اسلام فطرتِ انسانی کے اندر ودیعت ہے۔ اس منشاءِ ربانی اور ہدایتِ یزدانی کو انسانی طبیعت میں گوند دیا گیا ہے۔ ربِ جلیل کا ارشاد ہے:
فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا
الروم: 30
اسلام وہ فطرت ہے جو انسان کے نفس اور اُس کی طبیعت میں مدغم ہے۔
قرآنِ کریم میں ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (7) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا
الشمس: 7، 8
ہم نے نفس انسانی کو فطرتِ اسلام پر استوار کیا ۔اس کو الہام کردیا کہ یہ برائی ہے جِس سے بچنا ہے اور یہ تقوی ہے جس کو اختیار کرنا ہے۔
اسلام کوئی خارجی چیز نہیں ہے، اگر طبیعت میں تزکیہ، نفاست، اور بالیدگی موجود ہے تو افکارِ عالیہ جن کی دعوت اسلام دے رہا ہے، طبیعت کے اندر سے از خود پھوٹتے ہیں۔
سورہ یٰس میں ایک مردِ صالح کا ایمان افروز اور جاں گداز واقعہ بیان ہوا ہے۔ “ایک قریہ کی طرف اللہ تبارک وتعالی کے سفیرانِ حق تشریف لے گئے۔ انہوں نے اہلِ قریہ کی اصلاح کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ حق نا شناس مائل بہ اصلاح نہ ہوئے۔ تب اسی قریہ سے تعلق رکھنے والا مردِ صالح جو رہبانیت اختیار کر چکا تھا، سفیرانِ حق کی نصرت کے لئے آیا اور اپنے لوگوں کو ترغیبِ ہدایت دینے لگا۔ دورانِ گفتگو وہ مردِ حق گویاں ہوا:
وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
يٰس: 22
آخر مجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں اپنے اُس کریم ربّ کی عبادت نہ کرو جِس نے مجھے فطرتِ اسلام پر تخلیق کیا ہے۔
رسلِ عظام وانبیاء کرام علیہم السلام اور کتبِ سماویہ کی غایت بھی فطرت کی نیکی کو اجاگر کرنا ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا
المزمل: 19
یہ قرآن ایک یاد دہانی (Reminder) ہے پس جو کوئی چاہے اپنی فطرت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے ربّ کریم کی طرف راستہ بنالے۔
انسان کا بگاڑ وہاں سے شروع ہوتا ہے جب یہ فطرت سے بغاوت اور انحراف کرتا ہے۔ اپنے نفس کی استعداد سے روگردانی کرتا ہے، تب اللہ خالقِ کائنات منّانِ حقیقی اِس سے ناراض ہوجاتا ہے اور وہ استعداد اور صالح فطرت اس سے بطورِ سزا وعتاب چھین لی جاتی ہے۔ اَب انسان کا نفس سرکشی، رجس اور طغیان وحرص وشہوت میں مبتلا ہوکر اپنا اور اپنے دوسرے ہم نفسوں کا نقصان کرتا ہے:
فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ
الصف: 5
جب وہ اللہ کی فطرت سے برگشتہ ہوگئے تو اللہ نے بھی (بطور سزا) ان کے دلِ پھیردیئے۔
نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ
الحشر: 19
جب انہوں نے اللہ کو فراموش کردیا تو اللہ نے ان کے نفوس سے ہدایت کی استعداد ختم کردی۔
بقول حکیم الامة:
تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیت ہے
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

روح فورم، تھرڈ فلور، روف ٹاور، ڈی ایچ اے ٹو، سیکٹر اے، جی ٹی روڈ، اسلام آباد
فون نمبر: 051-5162023، موبائیل 0335-7771005
ای میل:ruhforum@gmail.com