یومِ مادراں اور توجہ طلب باتیں

دستِ ھر نا اہل ترا بیمارت کند

سوئے مادر آ کہ  تیمارت کند

(حضرت رومؒ)

ترجمہ:- ہر ایک نا اہل کا ہاتھ تجھے بیمار کر دے گا۔ماں کی طر ف آ جاؤ تا کہ تمہاری عیادت اور دلبستگی کا سامان ہو جائے

اس دور میں مختلف حوالوں سے ایام منانے کا بہت رواج پڑ چکا ہے۔اس کے پیچھے اچھے اور ترغیبی جذبے یقیناََ کارفرما ہو گے لیکن انتفاعی عنصر کو بھی خارج از بحث قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ایک اور قابلِ وضاحت چیز وہ تناظر ہے جس کے ساتھ ان ایام کو جوڑا جاتا ہے۔مثلا یومِ مادر کا خمیر یونان سے اٹھایا جاتا ہے ۔اس میں تو کچھ شک نہیں کہ فکریات اور فلسفیات میں یونان کا بہت بڑا حصہ ہے۔یونان کی مٹی سے سقراط ایسے وجدانی فلاسفہ اٹھے ہیں جو دانشِ وجدانی کے بَل بوتے پر حقائق ِ ابدی تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔لیکن بحر صورت کوئی بھی چیز الہامی برکات سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔اگر فطری اور جبلی صلاحیتوں اور منطقیات ہی کی وجہ سے ہدایت میسر آ سکتی تو اللہ تعالیٰ بعثت ِ انبیاء علیھم السلام اور نزولِ کتب کا سلسلہ نہ چلاتا۔قاعدہ وہ ہے جو خالقِ کائنات نے الکتاب میں ارشاد فرما دیا ہے

پس اب خاص میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے گی جس کسی نے اس ہدایت کی پیروی کی اس پر نہ تو خوف ہو گا اور نہ ہی وہ غمگین ہو کا۔(البقرہ)

یومِ مادراں کا تعمیری پسِ منظر اسوہءِ حسنہ سے بھر پور طریقے سے اٹھا یا جا سکتا ہے اور وہ صرف تصنع(بناوٹی) نہیں ہو گا بلکہ بچوں کے اخلاق اور کردار کا حصہ بنے گا ۔چونکہ مقصود دِن منانا نہیں۔مقصود ان اقدار کو زندہ کرنا ہے جن کی احیاء کی صورت میں والدین کا مقام اجاگر ہو جائے اور اولاد ان کی خدمت سے روشناس ہو جائے اور  وہ عظیم عمرانی ماحول برپا ہو جائے جو انسانیت کی فلاح کا ضامن ہے۔بقول حکیم الامت علامہ اقبالؒ

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں بچوں کو والدین کے ساتھ احسان آمیز سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔

“وبالوالدینِ احسانا”۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے ہر آن  والدین کے ساتھ، مصاحبت(Companionship) کا حکم دیا ہے

وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا (القمان)

ان کا دنیا میں اچھی طرح ساتھ دینا

یہ ادبِ والدین نہیں کہ سال میں ایک دن ان کے ہاسٹل میں حاضری دے  دو اور ایک گلدستہ پیش کر دو اور کیک کھلا دو۔ان کے ساتھ جڑے رہنے، ان کی خدمت کرنے، ان کا کہا ماننے اور ان کے ساتھ مستقل حسنِ سلوک کرنے کا نام والدین کا ادب ہے۔کتاب اللہ میں اللہ نے والدین کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ کیا ہے۔

“اَنِ اشکرلی وَالِوَالِدَیک”

ترجمہ: میرا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کے شکر گزار رہو

ماں کے مقام ، اس کی خدمات اور اس کی محبت کو اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کر بیان فرمایا ہے۔

رسول اللہ نے ماں کی خدمت کو حصولِ جنت کا ذریعہءِ اعظم قرار دیا ہے۔آپؐ اہتمام کے ساتھ اپنی والدہءِمکرمہ حضرت آمنہ  سلام اللہ علیہا کے مرقدِ پاک پر حاضری دیتے تھے۔اس عمل سے اس یاد اور اس شیفتگی کا اندازہ ہوتا ہے جو رسول اللہ ؐ کے قلبِ اطہر میں اپنی والدہءِ کریمہ کےلیے تھی۔

آپؐ اپنی رضائی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بے مثال محبت سے پیش آتے تھے۔اپنی کفالت  کرنے والی چچی حضرت فاطمہ بنت اسد رضی الل تعالیٰ عنہا کو ماں کہہ کر پکارتے تھے۔ان کی خاطر داری آپؐ کے معمولات کا اہم حصہ رہی۔جب حضرت فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہا فوت ہو گئیں تو آپؐ نے ان کو اپنا کُرتا پہنایا ۔ان کی تدفین و تکفین کا اہتمام فرمایا۔نہایت اشکبار ہوئے اور فرمایا:-

“بے شک آپ میری ماں ہو۔اللہ آپ کے احسان کا صلہ دے گا”

ایک موقع پر محبوبِ کبریاؐ نے ایک صحابی  (رض) سے فرمایا:-

“آپ خود اور آپ کا مال آپ کے والدین کا ہے”

رسو ل اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بطورِ خاص اپنی ماؤں کی خدمت کرنے کی تلقین فرمائی تھی۔

ہجرتِ مدینہ کے بعد ایک دن حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا !

یارسول اللہ ﷺ !میری والدہ مکہ شریف  سے میرے پاس آئی ہے لیکن ابھی تک ان کو اسلام کی طرف رغبت نہیں۔اب میں کیا طرزِ عمل اختیار کروں۔حضورﷺ نے فرمایا:-

“صرف ان کی خلافِ اسلام بات نہ مانو۔باقی ان کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرو”

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضورؐ کے انتہائی محب اور سوختہءِ جانِ وفا بلکہ کشتہءِ ناز ہیں۔حضورؐ بھی ان کا ذکر محبت سے فرماتے تھے۔ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:-

“یا رسول اللہ ﷺ!   وہ آپؐ کو ملنے کیوں نہیں آتے “

آپؐ نے فرمایا:-

میری شریعت نے ان کو روک رکھا ہے ۔انہوں نے اس جملہ کی وضاحت کی درخواست کی تو آپؐ نے فرمایا:-

“ماں کی خدمت”

گویا ماں کی خدمت کو حبیبِ پاکؐ نے کُل شریعت سے تعبیر فرمایا۔

یہ تھیں اسوہءِ حسنہ سے چند جھلکیاں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماں کا مقام کیا ہے۔ان کی خدمت کے تقاضے کیا ہیں۔یومِ مادراں مناتے ہوئے ہمیں ان رشحاتِ عالیہ (Enlightens) کو مدِ نظر رکھنا چاہیے ۔بقول خواجہ مجذوبؒ

قدم  قدم پہ برکتیں، نفس نفس پہ رحمتیں

جہاں جہاں سے وہ شفیع ِ عاصیاں گزر گیا

جہاں نظر نہیں پڑی وہاں ہے رات آج تک

وہیں وہیں سحر ہوئی جہاں جہاں گزر گیا

صرف میکانکی انداز سے چیزوں کو دیکھنا اور ان کا تجزیہ کر کے نتائج مرتب کرنا چنداں مفید نہیں۔جب تک انسان کی روح بالیدہ اور مسرور نہ وہ صرف جسمانی آسائشیں اس کو فوز و فلاح سے ہمکنار نہیں کر سکتیں۔بلاشبہ مادی ترقی ایک اہم عنصر ہے۔یہ ایک نہایت عمدہ جزوی عمل ہے لیکن اس کو روحِ انسانیت کے تابع ہونا چاہیے۔بصورتِ دیگر

تمہاری تہذیب اپنے خنجر  سے آپ خود کُشی کر ے گی

جو شاخِ نازک پر آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہو گا

اور

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

لائقِ صد احترام قارئین

موجودہ دور کے معاشرتی ، سماجی اور تعلیمی نظام کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ  اچھی تعلیم کے ساتھ اخلاقی اقدار کی بہتری کے لیے زیادہ توانائی خرچ نہیں کی جا رہی۔Mother Day اور اس طرح کے دیگر مواقع کو یورپین سٹائل میں منانے کے بجائے ان کی اصل روح کو پیش ِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔جزوی فوائد  اور اظہارات کے بجائے سیرت سازی اور کردار کی پختگی ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے۔ہمارے بچوں کا مستقبل اس وقت روحانی اور خُلقی اعتبار سے تنزل کی طرف جا  رہا ہے۔والدین کا مقام بھی اس رو میں بہتا  جا رہا ہے۔گھریلو نظام بھی شکست و ریخت کا شکار ہو رہا ہے۔گھر جو والدین اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔معاشرے کی ابتدائی اکائی (Basic Unit) ہے۔گھر کے غیر اخلاقی رویے ، معاشرے کے منفی رجحانات کا سبب بنتے ہیں۔

ان تمام برے انجاموں سے بچنے کے لیے آج پیش بندی کرنے اور بچوں کو اخلاقی اور روحانی طور پر فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔باہمی اشتراک کے تحت تمام متَمَّول اور کاروباری خواتین و حضرات  کے درمیان باہمی جڑت(Integration)  کی از حد ضرورت ہے تا کہ ایسے اداروں کا قیام شہر، قصبہ، دیہات الغرض  ہر سطح پر عمل میں لایا جائے جہاں سے انتفاع کا وہ اسلامی پہلو بھی نکلے  جس کی اساس امانت و دیانت و صداقت پر ہے اور بچوں  کو روحانی اقدار، معاشرتی سیرت اندوزی کے علاوہ کسب و ہنر سکھائے جائیں تا کہ وہ معاشرے کے فعال اور کارآمد رکن بن سکیں اور والدین کو صرف گلدستے پیش کرنے کے بجائے ان کی خدمت کے قابل ہو سکیں۔

1

تحریر

زید گل خٹک

ایڈوائزر روح فورم

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005

:ruhforum@gmail.com