حضرت طیفور بن عیسیٰ با یزید بسطامیؒ کا ایک واقعہ

حضرت حج سے واپس آ رہے تھے۔غمزدہ تھے، جو مراد دل میں رکھ کر گئے تھے وہ پوری نہیں ہوئی۔راستے میں ایک خاتون ملی۔وہ تنہا تشریف فرما تھیں۔بایزیدؒ نے سلام کیا اور کہا ، خاتون سر پر دوپٹہ رکھ لو۔انہوں نے کہا!

نوجوان! کور ذوق لگتے ہو۔سَر نظر آ گیا، سِرّ نظر نہیں آیا۔بایزیدؒ فرماتے ہیں یہ سن کر میں دم بخود ہو گیا۔میں نے نہایت ادب سے نام پوچھا۔انہوں نے فرمایا۔میرا کوئی نام نہیں  بس وہی نام ہے جس سے میرا محبوب مجھے پکار رہا ہے۔پھر فرمایا۔اے نوجوان! ذادِ راہ میں جو  بچ گیا ہے  وہ صدقہ کر لو، مراد پوری ہو جائے گی۔حضرتؒ فرماتے ہیں۔میرے پاس چاندی کے دو دینار بچ گئے ہیں۔وہ میں نے اُن کو دے دیے۔انھوں نے مٹھی میں دبا کر مجھے واپس کیے اور فرمایا:-

اپنے قریہ کے لوگوں پر خرچ کردو۔با یزیدؒ فرماتے ہیں میں نے عین اس وقت اپنے قلب میں ایک خاص حلاوت پائی میری مراد پوری ہو گئی۔تب میں نے کہا۔اے عظیم خاتون! میں تو کعبتہ اللہ گیا تھا۔حجرِ مبارک اور اسعد کو چوما، رکنِ یمانی کو مَس کیا، بابِ رحمۃ پر پیشانی رکھی، ملتزم سے لپٹا رہا، ستارِ کعبہ سے بغل گیر ہوا۔کسویٰءِ کعبہ سے رخسار مَلے، میزابِ رحمت تلے نماز پڑھی، مقامِ ابراہیمؑ کو بوسہ گاہ بنایا۔وہاں مراد پوری نہیں ہوئی یہاں کیسے ہو گئی؟

انہوں نے فرمایا:-

کعبتہ اللہ انوار کا گھر ہے، میرا  دل اسرار کا گھر ہے، میں صاحبِ استطاعت نہیں اس لیے جب سے کعبہ بنا ہے میں وہاں نہیں گئی لیکن جب سے میرادل بنا ہے اس میں ربِ کعبہ کے سوا کوئی نہیں آیا۔

با یزید ؒ فرماتے ہیں:-

وہ اللہ کی دیوانی ایک نعرہءِ مستانہ لگا کر یہ گئی وہ گئی، لیکن ان چند لمحوں نے میرے قلب میں ایسا نور پیدا کیا کہ اشیاء کی حقیقت منکشف ہو گئی، پھر کبھی مِل جانے پر اترایا نہیں اور کھو جانے پر افسردہ نہیں ہوا۔

بقول حکیم الامت علامہ اقبالؒ

صحبتِ روشن دِلاں یَک دم دو دَم

آں دو دَم سرمایہءِ بود و عدم

۔

جلا سکتی ہے شمعِ کُشتہ کو موجِ نفس ان کی

الہیٰ! کیا چھپا ہوتا ہے اہلِ دل کے سینوں میں

ترستی ہے نگاہِ نا رسا جس کے نظارے  میں

وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں

۔

ماحصل

  • ہمیں نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا چاہیے۔
  • جب ہمیں مسائل کا سامنا ہو تو پریشانی کے بجائےاللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے حل تلاش کرنا چاہیے
  • کوشش کرنی چاہیے کہ صدقہ کی رقم اپنے اقرباء پر خرچ کریں
  • دل کو کعبتہ اللہ یعنی اللہ کا گھر بنانے کے لیے اُس کی یاد  ذکر و اذکار جا ری رکھنے چاہییں اور ہر دنیاوی کام میں اللہ کی خوشنودی ملحوظِ خاطر رکھنی چاہیے۔
  • ہمیں اچھی بات جہاں سے ملے ذہن نشین کرنی چاہیے اور دوسروں تک پہنچانی چاہیے۔

1

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد

فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005

:ruhforum@gmail.com