اُمید۔ایک پیغام

مرگِ را ساماں زِ قطع آرزو ست

زندگانی محکم از لا تقنطو ا ست

(حکیم الامتؒ)

مثل مشہور ہے کہ “دنیا امید پر قائم ہے” ایک اسرائیلی روایت ہے

“جب اللہ تعالیٰ نے موت کی تخلیق فرمائی تب کارکنانِ قضا و قدر نے عجز و نیاز کے ساتھ عرض کیا۔اے ربِ جلیل بصورتِ موت تو ان کی زندگی سے رونق اور خوشی معدوم ہو جائے گی۔اللہ نے فرمایا”میں امید پیدا کر دوں گا”

قرآنِ مجید نے ظن کو امید اور ایمان کے معانی میں ایجابی طور پر استعمال کیا ہے اور  اِ س لفظ کو گمان کے ترادف میں سلبی طور پر برتا گیا ہے۔حدیثِ قدسی میں ظن کا لفظ امید کے بھر پور معانی میں بولا گیا ہے۔

“انا مع عبدی عندَ  ظنہ بی”

میں اپنے بندے کے ساتھ   اُس امید کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں جو امید وہ میرے ساتھ وابستہ رکھتا ہے۔اسی تناظر میں حکیم الامت ؒ نے فرمایا ہے

امید ِ مرد ِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں

رب جلیل نے اپنے حبیب ؐ کی زبانِ حق ترجمان پر اپنے بندودں سے مکالمہ فرمایا ہے۔

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ (الزمر)

مفہوم” اے حبیبؐ! میرے ان بندوں سے فرما دیجیے جو اپنے انفس کے تحت (تزکیہ کے بجائے) تسدیہ کی طرف تجاوز کر چکے ہیں۔یعنی  اپنے نفسی استعداد کو بیجا استعمال کر کے رحمتِ حق سے محرومی کے راستہ پر چل پڑے ہیں اور اب انابت الی اللہ و رجوع الی اللہ کی طرف التفات کرنا چاہتے ہیں ۔وہ ہر گز اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوں۔اللہ اُن کے تسدیاتی اعمال اور اُن تسدیاتی اعمال کے برے  اور مضر اثرات تلف فرما دے گا۔

قنوطیت ایک انفرادی اور اجتماعی کمزوری اور شکست خوردہ ذہنیت ہے۔اسلام اس کیفیت کو ہرگز روا نہیں رکھتا ،چونکہ اس سے یاسیت اور ناامیدی کی ایک ایسی  فضا رونما ہوتی ہے جو جمودِ فکر و عمل کا باعث بنت ہے اور انسان کی خوشگوار حرکیت رُک جاتی ہے۔اسوہءِ حسنہ کا اعلان یہ ہے کہ رحمت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔کوئی بھی فرد یا قوم اور انسانی اجتماع جب انابت، رجوع اور سعادت و فلاح کی طرف رخ کرے گا تو درِ رحمت کو وا پائے گا۔

حکیم الامت ؒ کی شاعری آیات اللہ اور آثارِ نبوی سے معمور و مملو ہے۔اس میں اقتضاءِ کتاب و سنۃمرموز ہے۔

گرچہ من صدنکتہ گفتم بے حجاب

نکتہ دارم کہ نا آید در کتاب

چنانچہ انہوں نے دگر گوں حالات میں بھی امید کا چراغ جلایا ہے اور گریہ و حسرت کے بجائے استقامت و عزیمت  کا درس دیا ہے۔

ہم کہہ سکتے ہیں اور ایسا کہنے میں حق بجانب ہیں کہ حکیم الامت ؒ کے ابیات میں آیاتِ مرموز ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ امام الناس سیدنا ابراہیم ؑ کی زبان پر تجلیء کلام فرماتا ہے

“ولا تایسوا من روحِ اللہ”( اللہ کی روح سے ہرگز مایوس نہ ہوں)

اللہ کی روح سے مراد مزاجِ نبوی ہے جو دستورِ اسوہءِ حسنہ کی حرکی قوت ہے۔حبیبِ پاکؐ نے اُس موقع پر بھی امید دلائی جب حضرت خباب ابن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیمانہءِ صبر و برداشت لبریز ہو گیا  اور حبیبِ پاکؐ کے پاس آ کر ستارِ کعبہ کے جدار پر شکوہ کیا تب رازِ کن فکاں اور محرم ِ غایات سریۃ ﷺ نے قرآنِ مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی

 أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ (البقرہ)

مفہوم” اُس وقت کا تصور کرو اور  اُن اہلِ ایمان کا تصور کرو جو تم سے پہلے ہو گزرے ، ان کو شدید ترین جسمانی و مالی تکالیف پہنچیں اور ہلاِ مارے گئے یہاں تک کہ وقت کے  رسولؑ اور اُن جنابؑ کے اصحاب (رض) جوشِ الفت میں بول اٹھے

“کہاں ہے اللہ کی نصرت، اللہ نے القا فرمایا

“اب اللہ کی مدد قریب ہے”

روح فورم اسوہءِ حسنہ اور فکرِ اقبالؒ کی روشنی میں امید و جستجو کی شمعیں روشن کرنے کا خواہشمند ہے تا کہ مل جل کر فلاحی، تعلیمی، معاشی اور اقتصادی صورتِ حال میں بہتری پیدا  کی جا سکے۔فورم نے اپنے قافلے کو بڑھانے کے لیے رکنیت کا  آغاز کیا ہے۔تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات اِس قافلے  میں شامل ہو سکتے ہیں۔

1

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005

:ruhforum@gmail.com