونے کی وجہ سے جعلی لوگوں نے مشائخ ِ تصوف کا روپ دھار کر یہاں کے عوام کے اخلاص ، دین پسندی اور سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر بدعات اور خرافات کے راستے پر ڈال دیا۔اس سے ان جعل سازوں کا مقصد تو پورا ہو گیا یعنی  انہوں نے شکرانے بٹورے، مال بنایا لیکن معاشرتی اور مذہبی لحاظ سے اس مردم خیز خطے کو سخت نقصان پہنچ رہا تھا”

(ایک فارسی ملفوظ سے مقتبس ترجمہ)

ایسے میں رحمتِ حق کو جوش آیا اور پورِ علی سید علی ترمذیؒ نے اس سرزمین سے خار صاف کرنے اور گلزار بنانے کا عزم ِ صمیم کیا۔رحمتِ حق نے ایسی دست گیری کی اور تائید ایزدی نے ایسی نصرت کی کہ اِدھر سے اُدھر پھر گیا رُخ ہوا کا۔آپؒ کو یہاں وہی قبولِ عام حاصل ہوا جو عراق میں شیخ عبدالقادر جعلانیؒ اور حضرت سہرودی اور بلادِ ھندِ اوسط میں  حضرت اجمیرؒ کو حاصل ہوا تھا۔آپ جہاں کہیں کسی جاہل، شعبدہ باز پیر کے متعلق اطلاع پاتے اس کے سَر پہنچتے۔اس کے مریدوں او رحاشیہ برداروں کے سامنے  اس سے مناظرہ کرتے اور اس کے چاروں شانے چِت کرتے۔عوام  تو عوام ، کئی راہ گم کردہ پیر بھی آپ کی ارادت اختیار کرتے چلے گئے۔”ہم سفر ملتے رہے ، کارواں بنتا گیا ” والا سماں پیدا ہوا۔

آپؒ نے عظیم الشان اجداد کی مانند علوی طبیعت اور حسینی عزم پایاتھا۔نہایت بے باک تھے۔مداھنت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔آپ حق بات میں مصلحت بالکل اختیار نہیں کرتے تھے۔اس حوالے  سے نہ تو زورِ دست کا جبر آڑے آ سکتا تھا اور نہ زیرِدست کی مسکینی”دل بحق بند وراہِ مصطفیٰؐ رَو” آپ کا مقصد تھا۔جان جائے تو جائے ، دامانِ حبیبؐ ہاتھ سے نہ جائے آپ کا اسلوب تھا۔

اس علاقے میں اس وقت جناب پیر با یزید انصاری المعروف پیر روبنان(پیر روشن) کا طوطی بولتا تھا۔پیر باباؒ  نے ان کے معاشرتی سطوت کے باوجود ان پر گرفت فرمائی۔ان سے آپ کے زور دار علمی معرکے ہوئے اور اُن تمام معرکوں میں ترمذ کا سید فاتح رہا۔پیرِ روبنان بھی آپ ؒ کی قدر کرتا تھا اور کہتا تھا:-

“سید علی ترمذی خَلقی وجود نہیں ،معنوی جوھر ہے”

آپ کی مساعی نے بڑی برکت پائی۔آپ نے کوھستان، ھزارہ، صوبہءِ سرحد اور افغانستان میں تجدید و احیائے دین  کا فریضہ نہایت عرق ریزی، دقیقہ سنجی اور جانفشانی سے سر انجام دیا۔خلقِ کثیر آپؒ سے فیض یاب ہوئی اور تو اور اخوند درویزہ صاحب کے فرزند شیخ عبدالکریمؒ آپ کے  مرید ہوئے بلکہ مریدِ خاص ہوئے ۔انہوں نے آپ کی سوانح عمری بھی لکھی ہے۔

ایک جہان کو سیراب کرنے کے بعد علم و حکمت کا یہ گوھرِ  آبدار، حدیقہءِ فاطمیؑ کا یہ گُلِ تابدار، کارزارِ مرتضویؑ کا یہ سیرِ بے خوف کنار، چمنستانِ تصوف کا لالہ زار اور کربلا کے بچھڑے ہوئے رونق کا سرمچار حضرت سید علی ترمذی المعروف”پیر بابا” 991ھ بمطابق 1583ء عالمِ بالا کے سفر پر روانہ ہوئے۔مزارِ مبارک بونیر اور سوات کی سرحد پر ایک پر فضا اور پر شکوہ مقام میں مرجعءِ خلائق ہے۔

حق رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را

حوالہ جات:-

محزنِ اسلام، تزکرہءِ مشائخ ِ سرحد، تزکرۃ الابرار، سیّر  الاولیاء، سیّر العارفین، خزینۃ الاولیاء، سفینۃ الاولیاء،  تحفۃ الکرام، انفاس العارفین، حدیقۃ العارفین

روح فورم اسلاف کی روش اپناتے ہوئے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کو رکنیت کی دعوت دیتا ہے  نیک مقاصد کے حصول کے لیے معاونت کی پیشکش کرتا ہے

تحقیق و تحریر

زید گل خٹک

ایڈوائزر روح فورم

1

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005

:ruhforum@gmail.com